Jul 01

میں نے آج سے ٹھیک چوبیس سال پہلے یعنی 1
st جولائی 1984ء بروز جمعرات عید کے دن اس دنیا میں تشریف لاکر اپنے گھر والوں کو ڈبل خوشی اور دنیا والوں کو اپنی خدمت کرنے کا موقع فراہم کیا تھا۔یہی نہیں بلکہ پاکستان کی نئی نسل میں ایک فرد کا اضافہ بھی۔ میرے گھر والوں کا خیال تھا میں پڑھ لکھ کر اپنے ماں باپ اور پاکستان کا نام روشن کروں گا۔
لیکن بوجہ اچھی تعلیم حاصل نہ کرسکا۔ جس پر مجھے خیال گزرا مقصد نام روشن کرنا ہی ہے تو کیوں نہ ایک بورڈ پر سب کے نام لکھ کر 1000 واٹ کے بلب آن کردوں گا۔ جس کے لئے کوئی خاص محنت بھی نہیں‌کرنی پڑے گی۔ پتا نہیں kesc والوں کو میرے اس منصوبے کا علم کیسے ہوگیا اور انھوں نے مجھے ناکام کرنے کے لیے لوڈ شیڈنگ شروع کردی۔
اب تک زندگی بے مقصد بغیر کسی منزل کے تعین کے گزار رہا تھا۔ لیکن kesc کے اس اقدام نے مجھے کسی منزل کا تعین کرنے پر مجبور کردیا۔ جس کی وجہ سے میں نے اپنے لیے ایک مشن اسٹیٹمنٹ لکھا ہے۔ سب سے بڑھ کر میں نے چھ سال اپنا تعلیمی سفر دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے یقیناً سخت محنت کرنی پرے گی۔ مشن اسٹیٹمینٹ کچھ اس طرح ہے:

سب سے پہلے اور سب سے زیادہ میں ہمیشہ اپنے خدا پر یقین رکھوں گا۔
میں ہمیشہ اپنا مثبت ذاتی تشخص اور بلند اعتماد برقرار رکھوں گا۔
اپنے لیے ایسے مقاصد طے کروں گا جو قابل حصول اور مذہب سے متصادم نہ ہوں۔
ان مقاصد کو کبھی نظروں سے اوجھل نہیں‌ ہونے دوں گا۔
میں تمام چیلنجوں کا سامنا رجائیت کے ساتھ کروں گا نہ کہ شک کے ساتھ۔
ہر ایک کی عزت ، احترام اور اکرام کروں‌گا۔
میں اپنے خاندان کے شیرازے کی قوت کو کم تر نہیں‌کروں‌ گا۔
میں اپنے مخلص دوستوں‌کو کبھی نظر انداز نہیں‌کروں گا۔اپنے آپ پر اور جو لوگ میرے ارد گرد ہیں ، ان سب پر اعتماد کروں‌گا۔
اپنے افعال کے ذریعے گفتگو کروں گا نہ کہ الفاظ کے ذریعے۔
دوسروں کے (اپنے سے) اختلاف کی قدر کروں گا، اور ان اختلافات کو اپنے لیے مفید گردانوں گا۔
ان لوگوں کی مدد کے لیے وقت نکالوں گا جو مادی لحاظ سے مجھ سے کم تر ہیں‌ یا جن کا دن مجھ سے خراب تر ہے۔

اللہ سے دعا ہے وہ مجھے اس آئین پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آئندہ سال زندگی نے ایک اور سالگرہ منانے کا موقع دیا تو انشاءاللہ اپنی سال بھر کی پروگریسیو رپورٹ بھی لکھوں گا۔

