سب کو معلوم ہے انڈیا اور پاکستان دونوں نےقریب قریب ایک ساتھ ہی ایٹمی سائنسدانوں نے بہت محنت کے بعد اس منزل کو حاصل کیا۔ جس پر عوام نے انھیں اپنا ہیرو قرار دے دیا۔ انڈیا نے اپنے سائنسدان کو صدر کا عہدہ دے کر اُن کی عزت افزائی کی لیکن ہم نے اپنے ہیرو ڈاکڑ عبدالقدیر خان کو قید یا نظر بند کرکے عزت دی ۔ کہا جارہا ہے اُنھیں بوجہ مصلحت نظر بند کیا ہے وہ بے قصور ہیں ، وقت آنے پر اُنھیں رہا کردیا جائے گا۔
لیکن قوم کسی حد تک اُنھیں بھول چکی ہے۔ یقیناً ڈاکڑ صاحب کو بھی اس کا احساس ہوگا، یہ کیسی بے حس قوم ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میں نے کہا تھا میرے ذہن میں ڈاکڑ صاحب کے لیے چند تجاویز ہیں ، جو میں یہاں پیش کررہا ہوں۔
بلاگنگ کی لائن میں ہم کم از کم 40،50 افراد ہیں جو ایک دوسرے کو جانتے ہیں ۔ اگر ہم سب مل کر ایک گروپ بنالیں اور اس گروپ کا روزانہ ایک رکن ایک تہنتی کارڈ ڈاکڑ عبد القدیر خان کو پوسٹ کرے گا۔ اس طرح اگر گروپ کے صرف 30 رکن بھی ہوئے تو ہر رکن کو ایک مہینے میں ایک کارڈ پوسٹ کرنا پڑیگا۔ لیکن ڈاکڑ صاحب کو روزانہ ایک کارڈ موصول ہوگا۔ میرے خیال سے ایک کارڈ کا خرچہ کسی کے لیے کوئی بوجھ نہیں بنے گا۔
اس طریقے سے ہم ڈاکڑ صاحب کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کرسکتے ہیں ۔ اگر ارکان میں اضافہ ہوگیا تو روزانہ ایک رکن کی بجائے دو رکن ہوجائیں گے۔ ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ تمام ارکان مہنے کی یکم تاریخ کو ایک ایک کارڈ اور پھر روزانہ ایک رکن ایک کارڈ پوسٹ کریں گے۔ اس طرح دو کارڈ کا خرچہ برداشت کرنا ہوگا۔
آپکی تجاویز کا انتظار رہے گا۔
June 1st، 2008 بوقت 12:30 p
تو شروع کرو نہ بھائی
June 1st، 2008 بوقت 5:04 p
محب بھائی مزید دوستوں کا انتظار ہے۔
June 1st، 2008 بوقت 9:40 p
میرا تجربہ یہ کہتا ہے کہ جس نے دوسروں کی طرف دیکھا وہ دیکھتا رہ گیا اور جس نے کرنا تھا وہ کر گذرا ۔ جو کارڈ ڈاکٹر صاحب کو بھیجا جائے اس میں نیک تمناؤں کا اظہار کیا جائے اور کارڈ مدبرانہ ہو ۔ اگر بامعنی پھول بنے ہوں تو بھی ٹھیک ہے ۔ کونسا پھول کیا ظاہر کرتا ہے وہ آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں
http://www.geocities.com/Heartland/Village/3491/roses1.html
June 2nd، 2008 بوقت 4:51 p
یه تو بہت هی اچھی تجویز ہے !ـ
آپ ڈاکٹر صاحب کا ایڈریس تو دیں ـ
پھر ميں کتنے هی لوگوں سے پوسٹ کارڈ لکھوا سکتا هوں اور میں بھی تو لکھوں گا ناں جی
اپنے ڈاکٹر صاحب کو !ـ
June 2nd، 2008 بوقت 9:31 p
انکل۔ دوسروں کی طرف اس لیے دیکھ رہا ہوں تاکہ یہ کام منظم طریقے سے شروع کیا جاسکے۔کارڈ کے بارے میں معلومات دینے کا شکریہ
خاور بھائی ڈاکڑ عبدالقدیر خان کے گھر کا ایڈریس معلوم ہوگیا ہے جو درج ذیل ہے۔مکان نمبر نہیں معلوم لیکن انشاء اللہ اتنے ایڈریس پر پہنچ جائے گا۔
عبدالقدیر خان
گومل روڈ ۔ ای ۔ 7 ۔ اسلام آباد
June 2nd، 2008 بوقت 10:58 p
زاہد صاحب
السلامُ عليکُم
انشاءاللہ کل صُبح پہلا کام يہی ہوگا ليکن اگر اُن کے پوسٹل ايڈريس کے ساتھ ساتھ ميلنگ ايڈريس بھی مل جاتا تو ابھی يہ کام کر ديتی اللہ تعاليٰ ہمارے اربابِ اقتدارکو بھی اپنی غلطياں سُدھارنے کا موقع دے اور ہميں بھی اس کی سُدھ بُدھ عطا کرے کہ ہم ہر کام وقت پر کر ليا کريں مُحسنوں کے ساتھ مُحسنوں کا سا سلُوک کر پائيں اوراُن کو اُن کا صحيح مُقام ديں جس کے وہ حقدار ہوں،آمين
خيرانديش
شاہدہ اکرم
June 2nd، 2008 بوقت 2:01 p
زاہد صاحب ميرے پچھلے تبصرے ميں ايک لفظ غلط لکھا گيا ہے ہو سکے تو درُست کر ديں صحيح کو ميں صحعح لکھ گئ ہُوں شُکريہ
شاہدہ اکرم
June 2nd، 2008 بوقت 5:43 p
شاہدہ آپی میں نے آپکی کمنٹس ایڈیٹ کر دی ہے۔ اور ای میل ملنا بہت مشکل ہے۔
سب دوستوں سے درخواست ہے وہ اپنے طور پر کارڈ پوسٹ کرنے شروع کردیں۔ جب مزید لوگ اس میں شامل ہوجائیں گے تو یہ کام ترتیب سے شروع کریں گے ۔
انشاءاللہ
June 10th، 2008 بوقت 7:52 p
[...] دن پہلے میں نے ایک تجویز پیش کی تھی کہ ہم ڈاکڑ عبدالقدیر خان کے ساتھ اپنی عقیدت [...]