Jul 01

میں نے آج سے ٹھیک چوبیس سال پہلے یعنی 1
st جولائی 1984ء بروز جمعرات عید کے دن اس دنیا میں تشریف لاکر اپنے گھر والوں کو ڈبل خوشی اور دنیا والوں کو اپنی خدمت کرنے کا موقع فراہم کیا تھا۔یہی نہیں بلکہ پاکستان کی نئی نسل میں ایک فرد کا اضافہ بھی۔ میرے گھر والوں کا خیال تھا میں پڑھ لکھ کر اپنے ماں باپ اور پاکستان کا نام روشن کروں گا۔
لیکن بوجہ اچھی تعلیم حاصل نہ کرسکا۔ جس پر مجھے خیال گزرا مقصد نام روشن کرنا ہی ہے تو کیوں نہ ایک بورڈ پر سب کے نام لکھ کر 1000 واٹ کے بلب آن کردوں گا۔ جس کے لئے کوئی خاص محنت بھی نہیں‌کرنی پڑے گی۔ پتا نہیں kesc والوں کو میرے اس منصوبے کا علم کیسے ہوگیا اور انھوں نے مجھے ناکام کرنے کے لیے لوڈ شیڈنگ شروع کردی۔
اب تک زندگی بے مقصد بغیر کسی منزل کے تعین کے گزار رہا تھا۔ لیکن kesc کے اس اقدام نے مجھے کسی منزل کا تعین کرنے پر مجبور کردیا۔ جس کی وجہ سے میں نے اپنے لیے ایک مشن اسٹیٹمنٹ لکھا ہے۔ سب سے بڑھ کر میں نے چھ سال اپنا تعلیمی سفر دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے یقیناً سخت محنت کرنی پرے گی۔ مشن اسٹیٹمینٹ کچھ اس طرح ہے:

سب سے پہلے اور سب سے زیادہ میں ہمیشہ اپنے خدا پر یقین رکھوں گا۔
میں ہمیشہ اپنا مثبت ذاتی تشخص اور بلند اعتماد برقرار رکھوں گا۔
اپنے لیے ایسے مقاصد طے کروں گا جو قابل حصول اور مذہب سے متصادم نہ ہوں۔
ان مقاصد کو کبھی نظروں سے اوجھل نہیں‌ ہونے دوں گا۔
میں تمام چیلنجوں کا سامنا رجائیت کے ساتھ کروں گا نہ کہ شک کے ساتھ۔
ہر ایک کی عزت ، احترام اور اکرام کروں‌گا۔
میں اپنے خاندان کے شیرازے کی قوت کو کم تر نہیں‌کروں‌ گا۔
میں اپنے مخلص دوستوں‌کو کبھی نظر انداز نہیں‌کروں گا۔اپنے آپ پر اور جو لوگ میرے ارد گرد ہیں ، ان سب پر اعتماد کروں‌گا۔
اپنے افعال کے ذریعے گفتگو کروں گا نہ کہ الفاظ کے ذریعے۔
دوسروں کے (اپنے سے) اختلاف کی قدر کروں گا، اور ان اختلافات کو اپنے لیے مفید گردانوں گا۔
ان لوگوں کی مدد کے لیے وقت نکالوں گا جو مادی لحاظ سے مجھ سے کم تر ہیں‌ یا جن کا دن مجھ سے خراب تر ہے۔

اللہ سے دعا ہے وہ مجھے اس آئین پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آئندہ سال زندگی نے ایک اور سالگرہ منانے کا موقع دیا تو انشاءاللہ اپنی سال بھر کی پروگریسیو رپورٹ بھی لکھوں گا۔

