Apr 03

کراچی کی بگڑتی صورت حال
چند دنوں سے کراچی میں مختلف جماعتوں کے کارکنوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔ پہلے میں نے کوئی خاص توجہ نہیں دی، لیکن اب اس میں تسلسل آگیا۔ جس کی وجہ سے کچھ گڑ بڑ محسوس ہورہی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کوئی طاقت سیاسی جماعتوں کو آپس میں‌ لڑا کر مخصوص نتائج حاصل کرنا چاہ رہی ہے۔ اللہ خیر کرے۔ اس سلسلے میں سنی تحریک کے 2 کارکنوں کو اغوا کے بعدقتل کردیا۔ جن کا جنازہ جلوس کی شکل میں M. A. Jinaha Road میمن مسجد لایا گیا۔اس جلوس کے اکثر شرکاء اسلحے سے لیس تھے،مجھے اسلحے کی پہچان نہیں کس چیز کا کیا نام ہے، ایک جاننے والے نے بتایا اسلحے میں کلاشنکوف اور T.T. شامل ہیں۔ جلوس سے آگے آگے چند موٹر سائیکل سوار اسلحے کی نمائش اور فائرنگ کے ذریعے خوف وہراس پھیلا کر دکانیں بند کروارہے تھے۔
بینظیر کے قتل سے اب تک کپڑے کا کاروبار شدید بحران کا شکار ہے۔ اگر کام اٹھنے لگتا ہے تو ایسے واقعات تیزی کو برقرار نہیں رہنے دیتے۔ سنی تحریک کے جلوس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ ایسے لوگ بھی ان میں شامل ہوگئے جوگڑبڑ پھیلانے کی کوشش کررہے تھے۔ پتا نہیں وہ کون لوگ تھے؟ ان کا تعلق کس گروپ سے تھا؟ انھوں نے دوکانوں پر پتھراؤ کیا اور کلاشنکوف سے ہوائی فائرنگ نھی کی۔ بھلا ہو پولیس والوں کا جو بروقت پہنچ گئے۔ پولیس کو آتا دیکھ کر وہ لوگ بھاگ کھڑے ہوئے، ورنہ شدید گڑبڑ ہوتی ہو اور سارا “ ایصالِ ثواب “ سنی تحریک کو ملتا ۔ اس کارنامے کی وجہ سے مجھے زندگی میں پہلی مرتبہ پاکستانی پولیس کے فائدے کا اندازہ ہوا، حالانکہ انھوں نے کچھ نہیں‌ کیا، بس دور سے گاڑی کا الارم چلا دیا۔ پہلے میں سمجھتا تھا کہ پولیس کا ایک ہی کام ہے عام شہریوں کو تنگ کرنا۔ لیکن اس واقع کے بعد پولیس کے بارے میں‌ کچھ کچھ خوش فہمی ہوگئی ہے۔