شکار کی اقسام مچھر کا الٹی میٹم
May 17

مختلف بلاگرز ابوشامل، عکس، انکل اجمل نے کافی متاثر کن انداز میں حقائق بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن مجھے افسوس ہے کہ یہ اتنا بڑا ایشو نہیں ہے جتنا بڑا کرکے اسے عوام میں پیش کیا جارہا ہے اس واقع پر ٹی وی پر بھی بحث چل رہی ہے۔ مرنے والے لوگوں کا تعلق چور ڈکیت سے تھا اگر ان کو زندہ جلادیا گیا تو کیا ہوا، 9 اپریل کو 6 افراد کو زندہ جلایا گیا وہ بے گناہ اور شریف تھے اُس وقت تو کوئی نہیں بولا کسی نے ایسے افسوس ناک واقع پر اتنا شور نہ کیا بس ایک دو دن بحث چلی اور سب بھول گئے۔ اس واقع میں اتنا ضرور ہوا ہے کہ عوام نے قانون اپنے ہاتھ میں لینا شروع کردیا ہے۔ عوام بھی بیچارے مجبور ہیں جب انصاف فراہم کرنے والے ادارے عوام کی بجائے چور، ڈکیت، شرابی کبابی اور ہر طرح کا غیر قانونی کام کرنے والوں کو تحفظ دیں گے تو عوام کس کے پاس جائیں۔ ان کے پاس۔ ۔ ۔ ۔ جو خود انصاف کی تلاش میں تقریباً ڈیڑھ سال کے عرصے سے سڑکوں پر گھوم رہے ہیں؟ ان سیاسی جماعتوں کے پاس جن کے اعمال میں 12 مئی اور 9 اپریل جیسے نہ جانے کتنے کارنامے لکھے ہوئے ہیں؟ ان حکمرانوں کے پاس جنہوں نے 12 مئی کو کراچی میں اپنی طاقت کا اظہار کیا تھا، جو آٹے اور اسٹاک ایکسچینج جیسے واقعات میں ملوث ہیں یا اُن لوگوں کے پاس جو ناجانے کتنے کیس معاف کرواکر حکومت کرنے آئے ہیں ؟ یا اُن پولیس والوں کے پاس جو کسی بھی مجرم سے چند ہزار روپے لے کر رہا کردیتے ہیں؟ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے آج تک ہمیں پولیس کے محکمے سے محفوظ رکھا ہوا ہے۔ ہمارے ایک رشتہ دار سے بائیک چھینی گئی۔ جب وہ اس کی ایف۔ آئی۔ آر کٹوانے گئے تو پہلے یہ فیصلہ ہی نہیں ہورہا تھا یہ علاقہ کس تھانے کے انڈر میں آتا ہے، مجبوراً 55 ہزار والی بائیک کی ایف آئی آر 10 ہزار میں کٹوائی اور 3 ماہ بعد محکمے کے بہترین سلوک کی وجہ سے 25 ہزار دے کر فائل بند کروائی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
فرض کیا لوگ اس طرح بے رحمانہ اور پرتشدد رویہ اختیار نہ کرتے، بلکہ ایک مہذب قوم کا کردار ادا کرتے ہوئے ان تین مجرموں‌ کو پولیس کے حوالے کردیتے تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں یقین سے کہتا ہوں وہ تینوں آدھے گھنٹے بعد پولیس کی حراست سے آزاد ہوتے اور ان کا اگلا حدف اُنھیں گرفتار کروانے والے لوگ ہوتے۔ کراچی ایسے واقعات میں اپنی مثال آپ ہے پہلی تاریخ کو ایک مزدور تنخواہ لے کر گھر آرہا ہوتا ہے راستے میں اس کی جان سمیت تنخواہ چھین لی جاتی ہے۔۔۔ کسی راہ چلتے کو روک کر موبائیل لے لیتے ہیں اگر کوئی زیادہ بولے تو جان بھی جاتی ہے۔ ہر مہنے ایسے واقعات میں کئی لوگ مارے جاتے ہیں۔ حکومت کے ذمہ دار افراد ان کے اہلخانہ سے تعزیت کرکے بھول جاتے ہیں اس کے بعد کبھی کسی نے سوچا ہے اُن کے گھر والے خرچہ کیسے پورا کرتے ہیں۔کوئی نہیں سوچتا، ہمیں کیا اس سے ۔ :twisted:
اگر عوام نے خود انصاف لینا کی کوشش شروع کردی ہے تو ہر طرف شور ہورہا ۔ یہ بات حقیقت ہے کہ ایسے واقعات نہیں ہونے چاہیں۔ لیکن کیا یہ اس طرح فالتو بحث کرنے سے روک جائیں گے۔ اس کے لیے عملی طور پر اقدام کرنے کی ضرورت ہے جو کوئی بھی محکمہ کرنے کے لیے تیار نہیں‌ ہے۔ پہلے واقع کے تقریباً 1500 افراد گواہ ہیں لیکن پولیس اس بات پر میسر ہے یہ پولیس مقابلہ تھا عوام نے بعد میں دخل اندازی کرکے ان لوگوں کو جلایا ہے۔
آخر میں‌ ضروری اطلاع: ایسا ہی واقع نارتھ ناظم آباد میں دوپہر تین بجے پیش آیا ابتدائی رپورٹ کے مطابق دو ڈاکوں کو آگ لگادی جن میں سے ایک ہلاک اور دوسرا زخمی حالت میں عباسی ہسپتال منتقل۔ اب بھی ارباب اختیار نے اس طرف توجہ نہ کی تو مزید واقعات سننے کے لیے تیار رہنا چاہے۔