Jun 15

خواجہ حسن نظامی

اپنی آپ بیتی میں خواجہ صاحب لکھتے ہیں: “ میرا نام علی حسن عرف حسن نظامی ، والد نام سید عاشق علی، پیدائش کا مقام بستی درگاہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا پرانی دہلی ہے اور وہیں آج کل اقامت ہے۔ معاش کتابوں اور دواؤں کی تجارت پر ہے تعلیم عربی ، فاسی اور اردو۔
تیرھویں صدی کے خاتمے کے قریب 1369ھ میں 2محرم کو جمعرات کے دن صبح صادق کے وقت حسن نظامی پیدا ہوئے۔ خاجہ صاحب اردو کے باکمال وبے مثال ادیب تھے ۔ جنھوں نے اپنی تحریروں سے نثر کو امر کردیا۔ ان کی ساری عمر ارضی مسائل کو سلجھانے میں ہی گزری۔ ان کو سماج کے دھتکارے ہوئے اور پچھڑ جانے والے لوگوں سے خصوصی لگاؤ تھا۔ انھوں نے اس قسم کے مرقعے اپنے افسانوں میں پیش کئے ہیں۔
تصور کیجیے کہ ایک امیر زادی جس کو زندگی کی گردش نے بھکارن بنادیا تھا یہ صدا لگاتی ہے کہ:

“ دولت والو ٹکڑا دو، عزت والو ٹکڑا دو، اپنے بچوں کا صدقہ ٹکڑا دو، اپنے لالوں کا صدقہ ٹکڑا دو، تمھاری چوڑی کی خیر، تمھاری مہندی کی خیر، ایک نوالہ دو۔لو میرا خالی پیالہ، لوگو! تمھارے محلے میں ٹھوکریں کھانے والی بھکارن آئی ہے، ساتھ میں اس کی جائی ہے، ہم دونوں میں بھوک کی مار آئی ہے، دہائی ہے، ایک نوالہ مجھ کو دو۔ سونے والو جاگو، ایک دن میں بھی سوتی تھی، پیا کا ہیرا موتی تھی، دنیا نے تاراج کیا؛ اس کو جس نے راج کیا۔ اب گدڑی میرا جوڑا ہے اور پاؤں کا چھالا گھوڑا ہے، جشن کی راتیں ، موج کے دن سب پانی ہیں، کنڈی کھولو، ٹکڑا دو، ہاتھ بڑھاؤ ٹکڑا دو۔روکھا ہو یا باسی ہو سب ہے نعمت ، بھوک سے بری ہے میری نوبت ، یہ ننھی بچی روتی ہے ، یہ محل کی ملکہ گود میں تھی، اب گدا کی دختر پیدل ہے۔ یہ باپ کی پیاری ، دکھ کی ماری، تیرے دوار آئی بھکاری، ٹکڑا دو، یہ آنی جانی ہے، ذرہ ذرہ فانی ہے، غفلت میں مدہوش نہ ہو، عبرت سے باہوش رہو، صدقہ ایک ٹکڑا دو۔“

Jun 10

پاک گروپ

کچھ دن پہلے میں نے ایک تجویز پیش کی تھی کہ ہم ڈاکڑ عبدالقدیر خان کے ساتھ اپنی عقیدت اور ہمدردی کا اظہار کس طرح کرسکتے ہیں۔ وہ تجویز یہاں دوبارہ دوہراتا ہوں، تاکہ قاری کو بار بار وہاں جانا نہ پڑے۔

“ ہم قریباً چالیس پچاس بلاگر ایک دوسرے کو تھوڑا بہت جانتے ہیں ۔ اگر یہ چالیس، پچاس افراد مل کر ایک گروپ بنالیں اور اس گروپ کا روزانہ ایک رکن ایک کارڈ کی بنیاد پر ڈاکڑ صاحب کو تہنتی (بیسٹ وش) کارڈ پوسٹ کرے۔ اگر ارکان کی تعداد بڑھ جائے تو روزانہ ایک کارڈ کی بجائے وہ یا تین رکن ہوجائیں گے۔ ہر مہنے کی یکم تاریخ کو تمام ارکان ایک کارڈ اور پھر روزانہ ایک ، دو یا تین افراد ایک ایک کارڈ‌ پوسٹ کریں گے۔ اس طرح ڈاکڑ صاحب کو پہلی تاریخ کو لاتعداد بیسٹ وش کے کارڈ اور روزانہ ۔ ۔ ۔ ۔کارڈ موصول ہونگے۔ اس طرح ہم اپنے ہیرو کے ساتھ اپنی عقیدت کا اظہار بھی کرسکیں گے اور اس کے بہت سے فوائد بھی ہیں۔اس طریقے سے کسی رکن پر زیادہ مالی بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔“