Jun 01

سب کو معلوم ہے انڈیا اور پاکستان دونوں نےقریب قریب ایک ساتھ ہی ایٹمی سائنسدانوں نے بہت محنت کے بعد اس منزل کو حاصل کیا۔ جس پر عوام نے انھیں اپنا ہیرو قرار دے دیا۔ انڈیا نے اپنے سائنسدان کو صدر کا عہدہ دے کر اُن کی عزت افزائی کی لیکن ہم نے اپنے ہیرو ڈاکڑ عبدالقدیر خان کو قید یا نظر بند کرکے عزت دی ۔ کہا جارہا ہے اُنھیں بوجہ مصلحت نظر بند کیا ہے وہ بے قصور ہیں ، وقت آنے پر اُنھیں رہا کردیا جائے گا۔
لیکن قوم کسی حد تک اُنھیں بھول چکی ہے۔ یقیناً ڈاکڑ صاحب کو بھی اس کا احساس ہوگا، یہ کیسی بے حس قوم ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میں نے کہا تھا میرے ذہن میں ڈاکڑ صاحب کے لیے چند تجاویز ہیں ، جو میں یہاں پیش کررہا ہوں۔
بلاگنگ کی لائن میں ہم کم از کم 40،50 افراد ہیں جو ایک دوسرے کو جانتے ہیں ۔ اگر ہم سب مل کر ایک گروپ بنالیں اور اس گروپ کا روزانہ ایک رکن ایک تہنتی کارڈ ڈاکڑ عبد القدیر خان کو پوسٹ کرے گا۔ اس طرح اگر گروپ کے صرف 30 رکن بھی ہوئے تو ہر رکن کو ایک مہینے میں ایک کارڈ پوسٹ کرنا پڑیگا۔ لیکن ڈاکڑ صاحب کو روزانہ ایک کارڈ موصول ہوگا۔ میرے خیال سے ایک کارڈ کا خرچہ کسی کے لیے کوئی بوجھ نہیں بنے گا۔
اس طریقے سے ہم ڈاکڑ صاحب کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کرسکتے ہیں ۔ اگر ارکان میں اضافہ ہوگیا تو روزانہ ایک رکن کی بجائے دو رکن ہوجائیں گے۔ ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ تمام ارکان مہنے کی یکم تاریخ کو ایک ایک کارڈ اور پھر روزانہ ایک رکن ایک کارڈ پوسٹ کریں گے۔ اس طرح دو کارڈ کا خرچہ برداشت کرنا ہوگا۔

آپکی تجاویز کا انتظار رہے گا۔

Apr 09

توہین رسالت اور ہم

ہفت روزہ ضرب مومن میرے سامنے ہے۔ اس کے خبروں والے پہلے صفحے کی خبروں کا خلاصہ ایک ہی ہے کہ فلاح ملک کے شہریوں نے توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت پر احتجاج کیا، فلاں ملک کی اعلٰی سیاسی شخصیات نے احتجاج کیا، فلاں ملک میں ڈنمارک کے سفیرکی طلبی ۔ ۔ ۔ ۔
کیا ہے یہ سب؟ کیا اس طریقے سے اُن کو آئندہ ان غلط اقدام سے روکا جاسکتا ہے؟ نہیں کبھی نہیں ۔ جب تک ہم عملی طور پر کوئی قدم نہیں اُٹھائیں گے وہ لوگ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئیں گے ۔ پہلے گوانٹا نامو بے میں کی جیل میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے قصے سامنے آئے، احتجاج ہوا لیکن نتیجہ ۔ ۔ ۔ ۔ 2005ء میں توہین آمیز کارٹون شائع ہوئے، احتجاج ہوا نتیجہ ۔ ۔ ۔ ۔ 2008ء میں دوبارہ اشاعت، احتجاج ہوا نتیجہ ۔ ۔ ۔ ۔ توہین آمیز فلم کی ریلیز ہوئی۔ مسلسل احتجاج ہورہا ہے۔ پُتلے ، جھنڈے، ٹائر جلاتے ہیں‌ اور اپنا ہی منہ کالا کرکے گھر چلے جاتے ہیں۔ اگلے دن کے اخبارات کا ایک ہی خلاصہ ہوتا ہے کہ توہین رسالت کے لیے نکالی گئی ریلی/ ہڑتال میں اتنے لوگوں نے شرکت کی، اتنے بینک جلائے اتنی بسیں جلائی اور اتنا نقصان ہوا۔ کیا یہی عشق رسول کے تقاضے ہیں ؟ اپنے گھر کو جلایا اور اپنا ہی نقصان کرکے کہا جاتا ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب افراد نے معافی نہ مانگی تو پھر ایسا ہی احتجاج کریں گے ۔ ۔ ۔ ۔
ایسی حالت میں ہمارے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے، عملی طور پر کچھ کرنا نہیں صرف احتجاج کرکے اپنا منہ کالا کرلیتے ہیں۔ میں احتجاج کو برا نہیں کہتا لیکن پرتشدد نہیں ہونا چاہے اور ساتھ ساتھ کوئی عملی اقدام بھی اُٹھانا چاہیے۔ ہم میں بہت سے لوگ کہتے ہیں ہم کیا کریں ۔ اس کا ایک ہی جواب ہے بائیکاٹ، بائیکاٹ اور بائیکاٹ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں ہر سطح پر توہین رسالت کے مرتکب لوگوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔ بائیکاٹ میں کتنی طاقت ہے اس کا اندازہ آپ کو مفتی ابو لبابہ شاہ منصور کی جانب سے پیش کیا گیا “ ایک ہی علاج “ پڑھ کر اندازہ ہوگا۔