7 آراء دي گئيں برائے ”حمایت یا مخالفت“

  1. ماوراء رقمطراز ہيں:

    زاہد، آپ کی بات درست ہے کہ ہمارے ملک میں اتنے خود کش حملوں اور اپریل میں جو لوگوں کو زندہ جلایا گیا۔۔۔وہ لوگ بھی تو بے گناہ مارے گئے تھے۔ لیکن آپ نے دیکھا کہ ایک واقعہ کے بعد آج دوسرا واقعہ بھی ہوا۔۔۔اور اس طرح تو ایک روایت بن جائے گی، کہ ایک بار ہوا۔۔دو بار ہوا۔۔۔اور شاید یہ سلسلہ چل نکلے۔

    ڈاکو کی سزا اس کو آگ میں جلانا نہیں ہے، ہاں اگر ڈاکوؤں کا ہاتھ کاٹ دیں تو پھر بھی کوئی بات ہو کہ یہی اس کی سزا ہے۔ لیکن زندہ انسانوں کو جلا دینا۔۔۔کوئی سزا نہیں ہے۔

  2. ماوراء رقمطراز ہيں:

    زاہد، ایک ٹپ ہے آپ کے لیے۔۔آپ کی پوسٹ کا لنک اتنا بڑا آ رہا ہے۔ اس کو ٹھیک کرنے کے لیے جائیں۔۔۔
    Dashboard>>Options>>Permalinks>>Common options>>Date and name based
    پر کلک کر دیں۔ اور پھر اپڈیٹ کر دیں۔
    اور جب آپ پوسٹ لکھتے ہو نا۔۔۔تو رائٹ سائڈ پر لکھا ہو گا۔۔Post Slug اس میں اپنی پوسٹ کے عنوان کو رومن اردو یا انگلش میں لکھ دیں۔

  3. اجمل رقمطراز ہيں:

    السلام و علیکم
    آپ نے تصویر کے ایک رُخ کا بھی تھوڑا سا حصہ پیش کیا ہے ۔ کسی بھی واقعہ کو اُس کے سیاق و سباق کے ساتھ نہ دیکھنے سے انسان بھٹک جاتا ہے ۔ میرے چند سوال ہیں اور اُمید رکھتا ہوں کہ آپ کے پاس ان کے مدلل جواب ہوں گے
    1 ۔ قطع نظر ان کے کردار کے کیا ڈاکو ہماری طرح کے انسان نہیں ہیں ؟
    2 ۔ شکائت یہ ہے کہ ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا جاتا ۔ انصاف کا بنیادی تقاضہ ملزم کو صفائی کا موقع دینا ہے ۔ صفائی کا موقع دئیے بغیر سزا بدترین آمریت ہے ۔ کیا جلانے والوں نے بدترین سزا دے کر بدترین آمر کو بھی مات نہیں دے دی ؟
    3 ۔ کوئی ڈاکٹر بنا کوئی انجنیئر کوئی منتظم وغیرہ وغیرہ ۔ ان سب کے یوں بننے کے اسباب ہیں ۔ کیا جلائے گئے اشخاص کے ڈاکو بننے کی وجہ وہ معاشرہ نہیں ہے جس میں وہ رہ رہے ہیں ؟ پھر اس معاشرہ کو کیوں آگ نہیں لگائی جاتی ؟
    4 ۔ جن لوگوں نے ڈاکوؤں کو جلایا کیا وہ ہر جُرم سے پاک تھے ؟ اگر وہ ہر جرم سے مبرا نہیں ہیں اور انصاف کا طریقہ سرِ راہ بغیر صفائی کا موقع دیئے جلانا ہی ہے تو اُنہیں کیوں جلایا نہیں گیا ؟

