Jun 10
پاک گروپ
کچھ دن پہلے میں نے ایک تجویز پیش کی تھی کہ ہم ڈاکڑ عبدالقدیر خان کے ساتھ اپنی عقیدت اور ہمدردی کا اظہار کس طرح کرسکتے ہیں۔ وہ تجویز یہاں دوبارہ دوہراتا ہوں، تاکہ قاری کو بار بار وہاں جانا نہ پڑے۔
“ ہم قریباً چالیس پچاس بلاگر ایک دوسرے کو تھوڑا بہت جانتے ہیں ۔ اگر یہ چالیس، پچاس افراد مل کر ایک گروپ بنالیں اور اس گروپ کا روزانہ ایک رکن ایک کارڈ کی بنیاد پر ڈاکڑ صاحب کو تہنتی (بیسٹ وش) کارڈ پوسٹ کرے۔ اگر ارکان کی تعداد بڑھ جائے تو روزانہ ایک کارڈ کی بجائے وہ یا تین رکن ہوجائیں گے۔ ہر مہنے کی یکم تاریخ کو تمام ارکان ایک کارڈ اور پھر روزانہ ایک ، دو یا تین افراد ایک ایک کارڈ پوسٹ کریں گے۔ اس طرح ڈاکڑ صاحب کو پہلی تاریخ کو لاتعداد بیسٹ وش کے کارڈ اور روزانہ ۔ ۔ ۔ ۔کارڈ موصول ہونگے۔ اس طرح ہم اپنے ہیرو کے ساتھ اپنی عقیدت کا اظہار بھی کرسکیں گے اور اس کے بہت سے فوائد بھی ہیں۔اس طریقے سے کسی رکن پر زیادہ مالی بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔“
تو جناب یہ تھی میری تجویز جس کو کچھ بلاگر نے پسند کیا لیکن کوئی ایسی صورت نہ بن سکی کہ گروپ بنایا جائے ۔ اس لیے میں نے لکھ دیا جس کو یہ تجویز پسند آئے وہ اپنے طور پر عمل کرتا رہے ۔ انشاءاللہ جلد ہی گروپ بنادیا جائے گا، اس کے بعد میں بھی گروپ کو بھول گیا۔ لیکن کل خاور کھوکھر کی اس تحریر نے ایک نیا جذبہ دیا جنھوں نے مختصر عرصے میں اتنا زیادہ کام کیا کہ ان کی تحریر پڑھ کر بہت خوشی ہوئی اس نئے جذبے کے تحت میں نے اپنے بلاگ پر ایک الگ صفحہ پاک گروپ کے نام سے بنادیا ہے۔ جو دوست بھی اس تجویز پر عمل کرنا چاہے یا کوئی اپنی قیمتی رائے سے نوازنا چاہے تو یہاں پر تبصرہ والے خانہ میں اپنا مشورہ دیں اور بتائیے آپ اس تجویز پر کتنا اور کس حد تک عمل کرنا چاہتے ہیں۔
ڈاکڑ صاحب کا پوسٹ ایڈریس جو بذریعہ انکل اجمل معلوم ہوا ہے وہ درج ذیل ہے۔
عبدالقدیر خان
گومل روڈ ۔ ای ۔ 7 ۔ اسلام آباد
May 28
28 مئی 1998ء کا سورج پاکستانی عوام کےلیے ایک بہت بڑی خوشخبری لے کر طلوع ہوا۔ اس دن پاکستان نے بظاہر ناممکن منزل تک پہنچ کر ایک اہم اعزاز حاصل کیا۔
منزل ایسی جس پر سفر سے شروع سے لے کر اختتام کے بعد تک انتہائی پریشانیاں، پابندیاں اور دھمکیاں ملتی رہیں۔اس دن کو قوم نے خصوصی خطاب دے کر قومی تہوار کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن افسوس صد افسوس ہمارا تعلق ان لوگوں سے ہے جو اپنی چیزوں سے محبت کرنے کی بجائے دوسروں کی روایات، رسم ورواج اپنا کر خوش ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنی تاریخ اور مختلف کارناموں کے بارے میں علم یا یاد نہیں ہوتا لیکن ویلنٹائن ڈے، بسنت اور نیو ائر نائٹ اس طرح مناتے ہیں کہ خود ان تہواروں کے وارث بھی سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں یہ اتہوار ہمارا ہے یا مسلمانوں کے۔
