سیہان انعام اللہ خان مرحوم پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں مارشل آرٹ کا بہت بڑا نام تھا۔ پاکستان میں انعام اللہ خان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔
وہ 1947ء میں صوابی کے قریب زوبی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد قاضی شفیع اللہ مرحوم تقسیم پاکستان کے بعد علاقے بنوں سے وابستہ ہوگئےتھے۔ حکومت کی طرف سے کراچی کے علاقے گزری میں سرکاری ہیڈ کواٹر ملنے کے بعد چھوٹے سے انعام اللہ خان اپنی والہ کے ساتھ کراچی آگئے۔
انھوں نے تعلیم مقامی اسکول سندھ مدرستہ الاسلام سے حاصل کی۔ انعام اللہ خان کشتی کبڈی، باکسنگ، جوڈو اور کراٹے کے بھی ماہر تھے۔ بعد میں انھوں نے صرف کراٹے کو چن لیا۔1971ء میں انھوں نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے کوالمپور میںہونے والی بین الاقوامی چمپئن شپ میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔
یہاں سے سیہان کے عروج کا دور شروع ہوا۔ 1977ء کی چمپئن شپ میں رنر اپ رہنےکے بعد وہ کراٹے کے مشہور اسٹائل کیوکشن سے وابستہ ہوگئے۔ سیہان نے جاپان میں عالمی ہیڈکواٹر میں کیوکشن اسٹائل کے بانی گرینڈ ماسڑ سوسائی ماسو اوہاما سے براہ راست تربیت حاصل کی ۔
سیہان انعام اللہ خان نے پاکستان، افغانستان، سعودی عرب، تاجکستان، ازبکستان، عمان اور یمن میں کیوکشن کراٹے کی بنیاد رکھی۔سیہان انعام اللہ خان نے اپنے آپ کو ان فن کی ترویج کے لیے وقف کردیا تھا۔
انھوں نے بریکنگ کے حوالے سے بھی پاکستان میں نئی روایات کو جنم دیا۔ انھوں نے پہلی مرتبہ ہتھیلی کی ضرب سے ناریل کو توڑنا، پہاڑی پتھر توڑنااور پیٹ پر سے جیپ گزارنا جیسے کمالات دکھائے۔ آخری بریکنگ انھوں نے 56 سال کی عمر میں پیش کی، جب انھوں نے ہتھیلی کی ضرب سے تقریباً 4 انچ موٹا لکڑی کا بلاک توڑا۔
سیہان انعام اللہ خان نے پاکستان آرمی اور پاکستان نیوی کو بھی خصوصی تربیت دی۔ سعودی عرب کے کمانڈوز کو سعودی عرب میں تربیت دیتے رہے۔
سیہان دنیا میں مارشل آرٹ کے ماہر ترین اساتذہ میں شمار کئے جاتے تھے۔ وہ سخت سے سخت لمحات میں بھی مسکراتے ہی نہیں بلکہ قہقہے لگانے کا حوصلہ رکھتے تھے۔موت سے بڑھ کر انسان کو پریشان کردینے والی شے اور کیا ہوسکتی ہے؟ مگر زندگی کے آخری دنوں تک جبکہ معالجوں نے مایوسی کا اظہار کردیا تھا، ان کی مسکراہٹ برقرار رہی۔ وہ زندگی کے آخری دنوں تک مصروف رہے، بلکہ انتقال سے ایک گھنٹہ قبل انھوں نے ایک شاگرد کو بلیک بیلٹ لکھ کر جاری کیا۔ اس کے بعد کھانا کھا کر وضو کرکے نماز کے انتظار میں بیٹھے تھے کہ دل کا چھٹا کا حملہ ہوا اور ان کا بلاوہ آگیا۔
دل کی تکلیف انھیں ایک شدید چوٹ کی بنا پر لاحق ہوئی تھی۔ یہ چوٹ تقریباً 15 برس قبل ایک مقابلے میں لگی تھی۔ اس چوٹ کی وجہ سے ان کے دل کی جھیلی پھٹ گئی اور اس کا بائی پاس کرنا پڑا۔
بالآخر پاکستان کے یہ عظیم سپوت اور محسن قوم دل کے چھٹے حملے کے باعث 15 نومبر 2007ء کو دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اللہ تعالٰی ان پر اپنی رحمت نازل کرے۔ (آمین)
May 05
Recent Comments