تکلف چھوڑیے، بے تکلف ہوجایے۔ ماشاءاللہ بڑا مشورہ ہے۔ لیکن یہ بھی سوچیے کہ اگر ہم نے تکلف چھوڑ دیا تو نقصان آپ ہی کا ہوگا۔ ویسے ہم خوب جانتے ہیں‌کہ تکلف کو کب چھوڑنا ہے اور کب پکڑنا ہے۔ اگر ہم کسی پُر تکلف دعوت میں جاتے ہیں تو وہاں خود بہ خود بے تکلف ہوجاتے ہیں، کوں کہ ہن جانے ہیں‌کہ جب انواع واقسام کے لذیذ کھانے مامنے موجود ہوں تو تکلف کرنا ایسا ہی ہے جیسے خدا کی نعمتوں سے منکر ہوجانا۔ مگر جب کوئی بے تکلف دعوت ہوتی ہے جس میں کوئی خاص اہتمام نہیں ہوت اتو ہم خود بہ خود پُر تکلف ہوجاتے ہیں۔ پہلی صورت میں ہماری بے تکلفی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اپنا پیٹ لذیذ کھانے اور خدا کی نعمتوں ٹچاٹچ بھر لیں، اور دوسری صورت میں میں ہمارے پُر تکلف ہوجانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو سیدھے سادے اور بدمزہ کھانے سے محفوظ و مامون رکھیں۔
ویسے ہمارا ذاتی خیال یہ ہے کہ میزبان اور مہمان اگر دونوں پُرتکلف ہوں تو تب بھی حساب فہمی کے معاملہ میں کافی چوکس رہتے ہیں۔آپ نے وہ لطیفہ تو سنا ہوگا کہ ایک پُر تکلف صاحب کسی سے ملنے کے لئے گئے تو میزبان نے اس کے سامنے رس گلے لاکر رکھ دیے۔ یہ صاحب پہلے تو تکلف کرتے رہے، لیکن میزبان کے بے حد اصرار پر انھوں نے رس گلے کھانے شروع کردیے۔یہ منع کرتے رہے ،لیکن بے تکلف میزبان ان کی پلیٹ میں رس گلے ڈالتا چلا گیا۔ کچھ دیر بعد جب میزبان نے ایک رس گلا مہمان کی پلیٹ میں ڈالنے کی کوشش کی تو پُر تکلف مہمان نے کہا، “صاحب! آخر میں کتنے رس گلے کھاؤں گا؟ پانچ تو ویسے ہی کھا چکا ہوں۔“ اس پر بے تکلف میزبان نے فوراً کہا۔ “حضور! ویسے تو آپ نے پانچ نہیں ‌بلکہ چھے رس گلے کھائے ہیں، لیکن پھر بھی ایک اور رس گلا کھانے میں کیا قباحت ہے۔“ اتنا سننا تھا کہ مہمان کے ہاتھ سے پلیٹ گر گئی۔
آپ نے غور فرمایا کہ مہمان تو پرتکلف تھا، لیکن تکلف تکلف میں اس نے رس گلے کھائے تھے اور دوسری طرف میزبان کی بے تکلفی کا یہ عالم تھا کہ وہ مہمان کے سامنے بیٹھا کھائے جانے والے رس گلوں کی گنتی کررہا تھا۔
اصل میں اب زمانہ بدل گیا ہے۔ چناچہ مہمان نوازی اور میزبانی کے آداب بھی اب بدلنے چاہییں۔میزبان بھی کنگال اور مہمان بھی کنگال تو تکلف میں سوائے تکلیف کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
پتا نہیں ہمارے معاشرے میں تکلف کو اتنی اہمیت کیسے حاصل ہوگئی۔ایک زمانہ ضرور ایسا تھا جب ہمارا معاشرہ تکلف کے بوجھ کو ہنسی خوشی برداشت کرلیتا تھا۔ ہماری آبادی بھی اتنی نہیں‌ تھی۔ ہر طرف فراغت کا دور دورہ تھا۔لوگ گھنٹوں خوش گپیوں اور خوش فعلیوں میں گزار دیتے تھے۔فرصت کے رات ودن اتنے تھے کہ تصورِجاناں کرنے بیٹھ جاتے تو کئی کئی دن بیٹھے رہتے تھے۔ ہر کام تکلف کے ساتھ ہوتا تھا۔ لوگ تکلف تکلف میں شادیاں کرتے تھے اور اسی تکلف تکلف میں بچے بھی پیداکرلیتے تھے۔ سب کچھ تکلفاً ہوتا تھا۔ پھر ایک زمانہ وہ آیا جب لکھنؤ کے دو نواب ریلوے اسٹیشن پر ملے تو ان دونوں‌ کے بیچ ایک دوسرے کا احترام کرنے کا پُر تکلف مقابلہ شروع ہوگیا۔ گاڑی اسٹیشن پر آکر رکی تو ایک نے کہا، “حضور! پہلے آپ گاڑی میں قدم رکھیں گے۔“دوسرے نے کہا، “جی نہیں‌، حضور! آپ بزرگ ہیں، پہلے آپ قدم رکھیں گے۔“