زیادہ پرانی نہیں صرف دس سال پہلے کی بات ہے ہم نے 28 مئی کو یوم تکبیر کا نام دے کر بھول گئے ۔ بہت سے لوگوں کو یہ تحریر پڑھ کر یاد آئے گا آج یوم تکبیر ہے۔ اسی طرح میں نے 23 مارچ کے بارے میں ایک تحریر لکھی تھی کہ کسی نے اس دن کو وش نہیں کیا۔ یوم تکبیر کو چھوڑئیے اپنی ایٹمی طاقت کے موجد ڈاکڑ عبدالقدیر خان کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ ہماری نسبت کو کس عزت سےنوازا۔ ہم نے اپنے محسن کو بے شمار بیماریوں کے ساتھ اُسی کے گھر قید کردیا۔ کوئی اس محسن کے لیے کچھ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کیا ہم اتنے بے حس اور گرے ہوئے ہیں جو قرارداد پاکستان ، یوم تکبیر کے علاوہ اپنے محسن کو بھی بھول گئے۔
جس کی وجہ سے پاکستان دنیا کے طاقتور ترین ملکوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
نوٹ: میرے ذہن میں ڈاکڑ عبدالقدیر کے لیے کچھ تجاویز ہیں انشاءاللہ جلد ہی یہاں پیش کروں گا۔
May 17
مختلف بلاگرز ابوشامل، عکس، انکل اجمل نے کافی متاثر کن انداز میں حقائق بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن مجھے افسوس ہے کہ یہ اتنا بڑا ایشو نہیں ہے جتنا بڑا کرکے اسے عوام میں پیش کیا جارہا ہے اس واقع پر ٹی وی پر بھی بحث چل رہی ہے۔ مرنے والے لوگوں کا تعلق چور ڈکیت سے تھا اگر ان کو زندہ جلادیا گیا تو کیا ہوا، 9 اپریل کو 6 افراد کو زندہ جلایا گیا وہ بے گناہ اور شریف تھے اُس وقت تو کوئی نہیں بولا کسی نے ایسے افسوس ناک واقع پر اتنا شور نہ کیا بس ایک دو دن بحث چلی اور سب بھول گئے۔ اس واقع میں اتنا ضرور ہوا ہے کہ عوام نے قانون اپنے ہاتھ میں لینا شروع کردیا ہے۔ عوام بھی بیچارے مجبور ہیں جب انصاف فراہم کرنے والے ادارے عوام کی بجائے چور، ڈکیت، شرابی کبابی اور ہر طرح کا غیر قانونی کام کرنے والوں کو تحفظ دیں گے تو عوام کس کے پاس جائیں۔ ان کے پاس۔ ۔ ۔ ۔ جو خود انصاف کی تلاش میں تقریباً ڈیڑھ سال کے عرصے سے سڑکوں پر گھوم رہے ہیں؟ ان سیاسی جماعتوں کے پاس جن کے اعمال میں 12 مئی اور 9 اپریل جیسے نہ جانے کتنے کارنامے لکھے ہوئے ہیں؟ ان حکمرانوں کے پاس جنہوں نے 12 مئی کو کراچی میں اپنی طاقت کا اظہار کیا تھا، جو آٹے اور اسٹاک ایکسچینج جیسے واقعات میں ملوث ہیں یا اُن لوگوں کے پاس جو ناجانے کتنے کیس معاف کرواکر حکومت کرنے آئے ہیں ؟ یا اُن پولیس والوں کے پاس جو کسی بھی مجرم سے چند ہزار روپے لے کر رہا کردیتے ہیں؟ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے آج تک ہمیں پولیس کے محکمے سے محفوظ رکھا ہوا ہے۔ ہمارے ایک رشتہ دار سے بائیک چھینی گئی۔ جب وہ اس کی ایف۔ آئی۔ آر کٹوانے گئے تو پہلے یہ فیصلہ ہی نہیں ہورہا تھا یہ علاقہ کس تھانے کے انڈر میں آتا ہے، مجبوراً 55 ہزار والی بائیک کی ایف آئی آر 10 ہزار میں کٹوائی اور 3 ماہ بعد محکمے کے بہترین سلوک کی وجہ سے 25 ہزار دے کر فائل بند کروائی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