“ایک ہی علاج“

“ایک خبر کے مطابق شیل اور یونی لیور نے کہا ہے کہ اگر ہماری کمپنی کو نقصان ہوا تو ہم فتنہ نامی فلم ساز گریٹ ورلڈ پر مقدمہ کریں گے۔ بچپن میں دادی اماں بچوں کو جو کہانیاں سنایاں کرتی تھیں ان میں ایک ایسے جن کا تذکرہ ہوتا تھا جس کی جان ایک طوطے میں بند تھی۔ طوطے کے کان مڑوڑے جائیں تو جن کے کانوں میں اینٹھنی ہوتی تھی۔ سر پر چپت لگائی جائے جن کو اپنی چندیا میں چانٹا لگتا محسوس ہوتا تھا۔ آج کے مادہ پرست یورپ کی جان پیسے کے طوطے میں بند ہے۔ یہ طوطا ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پنجرے میں مقید ہے۔ ان کے نزدیک اخلاق، روایات، تہذیب، مقدس شخصیات کا احترام کوئی چیز نہیں۔ کسی کی دل آزاری ان کے نزدیک کوئی معنی نہیں رکھتی۔ یہ پیسوں کے ایک ایسے بھوت ہیں جو باتوں کو نہیں مانتے۔ ان کادماغ کو بائیکاٹ کا کوڑا ہی درست کرسکتا ہے۔
1۔ اگر مسلمان اپنی گاڑیاں شیل پیڑول پمپ کے قریب بھی نہ لے جائیں۔
2۔ اگر فلپس کے تیار کردہ آلات کو اپنے حرام کرلیا جائے۔
3۔ اگر یونی لیور سے ایسے نفرت کی جائے جیسے پلید چیزوں سے ہوتی ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو چند دن میں اس جن کی گنجی چندیا میں بھینچا دماغ ٹھکانے آسکتا ہے۔
کاش! ایسا چند دنوں کے لیے ہی سہی ، مسلمان ایسا کر گزریں۔“ (ضرب مومن)

شیل کمپنی نے بائیکاٹ کو غیر موثر کرنے کے لیے انعامی اسکیم شروع کردی ہے۔ اس کی وجہ سے بہت سے لوگ انعام کی لالچ میں وہاں سے پیڑول بھروائیں گے ۔ ۔ ۔ اس کے مقابلے کے لیے .P.S.O بھی انعامی اسکیم کا اجراء کرے۔ ویسے اس کی ضروت نہیں ہے لیکن ہمارا ایمان کمزور ہے جس کے لیے یہ ضروری ہے۔

Apr 04

غیر حاضری کی وجہ

یہ ہفتہ ایسی مصروفیت میں گزرا کہ انڑ نیٹ چلا نہیں سکا۔ آج بہت کوشش کے بعدایک تحریر پوسٹ کر سکا ہوں۔ مصروفیت بھی ایسی کہ کوئی خاص نہیں۔ مطلب یہ کہ جب میں‌ فارغ تو بجی نہیں، بجلی موجود تومیں‌ فارغ نہیں، اگر بجلی بھی موجود اور میں‌ بھی فارغ تو کمپیوٹر نہیں فارغ، چھوٹا بھائی نیٹ چلا رہا ہوتھا ۔
ارے ۔ ۔ ۔ یہاں‌ تو فارغ کی گردان شروع ہوگئی۔ اللہ خیر کرے۔ اب آئندہ بھی لگتا ہے بلاگ پر نہیں آسکاوں گا۔ کیونکہ میرے پسندیدہ میگزین کمپیوٹنگ کا سالنامہ آرہا ہے۔اگرچہ اس کو فروری میں آنا تھا، لیکن منتظمین کی دیگر مصروفیت کی وجہ سے دو مہنے لیٹ ہوگیا۔ منتظمین کے علان کے مطابق اس میں خصوصی قسم کی تحریریں ہوں گی، لہذا ان کو پڑھنا اور ان پر عمل کرنے کی وجہ سے مزید کچھ دن کے لیے مصروف ہوجاؤں گا۔ پتا نہیں بلاگر حضرات اب تک اپنے بلاگ پر کیا کیا لکھ چکے ہیں اور آئندہ بلاگ پر میری آمد تک کیا کچھ تحریر ہوچکا ہوگا؟ اس حساب سے میں‌ بلاگنگ میں بہت پیچھے رہ جاؤں گا۔اپنے بلاگ پر پوسٹ لکھنا، دوسروں کی تمام تحریریں پڑھنا اور ان پر اپنی رائے دینی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ :shock:

