دکھتی رگ
مشاہدات Saturday، 13 September 2008اُردو محفل پر زیک نے ایک نیا سلسہ اجتماعی انٹرویو کا شروع کیا۔ اس میں انھوں نے پہلا سوال رکھا کہ آپ کو کونسی آواز بری لگتی ہے ان کا یہ سوال میری دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنے کے مترادف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری دوکان کے سامنے والی تین چار دوکانیں بند پڑی ہیں جہاں پر دوسرے دوکان دار اپنے گلاس اور پلیٹیں دھوتے ہیں۔ اور ساتھ ہی وہاں کی دیواریں بھی لال کرتے رہتے ہیں۔ لیکن دوسرے راہ گزر بھی موقع کو ضائع کرنا مناسب نہیں سمجھتے اور خالی جگہ سے بھر پور فائدہ اُٹھاتے ہوئے وہاں رک کر پہلے گلے سے ایک عجیب سی آواز نکالتے ہیں کچھ کی یہ آواز لمبی ہی ہوتی چلی جاتی ہے اور پھر گلے سے ریشہ برامد کرکے ادائے بے نیازی سے ہماری آنکھوں کے سامنے پھینکتے ہوئے چلتے بنتے ہیں۔اب آدمی کس کس کو روکے وہاں سے ہزاروں لوگ گزرتے رہتے ہیں۔اگر کس کو ریشہ کی تکلیف نہ ہو تو وہ بھی موقع کو ضائع کرنا مناسب نہیں سمجھتا بلکہ پان کی پیک پر ہی اکتفا کرلیتا ہے۔
اصل پریشانی تب ہوتی ہے جب ہم کھانا کھا رہے ہوں اور ہماری آنکھوں کے سامنے یہ سارا عمل بھی جاری و ساری رہتا ہے۔ فرض کریں جب آپ نوالہ منہ میں ڈال رہے ہوں عین اس وقت کوئی وہاں آکر رکے اور ریشہ پھینکنے کی کوشش کرے تو آپ کا ردعمل کیا ہوگا۔
1- برداشت کریں گے اور اب تک کھائی ہوئی روٹی کو واپس باہر آنے سے روکنے کی کوشش کریں۔
2- وہاں لوگوں کو منع کریں گے (کتنے لوگوں کو منع کریں گے اور کب تک؟)

Sunday، 14 September 2008 بوقت 1:14 p
یہ تو ویسی ہی بات ہو گءی کہ ہمارے مسجد کے مولوی صاحب فجر کی نماز کے بعد الٹی سے روزہ ٹوٹنے کی اتنی تفصیل بتانے لگے کہ ٓدھے نمازی الٹی کرنے والے ہو گءے
آپکا اردو ایڈیٹر صحیح کام نہیں کر رہا
Friday، 03 October 2008 بوقت 3:24 p
Monday، 03 November 2008 بوقت 10:01 p
بھائی یہ پاکستان ہے جب پاکستان سے باہر جاتے ہیں تو وہاں پر یہ سرراہ پھینکے پر جرمانہ ہوتا تو پھر کہتے ہیں کہ پاکستان میں ہی آزادی ہے یہ نہیں سوچنا کہ پاکستان کو گندہ ہم نے کر رکھا ہے