پہلے نے کہا، “حضور!میں بزرگ ہوں تو کیا ہوا، مرتبے میں آپ بڑے ہیں۔ پہلےآپ قدم رکھیں گے۔“ اس پر “پہلے آپ، پہلے آپ“ کا جو پُرتکلف دور شروع ہوا تو ٹرین کے گارڈ نے محسوس کیا کہ ان دونوں نوابوں کے تکلف میں گاڑی لیٹ ہوتی جارہی ہے، لٰہذااس نے پوری بے تکلفی کے ساتھ ہری جھنڈی ہلا دی اور ٹرین بھی بے تکلفی کے ساتھ نکل گئی اور دونوں نواب پلیٹ فارم پر اپنے رتبے اور بزرگی کا جائزہ لیتے رہ گئے۔
جب ٹرین ایجاد نہیں‌ہوئی تھی تو ہمارے معاشرے میں تکلف کی گنجائش ضرور تھی۔ “پہلے آپ پہلے آپ“ کا تکلف اس وقت اچھا معلوم ہوتا ہے جب آپ اپنے گھر کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی بزرگی اور رتبے کا جائزہ لینا شروع کریں اور دو چار گھنٹوں کی بحث کے بعد اس نتیجے پر پہنچیں کہ پہلے کس کو گھر کے اندر قدم رکھنا ہے، کیوں کہ گھر کا گارڈ نہیں ہوتا اور اگر ہوتا بھی ہے تو اس کے پاس کوئی ہری جھنڈی نہیں ہوتی۔
آپ یقین کیجیے، بچپن میں ہم بھی بہت پُر تکلف ہوا کرتے تھے، بلکہ آج بھی تکلف ہماری رگ رگ میں سمایا ہوا ہے۔ ہماری تربیت ہی کچھ ایسی ہوئی ہے کہ کردار میں کچھ ہو یا نہ ہو، تکلف ضرور تھا۔ اسی تکلف کا نتیجہ تھا کہ ہم اپنے زمانہ طالب علمی میں جاہل بنے رہے۔ استاد کوئ سبق پڑھا دیتا اور یہ ہماری سمجھ میں نہ آتا تو ہم تکلف تکلف میں استاد کو یہ نہیں بتاتے تھے کہ سبق ہماری سمجھ میں نہیں‌آیا ہے۔ نتیجے میں ہمارا نتیجہ خراب ہوجاتا تھا۔
جب تک ہم ایک چھوٹے سے قصبے میں رہے، ہم اور ہمارا تکلف دونوں ہی ٹھیک ٹھاک رہے۔ لیکن جیسے ہی ہم ایک بڑے شہر میں منتقل ہوئے، ہمارے تکلف نے لنگڑانا شروع کیا۔ ابتدا میں ہمارا قیام ہاسٹل میں تھا۔ آپ تو جانتے ہیں‌ کہ ہاسٹلوں میں افراتفری اور نفسانفسی کا عالم ہوتا ہے اور نفسانفسی کا عالم ہمیشہ تکلف کا دشمن ہوتا ہے۔
ہمیں یاد ہے کہ ہم ہاسٹل میں بھوکے ہی رہے، کیوں کہ قصبے میں کھانے پینے کے جو پُرتکلف آداب ہوا کرتے تھے، وہ ہاسٹل میں بالکل مفقود تھے۔ قصبے میں یہ ہوتا تھا کہ کھانا ہم پر ٹوٹ پڑتا تھا اور ہم حتی الامکان کھانے سے دور رہنے کی کوشش کرتے تھے۔ چھوٹے چھوٹے نوالے بنا کر منھ میں ڈالا کرتے تھے۔ بلکہ جگالی تک فرماتے تھے۔ ہاسٹل میں آئے تو دیکھا کہ یہاں کھانے کے آداب ہی مختلف ہیں۔ یہاں آدمی کھانے پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ جو چیز بھی سامنے نظر آجائے، اسے فوراً پلیٹ میں اتارلیتا ہے۔ یہاں اس بات کا انتظار نہیں‌ہوتا کہ دوسرا آدمی کھانا کھالے تو آپ کھانا لیں۔ اکثر ایسا بھی ہوتا کہ ہم بڑی محنت کے بعد تھوڑا سا کھانا اپنی پلیٹ میں اُتار لیتے تو کوئی ساتھی ہماری پلیٹ لے کر بھاگ جاتا تھا۔‌چھوٹے چھوٹے نوالے بناکر کھانا ہمارے بس میں نہیں رہا۔ پیٹ بڑا بدکار تو ہے ہی، کچھ دن بھوک کو برداشت کیا، بعد میں جب بھوک نے زور مارنا شروع کیا تو ہم نے تکلف کو بالائے طاق رکھا اور آستینیں چڑھا کر کھانا کھانے لگ گئے۔ ایک منزل تو وہ بھی آئی جب ہم ڈائننگ ہال میں پہنچتے تھے تو لوگ اس ڈر سے بھاگ جاتے تھے کہ ہم کھانا کھانے کے لیے آرہے ہیں۔