تو جناب یہ تھی میری تجویز جس کو کچھ بلاگر نے پسند کیا لیکن کوئی ایسی صورت نہ بن سکی کہ گروپ بنایا جائے ۔ اس لیے میں نے لکھ دیا جس کو یہ تجویز پسند آئے وہ اپنے طور پر عمل کرتا رہے ۔ انشاءاللہ جلد ہی گروپ بنادیا جائے گا، اس کے بعد میں بھی گروپ کو بھول گیا۔ لیکن کل خاور کھوکھر کی اس تحریر نے ایک نیا جذبہ دیا جنھوں نے مختصر عرصے میں اتنا زیادہ کام کیا کہ ان کی تحریر پڑھ کر بہت خوشی ہوئی اس نئے جذبے کے تحت میں نے اپنے بلاگ پر ایک الگ صفحہ پاک گروپ کے نام سے بنادیا ہے۔ جو دوست بھی اس تجویز پر عمل کرنا چاہے یا کوئی اپنی قیمتی رائے سے نوازنا چاہے تو یہاں پر تبصرہ والے خانہ میں اپنا مشورہ دیں اور بتائیے آپ اس تجویز پر کتنا اور کس حد تک عمل کرنا چاہتے ہیں۔

ڈاکڑ صاحب کا پوسٹ ایڈریس جو بذریعہ انکل اجمل معلوم ہوا ہے وہ درج ذیل ہے۔

عبدالقدیر خان
گومل روڈ ۔ ای ۔ 7 ۔ اسلام آباد

Jun 01

اپنے انصار برنی جو پاکستان سے زیادہ انڈیا کے ساتھ وفاداری کی کوشش کرتے رہتے ہیں کو انڈیا نے “ منہ پر خوشامد یہ کرتے ہوئے“ “منہ پر تھوک کر “‌‌‌ ملک بدر کردیا۔ “ منہ دیکھ کر بیڑا، چوتڑ دے کر پیڑھا “ وامہ مثل رکھی تھی آج اُکا عملی مظاہرہ بھی دیکھ لیا ہے۔ بھارت نے منہ دیکھ کر تھپڑ مارا “ ہے۔ اگرچہ انصار برنی یہاں سے بہت پر رونق منہ لے کر گئے ہوں گے۔ لیکن انڈیا نے ائیر پورٹ پر ہی “ منہ توڑ کر جواب “ دے دیا جسے سن کر محترم کے “ منہ کی فاختہ “ اُر گئی۔ یقیناً اس وقت انصار برنی کی حالت “ منہ ڈھک ڈھک کر رونا “ سے مماثلت ہوگی۔ جب وہ کہیں‌ “ منہ دکھانے کے قابل “‌ نہ رہے تو “ منہ دیکھے کی اُلفت “ کے مطابق اُنھیں دوبارہ انڈیا آنے کی دعوت دے ڈالی ۔ آب دیکھیے انصار برنی کس منہ سے انڈیا جاتے ہیں ۔ اس وقت انصار برنی کی عزت “ منہ کو سات تووں کی کالک لگ جانا “ کے مترادف ہے۔

