14 اپریل 2008ء پوپ بینی ڈکٹ 16 ، امریکا کے دورے پر گئے۔ وہ ائر پورٹ پر اُترے تو ہزاروں لوگوں نے ان کا استقبال کیا، جبکہ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش بھی ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔پوپ طیارے سے باہر آئے تو صدر بش نے سر جھکا کر پوپ بینی ڈکٹ کو آداب کیا۔ دونوں بڑی گرمجوشی سے ملے اور وہاں موجود لوگوں نے تالیاں بجا کر پوپ کو خوش آمدید کہا۔ پچھلے آٹھ برسوں میں‌ یہ پہلا موقع ہے جب جارج ڈبلیو بش کسی بھی شخصیت کا استقبال کرنے ائرپورٹ پر تشریف لائے۔ حالانکہ اس سے پہلے دنیا بھر کے حکمران صدر بش کی دعوت پر امریکا تشریف لاتے اورجاتے رہے لیکن صدر بش نے کسی کا استقبال نہیں کیا۔ صدر بش کسی صدر اور وزیراعظم کو ائرپورٹ چھوڑنے آئے اور نہ ہی انہوں نے کسی کا استقبال کیا۔ صدر بش کا پوپ بینی ڈکٹ سولہ کا استقبال صلیبی جنگوں‌ کے اس دور میں‌ ایک حیران کن اقدام ہے اور اسلامی دنیا میں اس اقدام کو بڑی سنجیدگی سے دیکھا جارہا ہے۔
بینی ڈکٹ نے 14 اپریل 2005ء کو پوپ کی باقاعدہ ذمہ داریاں سنبھالیں۔جس وقت اس نے ذمہ داریاں سنبھالی تھیں اس وقت پانچ لاکھ رومن کیتھولک ویٹی کن میں موجود تھےیہ عیسائی تاریخ کا ایک بڑا اجتماع تھا۔ پوپ کو ذمہ داری سونپنے کی اس تاریخ میں‌ ایک دلچسپ پہلو بھی تھا۔ پوپ بنائے جانے کی پچھلی ایک ہزار تاریخ میں پہلی بار تیس دیگر سربراہان مملکت کسی جرمن پوپ کا استقبال کررہے تھے۔ جبکہ جرمنی کے ہزاروں باشندے اس تقریب میں شرکت کے لیے اٹلی پہنچ گئے تھے۔ جب بینی ڈکٹ نے پوپ کی ذمہ داریاں سنبھالی تو ویٹی کن میں‌ موجود پانچ لاکھ افراد نے تالیاں بجاکر پوپ بینی کو خوش آمدید‌‌‌‌‌‌‌ کہا۔اس موقع پر روم میں‌سخت حفاظتی انتظامات کئے گئےتھے۔ شہر میں طیارہ شکن توپیں‌ نصب تھیں اور روم کی تمام فضائی حدود بند کردی گئی تھی۔ سڑکوں پر دس ہزار پولیس اہلکار گشت کررہے تھے اور اطالوی فضائیہ اور نیٹو کے طیارے اٹلی کی فضائی حدود کی نگرانی کررہے تھے۔ یہ عیسائی مذہب کے روحانی پیشوا کی تقریری کی مختصر سی ایک جھلک تھی۔
اگر ہم اس تاریخ کو سامنے رکھ کر اس کا تقابل پاکستان میں علمائے کرام سے کریں تو بڑی تشویش ناک اور افسوس ناک صورت حال سامنے آتی ہے۔ بدقسمتی سے ہماری ساٹھ سالہ تاریخ میں‌ علمائے کرام کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا، اس کو پڑھ، سن، اور دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتے ہیں‌۔ آپ غؤر کریں ایک طرف عیسائی دنیا ہے جو اپنے پوپ کا اس قدر احترام کرتی ہےکہ امریکی صدر تک وائٹ ہاؤس سے نکلتے ہیں‌ اور پوپ کا استقبال کرنے ائر پورٹ جاتے ہیں‌۔ دوسری طرف ہم اور ہمارے حکمران ہیں جو علمائے کرام کو دہشت گرد، جاہل، اُجڈ، اور قدامت پرست قرار دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں‌ ہم عام مسلمان‌ بھی حکمرانوں‌سے کم نہیں، کبھی کہا جاتا ہے علماء نے لاعلمی میں‌ پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے اور کبھی ۔ ۔ ۔ ۔ جس حد تک ہوسکے اپنا حصہ ضرور ڈالتے ہیں۔
ہم اگر چند برسوں کا تجزیہ کریں‌ تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے پوری دنیا میں‌ علمائے کرام اور مذہب پسند لوگوں کو بدنام کرکے رکھ دیا ہے اور پوری دنیا میں علمائے کرام، اسلام پسند اور باریش لوگوں کو دہشت گرد اور انتہا پسند سمجھا جانے لگا۔ ان لوگوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کاروائیاں ہوئیں اور ہزاروں لوگوں‌کو عالم، فاضل، حافظ اور قاری ہونے کے جرم تہ تیغ کردیا گیا۔ بہت سے ڈاکڑوں، انجینئیروں‌ اور کمپیوٹر آپریٹروں کو اغواء کرکے منظر سے غائب کردیا، ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ یہ باریش تھے کسی حد تک اسلام پر عمل پیرا بھی تھے۔ سب سے بڑھ کر ہمارے آقا (امریکا) کو ایک آنکھ نہیں‌ بھاتے تھے۔ اس سلسلے میں‌ جامعہ حفصہ اور لال مسجد کی مثال لے لیجئے۔ لال مسجد اسلام آباد کی ایک تاریخی اور مرکزی مسجد تھی اور جامعہ حفصہ پاکستان کے چند بڑے مدارس میں‌ شمار ہوتا تھا۔ یہ پاکستان کا واحد مدرسہ تھا جس میں‌ پانچ ہزار کے لگ بھگ طالبات دینی علوم سیکھ رہی تھیں۔ ان میں‌ اکثر ایسی طالبات تھیں‌ جن کا کوئی والی وارث نہیں تھا۔ جو اس دنیا میں‌ تنہا تھیں‌ اور مدرسے کی صورت میں‌ انھیں‌ محفوظ چھت میسر تھی۔ اسی طرح‌ لال میں‌ نماز جمعہ کو ہزاروں‌ کا اجتماع ہوتا اور یہاں سے ہر شب جمعہ کو دینی قافلے نکلتے تھے۔ یہ لوگ قرب و جوار میں برائی کے خلاف بھی برسر پیکار تھے اور معاشرے کی اصلاح میں‌ بڑا اہم کردار ادا کرہے تھے۔ یہ لوگ یتیم بچے اور بچیوں کی شادی کراتے، انھیں نان نفقہ فراہم کرتے تھے۔ لیکن پھر کیا ہوا؟
ہمارے حکمرانوں نے ان پر فوجی طاقت ٹھونس دی اور آپ سمیت پوری دنیا جانتی ہے صرف دس دنوں میں اس مسجد اور مدرسے سمیت تین ہزار سے زائد طالبات، سینکڑوں طلبہ اور علامہ عبدالرشید غازی کو شہید کردیاگیا اور جس انداز میں مولانا عبدالعزیز کو گرفتار کیا، جس ہتک آمیز طریقے سے سے انہیں میڈیا پر پیش کیا گیا اس سے بھی پاکستان کا بچہ بچہ واقف ہے۔ قطع نظر اس بحث سے کہ کون غلط تھا مولانا عبدالعزیز یا حکمران، مولانا اس وقت اسلام کے نمائندے تھے کیا اس طرح اُنھیں میڈیا پر پیش کرنا اسلام کی توہین نہیں؟ کیا اسلامی افکار کا مذاق نہیں‌ اُڑیا گیا؟
آپ مولانا عبداللہ شہید، مولانا یوسف لدھیانوی، مفتی نظام الدین شامزئی، مولانا اعظم طارق، مفتی حبیب اللہ مختار، مفتی عبدالسمیع، مفتی جمیل، مفتی عتیق الرحمٰن اور دیگر شخصیات کو ہی لیجئے۔ ان لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا گیا اور انھیں کس طرح دیدہ دلیری سے شہید کیا گیا؟ آپ علاقہ جات میں جاری آپریشن کو دیکھ لیجئے۔ یہ آپریشن بھی بنیادی طور پر مذہبی لوگوں‌کے خلاف ہے۔ یہ لوگ مذہب پسندہیں ان کی روایات اور کلچر میں‌ مذہب کا رنگ غالب نظر آتا ہے چنانچہ ہمارے امریکا نواز حکمرانوں نے ان لوگوں کے خلاف آپریشنز شروع کیے اور ہزاروں لوگوں کو بغیر کسی وجہ سے شہید کردیا۔ آپ باجوڑ مدرسے پر بمباری کو ہی لے لیجئے۔ اس مدرسے پر گن شپ ہیلی کاپڑوں سے بمباری کی گئی اور کہا یہ گیا کہ ان لوگوں کو دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے۔ آج دنیا کے کسی بھی ملک میں کہیں بھی بم حملہ ہوتا ہے، دھماکہ ہوتا ہے، ایکسیڈینٹ ہوتا ہے، طیارہ گرتا ہے یا ہائی جیک ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ کوئی آدمی اغوا کیا جاتا ہے یا کہیں زلزلہ ہی آجاتا ہے تو اس کا ذمہ دار بھی مسلمانوں کو ٹھرایا جاتا ہے۔ بے گناہ مسلمانوں کو القاعدہ اور اُسامہ بن لادن کا ساتھی قرار دے کر گوانتا ناموبے جیسی جیلوں میں بند کردیا جاتا ہے۔ باریش طلبہ کو دہشت گرد اور انتہاپسند قرار دیتے ہیں اور باپردہ اور مذہب پسند خواتین کو قدامت پرست کہا جاتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے عیسائی دنیا اپنے رہنماؤں کو وی وی آئی پی پروٹوکول دے، ان کا استقبال کے لیے سپر پاور امریکا کا صدر تک ائرپورٹ پہنچ جائے۔ لاکھوں ہزاروں‌ لوگ اپنے پوپ کا پرجوش استقبال کریں اور ہم اپنے علمائے کرام کو دہشت گرد اور انتہا پسند قرار دے دیں . . . .
یہ انتہائی قابل افسوس اور باعث شرم بات ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ علمائے کرام انبیاء کرام کے کے وارث ہیں۔“ اور ہم ان وارثوں کے ساتھ کیا سلوک کررہے ہیں‌؟ کبھی ہم نے اور ہمارے حکمرانوں‌ نے اس بارے میں‌ سوچا۔ یقین کیجئے اگر ہمارا اور ہمارے حکمرانوں کا علمائے کرام کے خلاف ایسا ہی ناروا رویہ برقرار رہا تو وقت دور نہیں جب ہمیں نماز جنازہ پڑھانے کے لیے بھی کوئی عالمِ دین نہیں ملے گا۔

(نوٹ: یہ تحریر ہفت روزہ ضرب مومن میں‌ فرق کے عنوان سے یاسر محمد خان نے لکھی تھی جو کافی طویل ہے میں نے اس میں کچھ کاٹ اور کچھ اپنی طرف سے بڑھا کر یہاں پیش کی ہے۔ اصل اور مکمل تحریر پڑھنے کے لیے ضرب مومن 25 اپریل تا یکم مئی 2008ء دیکھئے۔)