ہمارے کھانے کے تیور ہی یکسر بدل گئے، کیوں‌کہ ہم کھانا کیا کھاتے تھے، اپنی پہلوانی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ چھوٹے چھوٹے نوالے بنا کر کھانے کیا سوال پیدا ہوتا ہے، ہم تو نوالہ بھی منھ سے بڑا بناتے تھے۔
کھانے کے آداب میں‌سے تکلف کو برخاست کرنے کے بعد ہماری صحت ٹھیک رہنے لگی۔ اب دوسر ےمعاملوں کو تکلف سے پاس کرنے کا مرحلہ تھا۔ مثال کے طور پر بس میں‌سوار ہونے کے معاملے میں ہم بہت پُرتکلف تھے۔ بسیں آتیں اور گزر جاتیں اور ہم تکلف تکلف میں بس اسٹاپ پر کھڑے کے کھڑے رہ جاتے۔ کہیں جانے کے لیے ہم اپنی داڑھی بنا کر بس اسٹاپ پر کھڑے ہوجاتے تھے اور دوسرے مسافروں کو بس میں سوار ہونے کا موقع عنایت کرتے جاتے تھے۔ ایک نوبت ایسی بھی آتی تھی، جب ہماری داڑھی بڑھ جاتی تھی اور ہم بس اسٹاپ سے گھر واپس آجاتے تھے کہ دوبارہ داڑھی بنالیں۔
آخر کو ہم نے بس میں‌ سوار ہونے کے آداب بدل ڈالے۔ اگر بس ساٹھ کلومیڑ فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی چل رہی ہوتو ہم اس میں‌ سوار ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مسافروں کی چاہے کتنی بھیڑ کیوں نہ ہو، ہم اس بھیڑ کو چیرنے کا ہنر جان گئے ہیں‌۔ایسا نہ کرتے تو ہم زندگی بھر بس اسٹاپ پر ہی کھڑے رہ جاتے۔ سچ تو یہ ہے کہ تکلف میں‌اپنی زندگی کا بڑا حصہ ہم گنواچکے ہیں۔
ہماری شادی بھی محض‌اس لیے دیر سے ہوئی کہ جس لڑکی سے ہم شادی کرنا چاہتے تھے، اس سے اظہارِعشق کرنے میں ہم نے‌ تکلف سے کام لیا۔نتیجے میں‌ایک بے تکلف رقیب سے اس کی شادی ہوگئی۔ بعد میں جو دوسری لڑکی پسند آئی تو اس سے اظہارِعشق کرنے میں ہم اتنے بے تکلف ہوگئے کہ اس سے پٹتے پٹتے بچے، مگر وہ تھی بڑی سمجھ دار ۔ ۔ ۔ اس نے سوچاکہ ہمیں‌ایک بار پیٹ دینے سے اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوگا۔ اس نے سوچا کہ ہم سے شادی کرلینا ہی بہتر ہے تاکہ زندگی بھر ہماری بے تکلفی کا بھر پور بدلہ لے سکے۔ سو اس لڑکی سے ہماری شادی ہوگئی اور ہماری زندگی کا جو حال ہے، وہ سب پر عیاں ہے۔ اب ہماری زندگی میں تکلف نام کی کوئی چیز نہیں‌ رہ گئی ہے۔
ہاں، دعوتوں‌ وغیرہ میں ضرور تکلف سے کام لیتے ہیں‌۔ لیکن اس تکلف سے بچنے کے بھی ہم نے کئی طریقے ایجاد کررکھے ہیں، مثلاً دسترخوان پر ہم ہمیشہ کسی قریبی دوست کے ساتھ بیٹھتے ہیں کہ وہ تکلف تکلف میں کھانے کی ہماری پسندیدہ چیزیں ہماری پلیٹ میں ڈالتا چلا جائے اورہم جواباً اس کی پلیٹ میں‌ اس کی پسندیدہ چیزیں ڈالتے جائیں‌ گے۔دعوتوں‌میں یہ اچھا نہیں‌لگتےا کہ آپ خود اپنی پلیٹ میں‌کھانا ڈالتے جائیں۔ کوئی دوسرا آپ کی پلیٹ میں کھانا ڈالے تو یہ الگ بات ہے۔ اس طرح تکلف کا دامن بھی ہمارے ہاتھ سے نہیں چھوٹتا اور ہم سیر ہوکر کھانا بھی کھالیتے ہیں۔
زندگی کے کئی برس اس دنیا میں‌ گزارنے کے بعد ہمارا خیال یہ ہے کہ تکلف ایک خاص ماحول میں اچھا ضرور لگتا ہے، لیکن اگر یہ حد سے تجاوز کرجائے توتکلیف کا سبب بن جاتا ہے۔ اس لیے ہمارا مخلصانہ مشورہ یہ کہ قبلہ تکلف کو چھوڑیے اور اپنے آپ کو عذاب سے بچایے۔

