پہچان
اقتباسات Sunday، 2 March 2008 پہچان
مرزا صاحب پنج وقتہ نماز کے پابند تھے۔ ایک دفعہ دہلی کی ایک مسجد سے نماز مغرب ادا کرنے کے بعد گھر آرہے تھے کہ راستہ میں کھڑے ایک اجنبی بچے نے کہا: “نمستے انکل۔“
“بےادب، جاہل، بدتمیز ایک مسلمان کو نمستے کرتا ہے۔“مرزا صاحب بچے پر برس پڑے۔
“انکل جی! کیا آپ مسلمان ہیں؟“ بچے نے شرارتی معصومیت کے ساتھ سوال کیا۔
“ہاں بھائی! میں اللہ کو مانتا ہوں، اس کے رسول کو مانتا ہوں، نماز پڑھتا ہوں۔ مسلمان نہیں تو اور کیا ہوں؟“ مرزا صاحب نے روایتی بوڑھوں کی طرح کہانی لمبی کی۔
“جناب! میں تو بس آپ کا چہرہ دیکھا جو ہمارے پنڈت جی سے ملتا جلتا تھا۔ اس لیے نمستے کہہ بیٹھا۔ I’m sorry۔“
یہ کہہ کر بچے نے مرزا صاحب کی حیران نظروں کو زیادہ دیر اپنے چہرے پر غضب ناک شعاعیں نہ برسانے دیں اور یہ جا وہ جا اوجھل ہوگیا۔
یہ قصہ ہمارے ایک مسجد القلبی نے ہمیں سنایا۔ تمام سامعین نے اسے لطیفہ سمجھا اور ہنس دیے، محفل برخاست ہوگئی۔ لیکن بچے کی بات میرے دماغ میں گھڑ کررہ گئی۔ میں رہ رہ کر یہ سوچنے لگا کہ آخر اس کی بات میں کتنی گہرائی پہناں تھی۔
یہ حقیقت ہے کہ ہر چیز کو پہچاننے کی کوئی نہ کوئی نشانی ہوتی ہے۔ جس طرح انسان کی اخلاقیات کو اس کے معاملات سے، اس کی شرافت وتہذیب کو گفتگو سے، اس کی شخصیت کو رویے اور برتاؤ سے، اس کی نفاست کو لباس سے، اس کی متانت کو موبائل کی گھنٹی سے، اس کی طبعیت کو چال ڈھال سے، اس کے کردار کو آزمائشی حالات سے، اس کے ذوق کو حسنِ انتخاب سے، اس کے شوق کو اس کے پسندیدہ مشغلے سے پہچانا جاتا ہے۔
اسی طرح مقامات کی پہچان کی بھی نشانیاں ہوتی ہیں جیسے کراچی کو مزارِ قائد سے، نیویارک کو اسٹیچو آف لبرٹی، پیرس کو ایفل ٹاور،آگرہ کو تاج محل، چین کو چائنہ وال، قاہرہ کو اہرامِ مصر، سڈنی کو اوپرا ہاؤس، دوبئی کو برج العرب سے پہچانا جاتا ہے۔
ہمیں اس “لیبل“ سے احساس کمتری ہے۔ ہمیں ٹوپی پہننے سے عار اور ڈاڑھی رکھنے سے شرم آتی ہے۔ وہ سکھ ہم سے کیوں نہیں اچھے جنھوں نے فرنگیوں کی دست درازی کے باوجود اپنی مذہبی پہچان کو قائم رکھا اورایک ہم ہیں جو ان کے خوف سے اپنے ہی ملک میں مذہبی پہچان کو اپنانے سے اجتناب کرتے ہیں۔
ہم ایک شرمیلی برادری ہیں جو اپنے رب کے علاوہ سب سے شرماتے ہیں۔ ہم اپنے ہی وجود کو خنجر گھونپ رہے ہیں۔ ہم اپنی پہچان سے نفرت کررہے ہیں۔ ہم اپنا ہی لیبل مٹا رہے ہیں۔
دنیا میں کسی بھی قوم کو پہچاننے میں غلطی کا احتمال موجود ہوتا ہےلیکن “سکھوں“ کو پہچاننے میں کوئی غلطی نہیں کرسکتا۔ سکھوں کی مذہبی وثقافتی تہذیب نے تقریباً چار صدی پہلے پہلے جنم لیا۔ 1699ء میں گرو “گوبند سنگھ“ نے “خالصہ“ نامی عقیدہ کی بنیاد رکھی جس کے پانچ ارکان پانچ “ککے“ کہلاتے ہیں۔ کیس، کنگھا، کاچھا، کڑا اور کرپان۔ سکھوں کی کل آبادی تقریباً ڈھائی کروڑ ہے جو دنیا کی کل آبادی کا اعشاریہ 39 فیصد ہے۔ جن میں سے ایک کروڑ بیانوے لاکھ پندرہ ہزار سات سوسکھ ہندوستان میں رہتے ہیں جو ہندستان کی کل آبادی کا صرف 1.87 فیصد بنتے ہیں۔ سکھوں کی کل آبادی کا 83 فیصد ہندوستان میں رہتا ہے یعنی ہندوستان کے علاوہ پوری دنیا میں سکھوں کی تعداد صرف ستاون لاکھ چوراسی ہزار دو سو بہتر ہے لیکن پھر جانے کیوں دنیا کے کونے کونے میں قلیل تعداد ہونے کے باوجود سکھوں کا وجود نظر آتا ہے۔ یہاں پر ذرا رکتے ہیںاور آتے ہیں مسلمانوں کی طرف۔