Jun 01

سب کو معلوم ہے انڈیا اور پاکستان دونوں نےقریب قریب ایک ساتھ ہی ایٹمی سائنسدانوں نے بہت محنت کے بعد اس منزل کو حاصل کیا۔ جس پر عوام نے انھیں اپنا ہیرو قرار دے دیا۔ انڈیا نے اپنے سائنسدان کو صدر کا عہدہ دے کر اُن کی عزت افزائی کی لیکن ہم نے اپنے ہیرو ڈاکڑ عبدالقدیر خان کو قید یا نظر بند کرکے عزت دی ۔ کہا جارہا ہے اُنھیں بوجہ مصلحت نظر بند کیا ہے وہ بے قصور ہیں ، وقت آنے پر اُنھیں رہا کردیا جائے گا۔
لیکن قوم کسی حد تک اُنھیں بھول چکی ہے۔ یقیناً ڈاکڑ صاحب کو بھی اس کا احساس ہوگا، یہ کیسی بے حس قوم ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میں نے کہا تھا میرے ذہن میں ڈاکڑ صاحب کے لیے چند تجاویز ہیں ، جو میں یہاں پیش کررہا ہوں۔
بلاگنگ کی لائن میں ہم کم از کم 40،50 افراد ہیں جو ایک دوسرے کو جانتے ہیں ۔ اگر ہم سب مل کر ایک گروپ بنالیں اور اس گروپ کا روزانہ ایک رکن ایک تہنتی کارڈ ڈاکڑ عبد القدیر خان کو پوسٹ کرے گا۔ اس طرح اگر گروپ کے صرف 30 رکن بھی ہوئے تو ہر رکن کو ایک مہینے میں ایک کارڈ پوسٹ کرنا پڑیگا۔ لیکن ڈاکڑ صاحب کو روزانہ ایک کارڈ موصول ہوگا۔ میرے خیال سے ایک کارڈ کا خرچہ کسی کے لیے کوئی بوجھ نہیں بنے گا۔
اس طریقے سے ہم ڈاکڑ صاحب کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کرسکتے ہیں ۔ اگر ارکان میں اضافہ ہوگیا تو روزانہ ایک رکن کی بجائے دو رکن ہوجائیں گے۔ ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ تمام ارکان مہنے کی یکم تاریخ کو ایک ایک کارڈ اور پھر روزانہ ایک رکن ایک کارڈ پوسٹ کریں گے۔ اس طرح دو کارڈ کا خرچہ برداشت کرنا ہوگا۔

آپکی تجاویز کا انتظار رہے گا۔

May 30

جاوید چوھدری اچھے کالم نگار ہیں ان کا آج کا کام پڑھئے ۔ مجھے تو یہ پڑھ کر بہت شرم آئی اور اپنے آپ پر افسوس بھی ہوا۔
image

ایکسپریس نیوز

May 28

28 مئی 1998ء کا سورج پاکستانی عوام کےلیے ایک بہت بڑی خوشخبری لے کر طلوع ہوا۔ اس دن پاکستان نے بظاہر ناممکن منزل تک پہنچ کر ایک اہم اعزاز حاصل کیا۔
منزل ایسی جس پر سفر سے شروع سے لے کر اختتام کے بعد تک انتہائی پریشانیاں، پابندیاں اور دھمکیاں ملتی رہیں۔اس دن کو قوم نے خصوصی خطاب دے کر قومی تہوار کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن افسوس صد افسوس ہمارا تعلق ان لوگوں سے ہے جو اپنی چیزوں سے محبت کرنے کی بجائے دوسروں کی روایات، رسم ورواج اپنا کر خوش ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنی تاریخ اور مختلف کارناموں کے بارے میں علم یا یاد نہیں ہوتا لیکن ویلنٹائن ڈے، بسنت اور نیو ائر نائٹ اس طرح مناتے ہیں کہ خود ان تہواروں کے وارث بھی سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں یہ اتہوار ہمارا ہے یا مسلمانوں کے۔
زیادہ پرانی نہیں صرف دس سال پہلے کی بات ہے ہم نے 28 مئی کو یوم تکبیر کا نام دے کر بھول گئے ۔ بہت سے لوگوں کو یہ تحریر پڑھ کر یاد آئے گا آج یوم تکبیر ہے۔ اسی طرح میں نے 23 مارچ کے بارے میں ایک تحریر لکھی تھی کہ کسی نے اس دن کو وش نہیں کیا۔ یوم تکبیر کو چھوڑئیے اپنی ایٹمی طاقت کے موجد ڈاکڑ عبدالقدیر خان کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ ہماری نسبت کو کس عزت سےنوازا۔ ہم نے اپنے محسن کو بے شمار بیماریوں کے ساتھ اُسی کے گھر قید کردیا۔ کوئی اس محسن کے لیے کچھ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کیا ہم اتنے بے حس اور گرے ہوئے ہیں جو قرارداد پاکستان ، یوم تکبیر کے علاوہ اپنے محسن کو بھی بھول گئے۔
جس کی وجہ سے پاکستان دنیا کے طاقتور ترین ملکوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