یہ مضمون کامیابی ڈائجسٹ میں مجتبٰی حسین کے نام سے شائع ہوا ہے۔

خواجہ حسن نظامی

اپنی آپ بیتی میں خواجہ صاحب لکھتے ہیں: “ میرا نام علی حسن عرف حسن نظامی ، والد نام سید عاشق علی، پیدائش کا مقام بستی درگاہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا پرانی دہلی ہے اور وہیں آج کل اقامت ہے۔ معاش کتابوں اور دواؤں کی تجارت پر ہے تعلیم عربی ، فاسی اور اردو۔
تیرھویں صدی کے خاتمے کے قریب 1369ھ میں 2محرم کو جمعرات کے دن صبح صادق کے وقت حسن نظامی پیدا ہوئے۔ خاجہ صاحب اردو کے باکمال وبے مثال ادیب تھے ۔ جنھوں نے اپنی تحریروں سے نثر کو امر کردیا۔ ان کی ساری عمر ارضی مسائل کو سلجھانے میں ہی گزری۔ ان کو سماج کے دھتکارے ہوئے اور پچھڑ جانے والے لوگوں سے خصوصی لگاؤ تھا۔ انھوں نے اس قسم کے مرقعے اپنے افسانوں میں پیش کئے ہیں۔
تصور کیجیے کہ ایک امیر زادی جس کو زندگی کی گردش نے بھکارن بنادیا تھا یہ صدا لگاتی ہے کہ:

“ دولت والو ٹکڑا دو، عزت والو ٹکڑا دو، اپنے بچوں کا صدقہ ٹکڑا دو، اپنے لالوں کا صدقہ ٹکڑا دو، تمھاری چوڑی کی خیر، تمھاری مہندی کی خیر، ایک نوالہ دو۔لو میرا خالی پیالہ، لوگو! تمھارے محلے میں ٹھوکریں کھانے والی بھکارن آئی ہے، ساتھ میں اس کی جائی ہے، ہم دونوں میں بھوک کی مار آئی ہے، دہائی ہے، ایک نوالہ مجھ کو دو۔ سونے والو جاگو، ایک دن میں بھی سوتی تھی، پیا کا ہیرا موتی تھی، دنیا نے تاراج کیا؛ اس کو جس نے راج کیا۔ اب گدڑی میرا جوڑا ہے اور پاؤں کا چھالا گھوڑا ہے، جشن کی راتیں ، موج کے دن سب پانی ہیں، کنڈی کھولو، ٹکڑا دو، ہاتھ بڑھاؤ ٹکڑا دو۔روکھا ہو یا باسی ہو سب ہے نعمت ، بھوک سے بری ہے میری نوبت ، یہ ننھی بچی روتی ہے ، یہ محل کی ملکہ گود میں تھی، اب گدا کی دختر پیدل ہے۔ یہ باپ کی پیاری ، دکھ کی ماری، تیرے دوار آئی بھکاری، ٹکڑا دو، یہ آنی جانی ہے، ذرہ ذرہ فانی ہے، غفلت میں مدہوش نہ ہو، عبرت سے باہوش رہو، صدقہ ایک ٹکڑا دو۔“