سینسٹس بیور آف امریکا کے مطابق25 جون 2006ء تک دنیا کی آبادی تقریباً ساڑھے چھ ارب تھی جن میں 1.8 بلین مسلمان ہیں جو دنیا کی کل آبادی کا 29 فیصد ہیں۔ یعنی ہم دنیا کی دوسری بڑی برادری ہیں۔ دنیا میں ہر چوتھا آدمی مسلمان ہے۔ دنیا کا کل رقبہ 20.6 فیصد مسلمانوں کے پاس ہے جو ایک کروڑ اٹھارہ لاکھ تیراسی ہزار آٹھ سو نواسی مربع میل ہے۔ دنیا کے 57 ممالک میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ اسلام دنیا میں شرح پیدائش سے 0.6 فیصد تیزی سے پھیل رہا ہے۔ سی آئی اے کی فیکٹ بک کے مطابق 2200ء میں دنیا میں سب سے زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہوگی۔
اب واپس چلتے ہیں پچلھی بات کی طرف۔ آخر کیا وجہ ہے کہ سکھ اتنی قلیل تعداد میں ہونے کے باوجود دنیا کے ہر حصے میں نظر آتے ہیں؟ ان کی بات کو انڑ نیشنل میڈیا خصوصی کوریج دیتا ہے۔ ان کی طرف کیمرہ کرکے ہندوستان کی پہچان کروائی جاتی ہے۔ان کی ثقافت زندہ ہے۔ ان کی معاشرے میں اہمیت ہے۔
“میرے دماغ میں کرنٹ لگا کہ آخر کیوں؟ بے ساختہ جواب آیا: “لیبل۔“ لیبل ہی وہ چیز ہے جو سکھوں کے وجود کو قائم رکھے ہوئے ہے۔ سکھ صرف اپنی ڈاڑھی اور پگ کی وجہ سے دنیا کے ہر خطے میں آشنائی رکھتے ہیں۔ چھوٹا ہو، بڑا یا بوڑھا ہر ایک بے جھجھک اپنے مذہنی لیبل کو اپناتا ہے۔
یہاں تک کہ گیارہ ستمبر کے بعد بھی جب سکھوں کو مسلمان سمجھ کر ان پر مظالم ڈھائے گئے تب بھی انہوں نے اپنے لیبل کو مضبوطی سے تھامے رکھا اور اس پر فخر کرتے رہے۔ لیکن ایک ہم مسلمان ہیں جو کثیر تعداد میں ہونے کے باوجود اپنی پہچان کو منوانے سے قاصر ہیں۔ ہمارا وجود ہونے کے باوجود بھی نہیں ہے۔“
مجھے جواب مل چکا تھا۔ صرف لیبل سے محبت نہ ہونا اس کا باعث ہے۔
(ضرب مومن محمد احسن الیاس )

Sunday، 02 March 2008 بوقت 11:17 p
محترم زاہد صاحب
السلامُ عليکُم
ميں نے يہ جانا کہ گويا يہ بھی ميرے دل ميں ہے
سچ کہا آپ نے،ہم نے اپنی پہچان ہی تو کھو دی ہے ورنہ ہم تو وہ لوگ ہيں جنہوں نے دشت و صحرا و دريا بھی نا چھوڑے اپنا آپ منوانے کے لۓ کشتياں جلا کر واپسی کے سارے راستے بند کر دۓ ليکن لگتا ہے اب وہ سب باتيں قصّہءپارينہ ہُوئيں اور ہم نے ايک دُوسرے کو بچانے کی بجاۓ صرف اپنے کو بچانے کے لۓ سب کُچھ تج ديا کيا کہيۓ کہ اب يہی ہماری پہچان ہے کيُونکہ يہی سچ ہے بے شک يہ کڑوا ہوتا ہے پھر بھی ہم اس کڑوے کو ہی سچ سمجھيں کہ جب اپنی ذات ہی سب کُچھ لگے تو جو کُچھ بھی نا ہو وہی کم ہے ايسے ميں صرف ليبل لگانے سے بھي بات نہيں بنا کرتي
دُعاگو
شاہدہ اکرم
Tuesday، 25 March 2008 بوقت 2:42 p
یہ تحریر آپ کی ہے یا کسی محمد احسن الیاس صاحب کی؟ اگر کسی اور کی ہے تو طریقہ یہ ہے کہ تحریر سے پہلے آپ یہ واضح کردیں کہ اس کا مصنف کوئی اور ہے۔
مجھے نہیں لگتا کہ داڑھی مسلمان کی شناخت ہے یا ہونی چاہئے۔ میرا خیال ہے مسلمان کی شناخت اس کا اعلی کردار، وسیع القلبی، عمدہ اخلاق، اور نیک سیرتی ہونی چاہئے۔ یہی ہمارے دین کا سبق ہے۔ شکلیں مسلمانوں کی سی بنانے کا کیا فائدہ جب ہمارے کردار مسلمانی نہ ہوں؟
Tuesday، 25 March 2008 بوقت 9:27 p
اسلام علیکم،
شاید آپ نے تحریر غور سے نہیں دیکھی یہ اقتباسات کے تحت لکھی ہے اور اس پر میں نے کچھ واضح اس لیے نہیں کیا کیونکہ میں خود اس پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ رہا شناخت کا مسلئہ تو احادیث میں آتا ہے(ترجمہ) کہ جس قوم کا حلیہ اپناؤ گے اس جیسا تمہارے ساتھ سلوک کیا جائے گا۔