Jun 01

اپنے انصار برنی جو پاکستان سے زیادہ انڈیا کے ساتھ وفاداری کی کوشش کرتے رہتے ہیں کو انڈیا نے “ منہ پر خوشامد یہ کرتے ہوئے“ “منہ پر تھوک کر “‌‌‌ ملک بدر کردیا۔ “ منہ دیکھ کر بیڑا، چوتڑ دے کر پیڑھا “ وامہ مثل رکھی تھی آج اُکا عملی مظاہرہ بھی دیکھ لیا ہے۔ بھارت نے منہ دیکھ کر تھپڑ مارا “ ہے۔ اگرچہ انصار برنی یہاں سے بہت پر رونق منہ لے کر گئے ہوں گے۔ لیکن انڈیا نے ائیر پورٹ پر ہی “ منہ توڑ کر جواب “ دے دیا جسے سن کر محترم کے “ منہ کی فاختہ “ اُر گئی۔ یقیناً اس وقت انصار برنی کی حالت “ منہ ڈھک ڈھک کر رونا “ سے مماثلت ہوگی۔ جب وہ کہیں‌ “ منہ دکھانے کے قابل “‌ نہ رہے تو “ منہ دیکھے کی اُلفت “ کے مطابق اُنھیں دوبارہ انڈیا آنے کی دعوت دے ڈالی ۔ آب دیکھیے انصار برنی کس منہ سے انڈیا جاتے ہیں ۔ اس وقت انصار برنی کی عزت “ منہ کو سات تووں کی کالک لگ جانا “ کے مترادف ہے۔

Feb 21

اسلام علیکم ،
میرے گھر کے پاس کچی آبادی ہے جہاں زیادہ ترغریب لوگ رہتے ہیں‌۔ ہمارے محلے میں ہر ہفتے یوٹیلٹی اسٹور کی طرف سے اشیاء خوردونوش کا سامان لیے ایک ٹرک آتا ہے۔ جس سے غریب لوگوں کے ساتھ ساتھ ہم جیسے متوسط طبقے کا بھی فائدہ ہو جاتا، ایک تو سارا دن لمبی قطار میں کھڑا نہیں ہونا پڑتا، دوسرا یہاں سے چھوٹا بھائی بھی باآسانی خریداری کر لیتا ہے، ورنہ ہمیں اپنی دوکان کی ٹائمنگ میں رودوبدل کرکے لمبی قطار میں لگنا پڑتا تھا۔ لیکن آج تو بھائی لوگوں‌ نے حد ہی کر دی، جیسے ہی ٹرک آیا تو انھوں نے یہ کہہ کر کچی آبادی کے مکینوں کو پیچھے کر دیا کہ: “آپ لوگوں نے ہماری پارٹی کو ووٹ نہیں دیا تھا، یہ اُن کے لیے ہے جس نے ہمیں ووٹ دیا تھا۔“ اس کے بعد پارٹی کے ارکان نے اس سے خریداری کی(شکر ہے خریداری کی لوٹا نہیں اگر لوٹ لیتے تو ہم کیا کر لیتے)۔ ان خریداروں میں بھی زیادہ تر صاحب حثیت تھے۔ اس کے بعد جو بچا وہ ان غریب لوگوں نے خریدا۔ ہمیں تو خیر کوئی مشکل نہیں ہوئی کیوں کہ ابو کا ووٹ انھی نےلیا تھا۔ اصل سوال یہ ہے کہ:
ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے؟
کیا یہ اپنے ہر فعال میں آذاد ہیں؟
ابھی ان کے اَمیدوار جیتے ہیں‌ تو یہ حال ہے جب ان کی گورنمنٹ بنے گی تو عوام کا کیا بنے گا؟

Feb 18

اسلام علکیم ،
جب میں‌صبح اُٹھا تو مجھے معلوم ہوا ابو ووٹ ڈال آئیں ہیں ان کی روداد آپ اُنھی کی زبانی پڑھئے: “میں‌جب ووٹ ڈالنے گیا تو پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر ایم کیو ایم کے کارکن موجود تھے، اور ان کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ جب میں بیلٹ پیپر پر اسٹیمپ لگانے لگا تو وہاں موجود کارکنوں نے مجھے کہا کہ پتنگ پر نشان لگائیں، جس پر مجھے مجبوراً عمل کرنا پڑا:( ۔ اگر ایسا نہ کرتا تو…… ہمارے علاقے میں‌انھی کا کنڑول ہے؟ “
یہ سب کہانی سننے کے بعدمیں نے ناشتہ بھی نہیں کیا اور اپنے بڑے بھائی کو ساتھ لے کر اپنی زندگی کا پہلا ووٹ کاسٹ کرنے نکلا، اس کی رواداد کچھ اس طرح ہے کہ سب سے پہلے ہم اپنے ووٹ کی پرچی بنوانے کے لیے گئے میری تو پرچی فوراَ بنادی گئی لیکن بھائی کا پتا چلا کہ اس کا ووٹ ڈالا جاچکا ہے:?۔ لیکن پولنگ ایجنٹ نے پھر بھی پرچی بنادی :P ۔ اس کے بعد ہم ہنستے مسکراتے پولنگ بوتھ پہنچے تو میرا ووٹ فائینل کردیا گیا لیکن بھائی کو واپس کردیا۔ بھائی نے کہا: “ چلو اچھا ہے انگھوٹھا گندا نہیں ہوا :wink:“ ۔خیر میں نے اپنا ووٹ ڈالا اور گھر کی راہ لی۔ لکھنے کو تو اور بھی بہت کچھ ہے لیکن کیا فائدہ ؟ ایسی کہانیاں تقریباَ سب کو ہی معلوم ہیں۔