جاوید چوھدری اچھے کالم نگار ہیں ان کا آج کا کام پڑھئے ۔ مجھے تو یہ پڑھ کر بہت شرم آئی اور اپنے آپ پر افسوس بھی ہوا۔
image

ایکسپریس نیوز

پاکیزہ سیرت لوگ

قدرت اللہ شہاب بیان کرتے ہیں کہ جس مقام پر اب منگلا ڈیم واقع ہے۔ وہاں پر پہلے میر پور کا پرانا شہرآباد تھا۔ جنگ کے دوران اس شہر کا بیشتر حصہ مبلے کا ڈھیر بنا ہوا تھا۔ ایک روز میں ایک مقامی افسر کو اپنی جیپ میں بٹھائے اس کے گردونواح میں‌ گھوم رہا تھا۔ راستے میں ایک خستہ حال بوڑھا اور اس کی بیوی ایک گدھے کو ہانکتے ہوئے سڑک پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ دونوں کے کپڑے میلے کچیلے اور پھٹے پرانے تھے۔ دونوں کے جوتے ٹوٹے پھوٹے تھے۔ انھوں نے اشارے سے ہماری جیپ کو روک کر دریافت کیا: “ بیت المال کس طرف ہے؟ “ آزاد کشمیر میں درکاری خزانے کو بیت المال ہی کہا جاتا تھا۔ میں نے پوچھا۔ “ بیت المال میں تمہارا کیا کام؟ “ بوڑھے نے سادگی سے جواب دیا: “میں نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر میر پور شہر کے ملبے کو کرید کرید کر سونے اور چاندی کے زیورات کی دو بوریاں جمع کی ہیں۔ اب انھیں اس گدھے پر لاد کر ہم بیت المال میں جمع کروانے جارہے ہیں۔ “ ہم نے ان کا گدھا ایک پولیس کانسٹیبل کی حفاظت میں چھوڑا اور بوریوں کو جیپ میں‌ رکھ کر دونوں کو اپنے ساتھ بٹھا لیا، تاکہ انھیں‌ بیت المال لے جائیں۔ آج بھی جب وہ نحیف ونزار اور مفلوک الحال جوڑا مجھے یاد آتا ہے تو میرا سر شرمیندگی اور ندامت سے جھک جاتا ہے کہ جیپ کے اندر میں ان دونوں کے برابر کیوں بیھٹا رہا۔ مجھے تو چاہیے تھا کہ میں ان کے گرد آلود پاؤں اپنی آنکھوں اور سر پر رکھ کر بیٹھوں۔ ایسے پاکیزہ سیرت لوگ پھر کہاں ملتے ہیں؟
اب انھیں ڈھونڈ چراغ رخِ زیبا لے کر
(شہاب نامہ صفحہ 426 )
آپ لوگوں کا کیا خیال ہے کہ آج کے زمانے میں ایسے لوگ مل سکتے ہیں ؟

دو تین سال پہلے میں نے ایک میگزین میں یہ ترانہ پڑھا تھا جو مجھے اچھا لگا، تو اپنے پاس نوٹ کر لیا۔ آج اس کو یہاں پیش کررہا ہوں ۔ اُمید ہے کہ بہت سے دوستوں کا اسے پڑھ کر دل بھی دکھے گا لیکن جو حقیقت ہے وہ تو ہے۔

