برکاتِ الیکشن
سیاسی باتیں Thursday، 21 February 2008 اسلام علیکم ،
میرے گھر کے پاس کچی آبادی ہے جہاں زیادہ ترغریب لوگ رہتے ہیں۔ ہمارے محلے میں ہر ہفتے یوٹیلٹی اسٹور کی طرف سے اشیاء خوردونوش کا سامان لیے ایک ٹرک آتا ہے۔ جس سے غریب لوگوں کے ساتھ ساتھ ہم جیسے متوسط طبقے کا بھی فائدہ ہو جاتا، ایک تو سارا دن لمبی قطار میں کھڑا نہیں ہونا پڑتا، دوسرا یہاں سے چھوٹا بھائی بھی باآسانی خریداری کر لیتا ہے، ورنہ ہمیں اپنی دوکان کی ٹائمنگ میں رودوبدل کرکے لمبی قطار میں لگنا پڑتا تھا۔ لیکن آج تو بھائی لوگوں نے حد ہی کر دی، جیسے ہی ٹرک آیا تو انھوں نے یہ کہہ کر کچی آبادی کے مکینوں کو پیچھے کر دیا کہ: “آپ لوگوں نے ہماری پارٹی کو ووٹ نہیں دیا تھا، یہ اُن کے لیے ہے جس نے ہمیں ووٹ دیا تھا۔“ اس کے بعد پارٹی کے ارکان نے اس سے خریداری کی(شکر ہے خریداری کی لوٹا نہیں اگر لوٹ لیتے تو ہم کیا کر لیتے)۔ ان خریداروں میں بھی زیادہ تر صاحب حثیت تھے۔ اس کے بعد جو بچا وہ ان غریب لوگوں نے خریدا۔ ہمیں تو خیر کوئی مشکل نہیں ہوئی کیوں کہ ابو کا ووٹ انھی نےلیا تھا۔ اصل سوال یہ ہے کہ:
ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے؟
کیا یہ اپنے ہر فعال میں آذاد ہیں؟
ابھی ان کے اَمیدوار جیتے ہیں تو یہ حال ہے جب ان کی گورنمنٹ بنے گی تو عوام کا کیا بنے گا؟

Recent Comments