  4. تزک نگار رقمطراز ہيں:

    زاہد مجھے آپ کے خیالات جان کر افسوس ہوا ۔ اس کے جواب میں میری حالیہ تحریر ملاحظہ کیجیے ۔

  5. شکاری رقمطراز ہيں:

    اسلام علیکم،
    تمام دوستوں کا شکریہ جو بلاگ پر آئے اور اپنی قیمتی رائے سے نوازا۔
    آپ سب لوگوں نے اپنی رائے تو دی لیکن جو نقطہ میں نے سمجھانے کی کوشش کی تھی وہ کسی نے بھی نہیں سمجھا۔ آپ کی طرح میں بھی اس کو اچھا نہیں سمجھتا۔ میں‌ نے اپنے آپ کو ایک غریب، لاچار اور مالی ضروریات سے تنگ شخص سمجھ کر یہ وضاحت کرنے کی کوشش کی تھی کہ ایسے طبقے کے لوگ اس واقعے کو کس طرح دیکھتے اور سوچتے ہیں۔ یہاں‌ گھر بیٹھے ہم اپنی اپنی رائے تو پیش کردیتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ عام آدمی کیا سوچتا ہے ؟
    بہت سے لوگ اس کو بالکل جائز اور ایک انقلابی قدم سے دیکھتے ہیں۔ اس کو آپ ایک مثال سے سمجھیئے۔

    سوڈا واٹر کی بوتل میں گیس ہوتی ہے لیکن سست اور دبی ہوئی حالت میں۔ اگر بوتل کو کچھ دیر تک ہلایا جائے تو گیس پھیلنے لگتی ہے ، بوتل سے باہر نکلنے کی کوشش کرتی ہے۔ بوتل کا ڈھکن ہٹا کر گیس نہ نکالی جائے تو وہ بوتل کو پھاڑ کر نکل جاتی ہے ۔ اس طرح انسان کے کچھ جذبات احساسات ہوتے ہیں لیکن ایک حد تک دبے ہوئے اگر ان کو مسلسل دبایا جائے اور انسان کے تمام حقوق سلب کرلیے جائے تو اس کے اندر ایک جوش کا سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگتا ہے اس کو اپنے حقوق چاہے ہوتے ہیں اگر اسے یہ جائز طریقے سے نہ ملیں تو وہ سوڈا واٹر کی گیس کی طرح بوتل کو پھاڑ کر حاصل کرنےکی کوشش کرتا ہے ۔ مطلب پھر انسان نہیں‌ دیکھتا کہ یہ انسانی حقوق کے منافی ہے یا مذہب میں اسکی ممانعت کی گئ ہے۔
    اب عوام نے اپنے حقوق کی خاطر ہر جائز و ناجائز طریقہ اپنانا شروع کردیا ہے۔ اگر اب بھی ارباب اختیار نے عوام کے حقوق نہ دیئے تو قانون کو ہاتھ میں لینے کی روایت بہت تیزی سے پھیلے گی۔ ایسی روایات کسی بڑے انقلاب پر ہی ختم ہوتی ہیں ۔ ایسا انقلاب جس میں تمام آمر، ڈکیت بہہ جاتے ہیں‌۔

  6. شکاری رقمطراز ہيں:

    تزک نگار نے اپنے بلاگ پر لکھا ہے اس طرح کوئی بھی کسی کو بھی مجرم قرار دے کر جلا سکتا ہے۔ وہ ایک بات بھول رہے ہیں کہ بوتل ہر مرتبہ ایک ہی طریقے اور زاویے سے نہیں پھٹتی۔

  7. شکاری رقمطراز ہيں:

    ماورہ ایک قیمتی ٹپ بتانے کا شکریہ۔ اس آپشن کو دیکھا تو ہوا تھا لیکن معلوم نہیں تھا یہ کس لیے استعمال ہوتا ہے۔ اب پتا چل گیا۔

اپني رائے يہاں تحرير کريں

Englishاردو

Englishاردو