نیا قومی ترانہ

کھیت گھر زمین شاد باد
کار بہترین شاد باد

پگڑیاں، وزارتیں ،دوکان
کوٹھیاں، عمارتیں، مکان

لوٹ مار دھاڑ شاد باد
بیوقوف لوگ ہیں عوام

رہ گئے غلام کے غلام
کرسی، عہدہ، سلطنت

پائندہ تابندہ باد
لیڈروں کی منزل مراد

ہر طرف سازشوں کے جال
سرنگوں ترقی وکمال

پاک سرزمین میں حلال
رشوتوں وزارتوں کا مال

سایہء امریکہ باکمال

لاکھ مانگو کروڑ دیتا ہے
اللہ رب العزت فرماتے ہیں: لئن شکرتم لازیدنکم(سورہ ابراہیم آیت 7) یعنی اگر تم شکر کرو گے تو ہم تمہیں بڑھا کر دیں گے۔ گویا شکر ایک ایسا عمل ہے جس کی وجہ سے نعمتیں باقی رہتی بھی‌ہیں اور بڑھتی بھی چلی جاتی ہیں۔
ٹوٹے رشتے وہ جوڑ دیتا ہے
بات رب پہ جو چھوڑ دیتا ہے
اس کے لطف وکرم کا کیا کہنا
لاکھ مانگو کروڑ دیتا ہے
یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ مانگنے والے کو اپنے مانگنے میں کمی کا شکوہ رہا جبکہ دینے والے کے خزانے بہت زیادہ ہیں اور مانگنے والوں کے دامن چھوٹے ہیں جو بہت دلدی بھر جاتے ہیں۔