نوٹ: میرے ذہن میں ڈاکڑ عبدالقدیر کے لیے کچھ تجاویز ہیں انشاءاللہ جلد ہی یہاں پیش کروں گا۔

May 22

مچھر کا الٹی میٹم

بشکریہ ہفت روزہ بچوں کا اسلام

بلدیہ والوں سے اب کیا بحث میں سر ماریے
بلدیہ والے یہ کہتے ہیں کہ مچھر ماریے

کہتا پھرتا ہے یہ مچھر ، مار کر تم دیکھ لو
میرا طوفان دم بہ دم، دریا بہ دریا، جو بہ جو

دیکھ اے ناداں، یوں نہ مجھ پر ڈی ڈی ٹی چھڑک
تیرا یہ غازہ میرے چہرے کو دے دے گا چمک

تیرا ٹائی فون مجھ کو ختم کرسکتا نہیں
میں تو اک فنکار ہوں فنکار مر سکتا نہیں

مجھ سے کیوں ڈرتا ہے میرے ہاتھ میں خنجر نہیں
قاتلِ انساں تو خود انسان ہے ، مچھر نہیں

سیٹھ جی تیرا لہو چوسیں تو خوش ہوتا ہے تُو
میں بھی چکھ لیتا ہوں تھوڑا سا، کیوں روتا ہے تُو

(محمد مشہود خالد فیصل آباد)

