مچھر کا الٹی میٹم محسن کش قوم
May 28

28 مئی 1998ء کا سورج پاکستانی عوام کےلیے ایک بہت بڑی خوشخبری لے کر طلوع ہوا۔ اس دن پاکستان نے بظاہر ناممکن منزل تک پہنچ کر ایک اہم اعزاز حاصل کیا۔
منزل ایسی جس پر سفر سے شروع سے لے کر اختتام کے بعد تک انتہائی پریشانیاں، پابندیاں اور دھمکیاں ملتی رہیں۔اس دن کو قوم نے خصوصی خطاب دے کر قومی تہوار کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن افسوس صد افسوس ہمارا تعلق ان لوگوں سے ہے جو اپنی چیزوں سے محبت کرنے کی بجائے دوسروں کی روایات، رسم ورواج اپنا کر خوش ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنی تاریخ اور مختلف کارناموں کے بارے میں علم یا یاد نہیں ہوتا لیکن ویلنٹائن ڈے، بسنت اور نیو ائر نائٹ اس طرح مناتے ہیں کہ خود ان تہواروں کے وارث بھی سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں یہ اتہوار ہمارا ہے یا مسلمانوں کے۔
زیادہ پرانی نہیں صرف دس سال پہلے کی بات ہے ہم نے 28 مئی کو یوم تکبیر کا نام دے کر بھول گئے ۔ بہت سے لوگوں کو یہ تحریر پڑھ کر یاد آئے گا آج یوم تکبیر ہے۔ اسی طرح میں نے 23 مارچ کے بارے میں ایک تحریر لکھی تھی کہ کسی نے اس دن کو وش نہیں کیا۔ یوم تکبیر کو چھوڑئیے اپنی ایٹمی طاقت کے موجد ڈاکڑ عبدالقدیر خان کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ ہماری نسبت کو کس عزت سےنوازا۔ ہم نے اپنے محسن کو بے شمار بیماریوں کے ساتھ اُسی کے گھر قید کردیا۔ کوئی اس محسن کے لیے کچھ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کیا ہم اتنے بے حس اور گرے ہوئے ہیں جو قرارداد پاکستان ، یوم تکبیر کے علاوہ اپنے محسن کو بھی بھول گئے۔
جس کی وجہ سے پاکستان دنیا کے طاقتور ترین ملکوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

نوٹ: میرے ذہن میں ڈاکڑ عبدالقدیر کے لیے کچھ تجاویز ہیں انشاءاللہ جلد ہی یہاں پیش کروں گا۔

5 آراء دي گئيں برائے ”یوم تکبیر“

  1. ماوراء رقمطراز ہيں:

    ہم وہ قوم ہیں، جو اپنوں کی قدر نہیں کرتے اور دوسروں کے پیر چاٹتے ہیں۔

  2. ماوراء رقمطراز ہيں:

    یومِ تکبیر مبارک۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمارے ملک کو ترقی دے اور مخلص رہنما عطا کرے۔ آمین۔

  3. شاہدہ اکرم رقمطراز ہيں:

    زاہد صاحب
    السلامُ عليکُم
    بھائ نا ہی کوئ بُھولا ہے اور نا ہی بُھولتے ہيں ايسے دن ليکن ہو سکتا ہے ہم لوگ اپنی مُحسن کُشی ميں اتنے آگے جا چُکے ہيں کہ ياد رکھنے کی باتوں کو بُھولنے ميں ہی عافيّت سمجھتے ہيں چاغی کے پہاڑوں پر برسوں سے پڑی گرد کے ساتھ جب اللہُ اکبر کی صدا بُلند ہُوئ تھی تو پہاڑوں نے بھی اپنا رنگ تبديل کر ليا تھا بُھورے رنگ کے خُشک بيابان آوازوں سے زندہ ہو گۓ تھے ليکن شايد ہم ان لمحات کو کہيں رکھ کر بُھول گۓ ہيں جيسے اپنے عظيم سائينس دان کو نظر بند کر کے ہم سوچتے ہيں ساری دُنيا کی آنکھوں سے بلّی اوجھل ہو گئ ہے حقيقت کوکبھی جُھٹلايا نہيں جا سکتا خواہ کتنے بھی پردوں ميں کيُوں نا چُھپا ديا جاۓ ،ليکن ہم سلام کرتے ہيں اپنے اس ہيرو کو جس نے صرف مُلک کے لۓ سوچا اپنی ذات کو پسِ پُشت ڈال ديا
    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/05/080528_qadir_explains_rza.shtml
    ہو سکے تو بی بی سی کی اس سائيٹ کو پڑھ کر مزيد حقيقت کو جانيں دُعا ہے کہ ہم اپنے مُحسنوں کو صرف ايک دن تک محدُود نا کريں کہ لوگ يہ کہيں
    اب يہ نا کہيں گے اہلِ وطن ہم دن ہی منايا کرتے ہيں
    دُعاگو
    شاہدہ اکرم

  4. شاہدہ اکرم رقمطراز ہيں:

    زاہد صحاب آپ کی تجاويز کا انتظار ہے ليکن يہ بھی ضرُور بتائيے گا کہ آپ اس مُحسن اعظم تک اپني يہ تجاويز کيسے پہنچائيں گے فی الحال تو ہم اُن کی صحت اور سلامتی کے لۓ دُعاگو ہيں اور ميں جزبات ميں اتنی بہہ گئ کے يومِ تکبير کی مْبارکباد دينا ہی بُھول گئ ،آپ کو بھی يہ دن مُبارک ہو بقول ماوراء ہم کتنے عجيب لوگ ہيں جو اپنوں کی قدر نہيں کرتے جبکہ پڑوسی مُلک کے لوگوں نے ايسی ہی شُہرت رکھنے والے سائينس دان کو مُلک کا صدر بنا ديا اور ہم، واۓ افسوس
    خير انديش
    شاہدہ اکرم

  5. شکاری رقمطراز ہيں:

    ماورہ اور شاھدہ : آپ دونوں کا بلاگ پر آنے اور اپنی قیمتی رائے سے نوازنے کا شکریہ
    آپ دونوں کو بھی یوم تکبیر مبارک ہو۔ میری تجاویز کو ڈاکڑ صاحب تک پہنچانے کی ضرورت نہیں ہاں البتہ اس پر عمل ہم نے کرنا ہے انشاءاللہ بہت جلد پوسٹ کروں گا۔ اصل مسلئہ لوڈشیڈنگ کا ہے ابھی فی الحال جاوید چوھدری کا کالم پڑھئے۔
    شاھدہ آپ نے بہت کام کا لنک دیا اس کا بہت بہت شکریہ۔

اپني رائے يہاں تحرير کريں

Englishاردو

Englishاردو