پہچان
مرزا صاحب پنج وقتہ نماز کے پابند تھے۔ ایک دفعہ دہلی کی ایک مسجد سے نماز مغرب ادا کرنے کے بعد گھر آرہے تھے کہ راستہ میں کھڑے ایک اجنبی بچے نے کہا: “نمستے انکل۔“
“بےادب، جاہل، بدتمیز ایک مسلمان کو نمستے کرتا ہے۔“مرزا صاحب بچے پر برس پڑے۔
“انکل جی! کیا آپ مسلمان ہیں‌؟“ بچے نے شرارتی معصومیت کے ساتھ سوال کیا۔
“ہاں بھائی! میں ‌اللہ کو مانتا ہوں، اس کے رسول کو مانتا ہوں، نماز پڑھتا ہوں۔ مسلمان نہیں تو اور کیا ہوں؟“ مرزا صاحب نے روایتی بوڑھوں کی طرح‌‌‌‌‌ کہانی لمبی کی۔
“جناب! میں تو بس آپ کا چہرہ دیکھا جو ہمارے پنڈت جی سے ملتا جلتا تھا۔ اس لیے نمستے کہہ بیٹھا۔ I’m sorry۔“
یہ کہہ کر بچے نے مرزا صاحب کی حیران نظروں کو زیادہ دیر اپنے چہرے پر غضب ناک شعاعیں نہ برسانے دیں اور یہ جا وہ جا اوجھل ہوگیا۔
یہ قصہ ہمارے ایک مسجد القلبی نے ہمیں سنایا۔ تمام سامعین نے اسے لطیفہ سمجھا اور ہنس دیے، محفل برخاست ہوگئی۔ لیکن بچے کی بات میرے دماغ میں گھڑ کررہ گئی۔ میں ‌رہ رہ کر یہ سوچنے لگا کہ آخر اس کی بات میں کتنی گہرائی پہناں تھی۔
یہ حقیقت ہے کہ ہر چیز کو پہچاننے کی کوئی نہ کوئی نشانی ہوتی ہے۔ جس طرح انسان کی اخلاقیات کو اس کے معاملات سے، اس کی شرافت وتہذیب کو گفتگو سے، اس کی شخصیت کو رویے اور برتاؤ سے، اس کی نفاست کو لباس سے، اس کی متانت کو موبائل کی گھنٹی سے، اس کی طبعیت کو چال ڈھال سے، اس کے کردار کو آزمائشی حالات سے، اس کے ذوق کو حسنِ انتخاب سے، اس کے شوق کو اس کے پسندیدہ مشغلے سے پہچانا جاتا ہے۔
اسی طرح مقامات کی پہچان کی بھی نشانیاں ہوتی ہیں جیسے کراچی کو مزارِ قائد سے، نیویارک کو اسٹیچو آف لبرٹی، پیرس کو ایفل ٹاور،آگرہ کو تاج محل، چین کو چائنہ وال، قاہرہ کو اہرامِ مصر، سڈنی کو اوپرا ہاؤس، دوبئی کو برج العرب سے پہچانا جاتا ہے۔
ہمیں‌ اس “لیبل“ سے احساس کمتری ہے۔ ہمیں ٹوپی پہننے سے عار اور ڈاڑھی رکھنے سے شرم آتی ہے۔ وہ سکھ ہم سے کیوں نہیں‌ اچھے جنھوں نے فرنگیوں کی دست درازی کے باوجود اپنی مذہبی پہچان کو قائم رکھا اورایک ہم ہیں جو ان کے خوف سے اپنے ہی ملک میں مذہبی پہچان کو اپنانے سے اجتناب کرتے ہیں۔
ہم ایک شرمیلی برادری ہیں جو اپنے رب کے علاوہ سب سے شرماتے ہیں۔ ہم اپنے ہی وجود کو خنجر گھونپ رہے ہیں۔ ہم اپنی پہچان سے نفرت کررہے ہیں۔ ہم اپنا ہی لیبل مٹا رہے ہیں۔
دنیا میں ‌کسی بھی قوم کو پہچاننے میں غلطی کا احتمال موجود ہوتا ہےلیکن “سکھوں“ کو پہچاننے میں‌ کوئی غلطی نہیں کرسکتا۔ سکھوں کی مذہبی وثقافتی تہذیب نے تقریباً چار صدی پہلے پہلے جنم لیا۔ 1699ء میں گرو “گوبند سنگھ“ نے “خالصہ“ نامی عقیدہ کی بنیاد رکھی جس کے پانچ ارکان پانچ “ککے“ کہلاتے ہیں۔ کیس، کنگھا، کاچھا، کڑا اور کرپان۔ سکھوں کی کل آبادی تقریباً ڈھائی کروڑ ہے جو دنیا کی کل آبادی کا اعشاریہ 39 فیصد ہے۔ جن میں سے ایک کروڑ بیانوے لاکھ پندرہ ہزار سات سوسکھ ہندوستان میں رہتے ہیں جو ہندستان کی کل آبادی کا صرف 1.87 فیصد بنتے ہیں۔ سکھوں کی کل آبادی کا 83 فیصد ہندوستان میں رہتا ہے یعنی ہندوستان کے علاوہ پوری دنیا میں سکھوں کی تعداد صرف ستاون لاکھ چوراسی ہزار دو سو بہتر ہے لیکن پھر جانے کیوں دنیا کے کونے کونے میں قلیل تعداد ہونے کے باوجود سکھوں کا وجود نظر آتا ہے۔ یہاں پر ذرا رکتے ہیں‌اور آتے ہیں مسلمانوں کی طرف۔
سینسٹس بیور آف امریکا کے مطابق25 جون 2006ء تک دنیا کی آبادی تقریباً ساڑھے چھ ارب تھی جن میں 1.8 بلین مسلمان ہیں جو دنیا کی کل آبادی کا 29 فیصد ہیں۔ یعنی ہم دنیا کی دوسری بڑی برادری ہیں۔ دنیا میں ہر چوتھا آدمی مسلمان ہے۔ دنیا کا کل رقبہ 20.6 فیصد مسلمانوں کے پاس ہے جو ایک کروڑ اٹھارہ لاکھ تیراسی ہزار آٹھ سو نواسی مربع میل ہے۔ دنیا کے 57 ممالک میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ اسلام دنیا میں شرح پیدائش سے 0.6 فیصد تیزی سے پھیل رہا ہے۔ سی آئی اے کی فیکٹ بک کے مطابق 2200ء میں دنیا میں سب سے زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہوگی۔
اب واپس چلتے ہیں پچلھی بات کی طرف۔ آخر کیا وجہ ہے کہ سکھ اتنی قلیل تعداد میں‌ ہونے کے باوجود دنیا کے ہر حصے میں نظر آتے ہیں؟ ان کی بات کو انڑ نیشنل میڈیا خصوصی کوریج دیتا ہے۔ ان کی طرف کیمرہ کرکے ہندوستان کی پہچان کروائی جاتی ہے۔ان کی ثقافت زندہ ہے۔ ان کی معاشرے میں اہمیت ہے۔
“میرے دماغ میں‌ کرنٹ لگا کہ آخر کیوں؟ بے ساختہ جواب آیا: “لیبل۔“ لیبل ہی وہ چیز ہے جو سکھوں کے وجود کو قائم رکھے ہوئے ہے۔ سکھ صرف اپنی ڈاڑھی اور پگ کی وجہ سے دنیا کے ہر خطے میں‌ آشنائی رکھتے ہیں۔ چھوٹا ہو، بڑا یا بوڑھا ہر ایک بے جھجھک اپنے مذہنی لیبل کو اپناتا ہے۔
یہاں تک کہ گیارہ ستمبر کے بعد بھی جب سکھوں کو مسلمان سمجھ کر ان پر مظالم ڈھائے گئے تب بھی انہوں نے اپنے لیبل کو مضبوطی سے تھامے رکھا اور اس پر فخر کرتے رہے۔ لیکن ایک ہم مسلمان ہیں جو کثیر تعداد میں ہونے کے باوجود اپنی پہچان کو منوانے سے قاصر ہیں۔ ہمارا وجود ہونے کے باوجود بھی نہیں ہے۔“
مجھے جواب مل چکا تھا۔ صرف لیبل سے محبت نہ ہونا اس کا باعث ہے۔