فرض کیا لوگ اس طرح بے رحمانہ اور پرتشدد رویہ اختیار نہ کرتے، بلکہ ایک مہذب قوم کا کردار ادا کرتے ہوئے ان تین مجرموں کو پولیس کے حوالے کردیتے تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں یقین سے کہتا ہوں وہ تینوں آدھے گھنٹے بعد پولیس کی حراست سے آزاد ہوتے اور ان کا اگلا حدف اُنھیں گرفتار کروانے والے لوگ ہوتے۔ کراچی ایسے واقعات میں اپنی مثال آپ ہے پہلی تاریخ کو ایک مزدور تنخواہ لے کر گھر آرہا ہوتا ہے راستے میں اس کی جان سمیت تنخواہ چھین لی جاتی ہے۔۔۔ کسی راہ چلتے کو روک کر موبائیل لے لیتے ہیں اگر کوئی زیادہ بولے تو جان بھی جاتی ہے۔ ہر مہنے ایسے واقعات میں کئی لوگ مارے جاتے ہیں۔ حکومت کے ذمہ دار افراد ان کے اہلخانہ سے تعزیت کرکے بھول جاتے ہیں اس کے بعد کبھی کسی نے سوچا ہے اُن کے گھر والے خرچہ کیسے پورا کرتے ہیں۔کوئی نہیں سوچتا، ہمیں کیا اس سے ۔ 
اگر عوام نے خود انصاف لینا کی کوشش شروع کردی ہے تو ہر طرف شور ہورہا ۔ یہ بات حقیقت ہے کہ ایسے واقعات نہیں ہونے چاہیں۔ لیکن کیا یہ اس طرح فالتو بحث کرنے سے روک جائیں گے۔ اس کے لیے عملی طور پر اقدام کرنے کی ضرورت ہے جو کوئی بھی محکمہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ پہلے واقع کے تقریباً 1500 افراد گواہ ہیں لیکن پولیس اس بات پر میسر ہے یہ پولیس مقابلہ تھا عوام نے بعد میں دخل اندازی کرکے ان لوگوں کو جلایا ہے۔
آخر میں ضروری اطلاع: ایسا ہی واقع نارتھ ناظم آباد میں دوپہر تین بجے پیش آیا ابتدائی رپورٹ کے مطابق دو ڈاکوں کو آگ لگادی جن میں سے ایک ہلاک اور دوسرا زخمی حالت میں عباسی ہسپتال منتقل۔ اب بھی ارباب اختیار نے اس طرف توجہ نہ کی تو مزید واقعات سننے کے لیے تیار رہنا چاہے۔
Apr 26
14 اپریل 2008ء پوپ بینی ڈکٹ 16 ، امریکا کے دورے پر گئے۔ وہ ائر پورٹ پر اُترے تو ہزاروں لوگوں نے ان کا استقبال کیا، جبکہ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش بھی ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔پوپ طیارے سے باہر آئے تو صدر بش نے سر جھکا کر پوپ بینی ڈکٹ کو آداب کیا۔ دونوں بڑی گرمجوشی سے ملے اور وہاں موجود لوگوں نے تالیاں بجا کر پوپ کو خوش آمدید کہا۔ پچھلے آٹھ برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب جارج ڈبلیو بش کسی بھی شخصیت کا استقبال کرنے ائرپورٹ پر تشریف لائے۔ حالانکہ اس سے پہلے دنیا بھر کے حکمران صدر بش کی دعوت پر امریکا تشریف لاتے اورجاتے رہے لیکن صدر بش نے کسی کا استقبال نہیں کیا۔ صدر بش کسی صدر اور وزیراعظم کو ائرپورٹ چھوڑنے آئے اور نہ ہی انہوں نے کسی کا استقبال کیا۔ صدر بش کا پوپ بینی ڈکٹ سولہ کا استقبال صلیبی جنگوں کے اس دور میں ایک حیران کن اقدام ہے اور اسلامی دنیا میں اس اقدام کو بڑی سنجیدگی سے دیکھا جارہا ہے۔