May 17

مختلف بلاگرز ابوشامل، عکس، انکل اجمل نے کافی متاثر کن انداز میں حقائق بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن مجھے افسوس ہے کہ یہ اتنا بڑا ایشو نہیں ہے جتنا بڑا کرکے اسے عوام میں پیش کیا جارہا ہے اس واقع پر ٹی وی پر بھی بحث چل رہی ہے۔ مرنے والے لوگوں کا تعلق چور ڈکیت سے تھا اگر ان کو زندہ جلادیا گیا تو کیا ہوا، 9 اپریل کو 6 افراد کو زندہ جلایا گیا وہ بے گناہ اور شریف تھے اُس وقت تو کوئی نہیں بولا کسی نے ایسے افسوس ناک واقع پر اتنا شور نہ کیا بس ایک دو دن بحث چلی اور سب بھول گئے۔ اس واقع میں اتنا ضرور ہوا ہے کہ عوام نے قانون اپنے ہاتھ میں لینا شروع کردیا ہے۔ عوام بھی بیچارے مجبور ہیں جب انصاف فراہم کرنے والے ادارے عوام کی بجائے چور، ڈکیت، شرابی کبابی اور ہر طرح کا غیر قانونی کام کرنے والوں کو تحفظ دیں گے تو عوام کس کے پاس جائیں۔ ان کے پاس۔ ۔ ۔ ۔ جو خود انصاف کی تلاش میں تقریباً ڈیڑھ سال کے عرصے سے سڑکوں پر گھوم رہے ہیں؟ ان سیاسی جماعتوں کے پاس جن کے اعمال میں 12 مئی اور 9 اپریل جیسے نہ جانے کتنے کارنامے لکھے ہوئے ہیں؟ ان حکمرانوں کے پاس جنہوں نے 12 مئی کو کراچی میں اپنی طاقت کا اظہار کیا تھا، جو آٹے اور اسٹاک ایکسچینج جیسے واقعات میں ملوث ہیں یا اُن لوگوں کے پاس جو ناجانے کتنے کیس معاف کرواکر حکومت کرنے آئے ہیں ؟ یا اُن پولیس والوں کے پاس جو کسی بھی مجرم سے چند ہزار روپے لے کر رہا کردیتے ہیں؟ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے آج تک ہمیں پولیس کے محکمے سے محفوظ رکھا ہوا ہے۔ ہمارے ایک رشتہ دار سے بائیک چھینی گئی۔ جب وہ اس کی ایف۔ آئی۔ آر کٹوانے گئے تو پہلے یہ فیصلہ ہی نہیں ہورہا تھا یہ علاقہ کس تھانے کے انڈر میں آتا ہے، مجبوراً 55 ہزار والی بائیک کی ایف آئی آر 10 ہزار میں کٹوائی اور 3 ماہ بعد محکمے کے بہترین سلوک کی وجہ سے 25 ہزار دے کر فائل بند کروائی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
فرض کیا لوگ اس طرح بے رحمانہ اور پرتشدد رویہ اختیار نہ کرتے، بلکہ ایک مہذب قوم کا کردار ادا کرتے ہوئے ان تین مجرموں‌ کو پولیس کے حوالے کردیتے تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں یقین سے کہتا ہوں وہ تینوں آدھے گھنٹے بعد پولیس کی حراست سے آزاد ہوتے اور ان کا اگلا حدف اُنھیں گرفتار کروانے والے لوگ ہوتے۔ کراچی ایسے واقعات میں اپنی مثال آپ ہے پہلی تاریخ کو ایک مزدور تنخواہ لے کر گھر آرہا ہوتا ہے راستے میں اس کی جان سمیت تنخواہ چھین لی جاتی ہے۔۔۔ کسی راہ چلتے کو روک کر موبائیل لے لیتے ہیں اگر کوئی زیادہ بولے تو جان بھی جاتی ہے۔ ہر مہنے ایسے واقعات میں کئی لوگ مارے جاتے ہیں۔ حکومت کے ذمہ دار افراد ان کے اہلخانہ سے تعزیت کرکے بھول جاتے ہیں اس کے بعد کبھی کسی نے سوچا ہے اُن کے گھر والے خرچہ کیسے پورا کرتے ہیں۔کوئی نہیں سوچتا، ہمیں کیا اس سے ۔ :twisted:
اگر عوام نے خود انصاف لینا کی کوشش شروع کردی ہے تو ہر طرف شور ہورہا ۔ یہ بات حقیقت ہے کہ ایسے واقعات نہیں ہونے چاہیں۔ لیکن کیا یہ اس طرح فالتو بحث کرنے سے روک جائیں گے۔ اس کے لیے عملی طور پر اقدام کرنے کی ضرورت ہے جو کوئی بھی محکمہ کرنے کے لیے تیار نہیں‌ ہے۔ پہلے واقع کے تقریباً 1500 افراد گواہ ہیں لیکن پولیس اس بات پر میسر ہے یہ پولیس مقابلہ تھا عوام نے بعد میں دخل اندازی کرکے ان لوگوں کو جلایا ہے۔
آخر میں‌ ضروری اطلاع: ایسا ہی واقع نارتھ ناظم آباد میں دوپہر تین بجے پیش آیا ابتدائی رپورٹ کے مطابق دو ڈاکوں کو آگ لگادی جن میں سے ایک ہلاک اور دوسرا زخمی حالت میں عباسی ہسپتال منتقل۔ اب بھی ارباب اختیار نے اس طرف توجہ نہ کی تو مزید واقعات سننے کے لیے تیار رہنا چاہے۔