Mar 16

آج 08-03-16 کا دن بس ٹینشن میں ہی گزرا۔ صبح ‌جب اُٹھا تو سب سے پہلا مسلئہ انٹرنیٹ ٹھیک کروانے کا تھا جو 4 دن سے بند پڑا ہوا تھا یہ تقریباً 03:00 بجے حل ہوا تو نیا مسلئہ بجلی کا تھا جس کی وجہ سے کافی پریشان ہوں صبح 12:00 سے رات 12:00 بجے تک 5 مرتبہ بجلی بند ہوئی اور ہر مرتبہ سسٹم ڈائریکٹ بند ہوا۔ اگر یہی صورتحال رہی تو امید ان گرمیوں میں میرا سسٹم خراب ہوکر ہی رہے گا۔ اللہ خیر کرے۔ Kesc والے اگر ٹائم فریم دے دیں کہ اتنے بجے سے اتنے وقت بجلی بند ہوگی تو بھی یہ مسلئہ کسی حد تک حل ہو سکتا ہے۔ لیکن نہیں اس طرح عوام کو احساس کیسے ہوگا کہ ہمارے ذمہ دار افسران نااہل ہیں ۔ ابھی لیکھنے کو تو بہت کچھ ہے ، اتنا ہی بہت ہے اگر بجلی پھر چلی گئی تو یہ بھی رہ جائے گا۔

Mar 08

خام خیالی
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ملک پر بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ بادشاہ کے دور حکومت میں امن وامان کا یہ حال تھا کہ راوی چین ہی چین لکھتا تھا(چاہے رعایا کچھ بھی کہے)۔اس زمانے کی بات ہے ذیادہ پرانی نہیں 2008ء کا واقع ہے کہ بادشاہ کے ایک وزیر با تدبیر کو انتہائی نامعلوم ذائع سے معلوم ہوا، اس کی مملکت خداداد(امریکا نواز) میں غیرملکی قیدی جیل میں اپنی زندگی کے دن پورے کر رہا ہے،نےخواب میں‌دیکھا کہ آسمان سے ایک فرشتے نے آکر اس کی ہتھکڑی کھول دی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وزیر موصوف کو فوراً خیال آیا کیوں نہ قیدی کے خواب میں آنے والے فرشتے کا کردار میں ادا کروں۔ لہذا وزیر محترم بادشاہ کے پاس اس قیدی کی فریاد لے کر پہنچے، بادشاہ نے بھی کمال فیاضی سے ایک ایسے قیدی کو معاف کردیا جس کے گلے کا پھندا جلال تیار کرنے میں مصروف تھا۔بادشاہ تو پہلے ہی عوام میں غیر مقبول تھا، لیکن اس اقدام نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔محل میں کھلبلی مچ گئی، بادشاہ نے اپنے وزیروں‌‌ مشیروں کا اجلاس طلب کیا کہ عوام کو کیسے مطمئن کیا جائے؟ بادشاہ کے نمائیندوں نے اس اقدام کی عوام کے سامنے بہت سی مجبوریاں اور حکمتیں پیش کیں لیکن عوام تو مان کر ہی نہیں دے رہی۔‌ آخر کار ان کو رعایا کے سامنے ہتھیاڑ ڈالنا پڑےاور رعایا کے مطالبے پر عمل کے لیے ایک اور اجلاس طلب ہوا۔ اب یہ ہوا کہ عوام کا مطالبہ ایک خط میں لکھ کر پڑوسی ملک کو دے دیا جائے تاکہ ہمارا سرپرست اعلٰی (امریکا) بھی ناراض نہ ہو۔ لہذا اس منصوبے پر عمل کرتےہوئے عوام کا تین سطری مطالبہ لکھ کر سرکاری مہر لگا کر بیھج دی گئی، اس کو مزید موثر بنانے کے لیے دوسرے اسلامی ممالک سے بھی اس مطالبے کی حمایت میں بیان دلوادیے گئے۔ سرکاری مہر کی وجہ سے پڑوسی ملک بھی خاصا پریشان ہوا اور بہت سی میٹنگز بھی ہوئی۔ لیکن اسلامی ممالک کی غیرت جاگ چکی تھی، آخر مجبوراً اس مطالبے پر عمل کیا۔ عمل پڑوسی ملک نے کیا لیکن رعایا یہاں کی خوش ہوئی، بادشاہ عوام میں غیر مقبول تھا وہ یک دم مقبولیت کی بلندیوں کو چھونے لگا۔ مطالبہ درج ذیل ہے:

ہم نے کشمیر + سنگھ کو رہا کیا جو کہ ہمارا اہم قیدی تھا
لہذا
آپ بدلے میں صرف کشمیر ہمیں دے دو

ورنہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