(ضرب مومن محمد احسن الیاس )

حکیم الاسلام حضرت اقدس مولانا قاری محمد طیب قاسمی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں:
“1947ء میں ملک آزاد ہوا تو مشرقی پنجاب مسلمانوں سے خالی ہوگیا، تو وہاں کے ہندوؤں‌نے ایک بہت بڑا مشاعرہ کیا، جس کا صدر مولانا حبیب رحمتہ اللہ کو بنایا گیا۔ جب مولانا تشریف لائے تو لوگ گلے مل کر روئے اور بہت روئے اور پھر کہنے لگے کہ:مولانا!آپ گئے تو ہمارہ دین دھرم بھی ساتھ لے گئے۔ مولانا نے فرمایا کہ: بھائی!ہم تمہارہ دین ودھرم کیسے لے گئے؟انھوں نے کہا کہ: آپ لوگ تھے تو یہاں کی مسجدیں آباد تھیں، پانچ وقت اذان ہوتی تھیں، اذانیں سن کر ہمارے دلوں میں بھی جذبہ اُٹھتا تھا کہ ہم بھی بھگوان کا نام لیں‌، مگر اب نہ اذانیں ہیں اور نہ نماز،روزہ کا منضر ہے، اس لئے ہم تو ٹھنڈے پڑ گئے، ہمارا دیں ودھرم ختم ہوگیا،جو تمہارے دم سے قائم تھا۔
اس قاری مولانا محمد طیب قاسمی رحمتہ اللہ مہتمم دارلعلوم دیوبند نے فرمایا:میں کہتا ہوں‌کہ اگر ان کے گھروں تک علمِ دین نہ بھی پہنچے، اذانوں کے ذریعہ اللہ تعالی کا نام ان کے گھروں تک ضرور پہنچتا ہے۔
ایک زمانے میں‌دارلعلوم کی مسجد کے موذن جان محمد تریکی تھے،جب وہ اذان کہتے تھے تو لاؤڈاسپیکر نہ ہونے کے باوجود بلا تکلف ان کی اذان اسٹیشن سے سنی جاسکتی تھی۔ان کی آواز اتنی تیز تھی کے کافی دور تک جاتی تھی،جب ان کی اذان شروع ہوتی تھی تو بہت سے ہندو بیٹھ جایا کرتے تھے کہ اب اللہ کا نام لیا جارہا ہے۔“

ایک ادھیڑ عمر شخص اپنے نوعمر بیٹے کے ساتھ شام گئے کسی بستی سے گزرا تو اس کی نظر ایک دوکان پر پڑی۔ اس نے چپکے سے بیٹے کے کان میں کہا:
“میں نے یہاں‌ چار بار چوری کی ہے۔“
نو عمر بیٹے نے حیرت سے دکان کی طرف دیکھا۔ دیے کی مدھم سی روشنی میں‌اسے وہاں‌ایک دکان دار نظر آگیا۔ اس نے اسی حیرت کے عالم میں‌اپنے باپ سے کہا:
“اس دکان میں‌تو اب بھی دیا جل رہا ہے ارو ہمارے گھر میں‌تو اب بھی اندھیرا ہے۔“

(بشکریہ بچوں کااسلام شمارہ292 ، 27جنوری 2008)