توہین رسالت اور ہم
میں نے کہا Wednesday، 9 April 2008توہین رسالت اور ہم
ہفت روزہ ضرب مومن میرے سامنے ہے۔ اس کے خبروں والے پہلے صفحے کی خبروں کا خلاصہ ایک ہی ہے کہ فلاح ملک کے شہریوں نے توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت پر احتجاج کیا، فلاں ملک کی اعلٰی سیاسی شخصیات نے احتجاج کیا، فلاں ملک میں ڈنمارک کے سفیرکی طلبی ۔ ۔ ۔ ۔
کیا ہے یہ سب؟ کیا اس طریقے سے اُن کو آئندہ ان غلط اقدام سے روکا جاسکتا ہے؟ نہیں کبھی نہیں ۔ جب تک ہم عملی طور پر کوئی قدم نہیں اُٹھائیں گے وہ لوگ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئیں گے ۔ پہلے گوانٹا نامو بے میں کی جیل میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے قصے سامنے آئے، احتجاج ہوا لیکن نتیجہ ۔ ۔ ۔ ۔ 2005ء میں توہین آمیز کارٹون شائع ہوئے، احتجاج ہوا نتیجہ ۔ ۔ ۔ ۔ 2008ء میں دوبارہ اشاعت، احتجاج ہوا نتیجہ ۔ ۔ ۔ ۔ توہین آمیز فلم کی ریلیز ہوئی۔ مسلسل احتجاج ہورہا ہے۔ پُتلے ، جھنڈے، ٹائر جلاتے ہیں اور اپنا ہی منہ کالا کرکے گھر چلے جاتے ہیں۔ اگلے دن کے اخبارات کا ایک ہی خلاصہ ہوتا ہے کہ توہین رسالت کے لیے نکالی گئی ریلی/ ہڑتال میں اتنے لوگوں نے شرکت کی، اتنے بینک جلائے اتنی بسیں جلائی اور اتنا نقصان ہوا۔ کیا یہی عشق رسول کے تقاضے ہیں ؟ اپنے گھر کو جلایا اور اپنا ہی نقصان کرکے کہا جاتا ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب افراد نے معافی نہ مانگی تو پھر ایسا ہی احتجاج کریں گے ۔ ۔ ۔ ۔
ایسی حالت میں ہمارے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے، عملی طور پر کچھ کرنا نہیں صرف احتجاج کرکے اپنا منہ کالا کرلیتے ہیں۔ میں احتجاج کو برا نہیں کہتا لیکن پرتشدد نہیں ہونا چاہے اور ساتھ ساتھ کوئی عملی اقدام بھی اُٹھانا چاہیے۔ ہم میں بہت سے لوگ کہتے ہیں ہم کیا کریں ۔ اس کا ایک ہی جواب ہے بائیکاٹ، بائیکاٹ اور بائیکاٹ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں ہر سطح پر توہین رسالت کے مرتکب لوگوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔ بائیکاٹ میں کتنی طاقت ہے اس کا اندازہ آپ کو مفتی ابو لبابہ شاہ منصور کی جانب سے پیش کیا گیا “ ایک ہی علاج “ پڑھ کر اندازہ ہوگا۔
“ایک ہی علاج“
“ایک خبر کے مطابق شیل اور یونی لیور نے کہا ہے کہ اگر ہماری کمپنی کو نقصان ہوا تو ہم فتنہ نامی فلم ساز گریٹ ورلڈ پر مقدمہ کریں گے۔ بچپن میں دادی اماں بچوں کو جو کہانیاں سنایاں کرتی تھیں ان میں ایک ایسے جن کا تذکرہ ہوتا تھا جس کی جان ایک طوطے میں بند تھی۔ طوطے کے کان مڑوڑے جائیں تو جن کے کانوں میں اینٹھنی ہوتی تھی۔ سر پر چپت لگائی جائے جن کو اپنی چندیا میں چانٹا لگتا محسوس ہوتا تھا۔ آج کے مادہ پرست یورپ کی جان پیسے کے طوطے میں بند ہے۔ یہ طوطا ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پنجرے میں مقید ہے۔ ان کے نزدیک اخلاق، روایات، تہذیب، مقدس شخصیات کا احترام کوئی چیز نہیں۔ کسی کی دل آزاری ان کے نزدیک کوئی معنی نہیں رکھتی۔ یہ پیسوں کے ایک ایسے بھوت ہیں جو باتوں کو نہیں مانتے۔ ان کادماغ کو بائیکاٹ کا کوڑا ہی درست کرسکتا ہے۔
1۔ اگر مسلمان اپنی گاڑیاں شیل پیڑول پمپ کے قریب بھی نہ لے جائیں۔
2۔ اگر فلپس کے تیار کردہ آلات کو اپنے حرام کرلیا جائے۔
3۔ اگر یونی لیور سے ایسے نفرت کی جائے جیسے پلید چیزوں سے ہوتی ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو چند دن میں اس جن کی گنجی چندیا میں بھینچا دماغ ٹھکانے آسکتا ہے۔
کاش! ایسا چند دنوں کے لیے ہی سہی ، مسلمان ایسا کر گزریں۔“ (ضرب مومن)
شیل کمپنی نے بائیکاٹ کو غیر موثر کرنے کے لیے انعامی اسکیم شروع کردی ہے۔ اس کی وجہ سے بہت سے لوگ انعام کی لالچ میں وہاں سے پیڑول بھروائیں گے ۔ ۔ ۔ اس کے مقابلے کے لیے .P.S.O بھی انعامی اسکیم کا اجراء کرے۔ ویسے اس کی ضروت نہیں ہے لیکن ہمارا ایمان کمزور ہے جس کے لیے یہ ضروری ہے۔

Thursday، 10 April 2008 بوقت 2:02 p
بھلے بچے ۔ پچیس سال سے پی ایس او کا پٹرول گاڑی میں ڈلوا رہا ہوں ۔
Friday، 11 April 2008 بوقت 12:07 p
انکل سب ہی ایسا کریں تو کیا ہی بات ہے۔
چاہے وقتی طور پر ایسا ہو۔