May 08

عام طور پر شکار کھیلنے والے کو شکاری کہا جاتا ہے۔ شکار کی کئی اقسام ہیں، ایک شکار جنگلوں میں‌ کیا جاتا ہے اور دوسرا پانی میں ہوتا ہے۔ یہ دونوں اقسام عام اور سب کو معلوم ہیں۔ اس کے علاوہ شکار کی ایک اور قسم ہے جسے “شہری شکار“ کہا جاتا ہے۔ چونکہ ہماری نئی نسل جنگلوں میں جانے سے ڈرتی ہے اس لیے وہ شکار شہروں‌ میں‌ ہی کرنے لگی ہے۔ سب سے بہترین شکار کراچی میں‌ انسانوں‌ کا ہوتا ہے۔ یہاں ہمیشہ شکاری متحدہ ہوتی ہے۔ کچھ بھی ہوجائے لوگ بس اسی نام لیتے ہیں۔ متحدہ لاکھ چیختی رہے، شکار ہونے والے لوگوں کے اہلخانہ کو یرغمال بنا کر بیان دے: “ یہ ہمارے لوگ تھے ان کا شکار ہم نہیں‌ کیا۔“ لیکن کوئی سنتا ہی نہیں‌۔ یہاں جس کی لاٹھی اسی کی بھینس والا قانون لاگو ہوتا ہے، جیسے شکاری جنگل میں شیر کا شکار کرنے کی بجائے اس سے ڈرتے اور ہرن خرگوش جیسے معصوم جانوروں کا شکار کرتے ہیں‌۔ اسی طرح جو شکار ہوگیا سو ہوگیا، بچ جانے والے ادھر اُدھر دبک کر بیٹھ جاتے ہیں، اگلے دن معمولاتِ زندگی اور کسی نئے شکاری کا خوف . . . . .
شہر کراچی شہری شکار کھیلنےوالوں کا پسندیدہ میدان قرار پاتا ہے، کیونکہ یہاں‌ کبھی شکاری کو مایوسی کا سامنا نہیں ہوتی ، بلکہ زیادہ تر دورے کامیاب ترین ہوتے ہیں۔ اس کی میں 12 مئی اور 9 اپریل کے دن پیش کئے جاسکتے ہیں۔ شہری شکار کی یہ قسم ہماری اپنی نہیں ہے۔ اس کا تعلق آقا (امریکا) سے ہے۔ اگرچہ وہ ملکی شکار کرتا ہے۔ اس شکار پر وہ کبھی خود اور تنہا نہیں‌ جاتا بلکہ اپنے مہروں یا دوسرے ملکوں کو ساتھ لے کر جاتا ہے۔ ہم اس کے شاگرد ہیں‌‌ اس لیے ملکی شکار کی بجائے شہری شکار پر گزارا کرلیتے ہیں۔ امریکا کا ایک سینیئر شاگرد (اسرائیل) ریاستی شکار کھیلتا ہے۔ ہمارا ایک ہمسایہ بھی امریکا کا سینیئر شاگرد بننے کی کوشش میں اکثر ہمیں بھی ڈانٹ پلادیتا ہے۔ آج ہم بھی اس کے سینیئر شاگرد ہوتے لیکن برا ہو عوام کا جو چھوٹے چھوٹے ایشوز پر احتجاج کرنے روڈوں پر نکل آتے ہیں۔ خیر کوئی بات نہیں اب نئی حکومت نے ریکارڈ مہنگائی کرنے کا پروگرام بنالیا ہے تاکہ عوام مزدوری کرنے کے علاوہ اور کچھ نہ سوچ سکے ، اور ہماری گورنمنٹ امریکا نواز پالیسیاں اپنا کر اس کی خوشنودی حاصل کرسکے۔