بینی ڈکٹ نے 14 اپریل 2005ء کو پوپ کی باقاعدہ ذمہ داریاں سنبھالیں۔جس وقت اس نے ذمہ داریاں سنبھالی تھیں اس وقت پانچ لاکھ رومن کیتھولک ویٹی کن میں موجود تھےیہ عیسائی تاریخ کا ایک بڑا اجتماع تھا۔ پوپ کو ذمہ داری سونپنے کی اس تاریخ میں ایک دلچسپ پہلو بھی تھا۔ پوپ بنائے جانے کی پچھلی ایک ہزار تاریخ میں پہلی بار تیس دیگر سربراہان مملکت کسی جرمن پوپ کا استقبال کررہے تھے۔ جبکہ جرمنی کے ہزاروں باشندے اس تقریب میں شرکت کے لیے اٹلی پہنچ گئے تھے۔ جب بینی ڈکٹ نے پوپ کی ذمہ داریاں سنبھالی تو ویٹی کن میں موجود پانچ لاکھ افراد نے تالیاں بجاکر پوپ بینی کو خوش آمدید کہا۔اس موقع پر روم میںسخت حفاظتی انتظامات کئے گئےتھے۔ شہر میں طیارہ شکن توپیں نصب تھیں اور روم کی تمام فضائی حدود بند کردی گئی تھی۔ سڑکوں پر دس ہزار پولیس اہلکار گشت کررہے تھے اور اطالوی فضائیہ اور نیٹو کے طیارے اٹلی کی فضائی حدود کی نگرانی کررہے تھے۔ یہ عیسائی مذہب کے روحانی پیشوا کی تقریری کی مختصر سی ایک جھلک تھی۔
اگر ہم اس تاریخ کو سامنے رکھ کر اس کا تقابل پاکستان میں علمائے کرام سے کریں تو بڑی تشویش ناک اور افسوس ناک صورت حال سامنے آتی ہے۔ بدقسمتی سے ہماری ساٹھ سالہ تاریخ میں علمائے کرام کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا، اس کو پڑھ، سن، اور دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔ آپ غؤر کریں ایک طرف عیسائی دنیا ہے جو اپنے پوپ کا اس قدر احترام کرتی ہےکہ امریکی صدر تک وائٹ ہاؤس سے نکلتے ہیں اور پوپ کا استقبال کرنے ائر پورٹ جاتے ہیں۔ دوسری طرف ہم اور ہمارے حکمران ہیں جو علمائے کرام کو دہشت گرد، جاہل، اُجڈ، اور قدامت پرست قرار دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم عام مسلمان بھی حکمرانوںسے کم نہیں، کبھی کہا جاتا ہے علماء نے لاعلمی میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے اور کبھی ۔ ۔ ۔ ۔ جس حد تک ہوسکے اپنا حصہ ضرور ڈالتے ہیں۔
ہم اگر چند برسوں کا تجزیہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے پوری دنیا میں علمائے کرام اور مذہب پسند لوگوں کو بدنام کرکے رکھ دیا ہے اور پوری دنیا میں علمائے کرام، اسلام پسند اور باریش لوگوں کو دہشت گرد اور انتہا پسند سمجھا جانے لگا۔ ان لوگوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کاروائیاں ہوئیں اور ہزاروں لوگوںکو عالم، فاضل، حافظ اور قاری ہونے کے جرم تہ تیغ کردیا گیا۔ بہت سے ڈاکڑوں، انجینئیروں اور کمپیوٹر آپریٹروں کو اغواء کرکے منظر سے غائب کردیا، ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ یہ باریش تھے کسی حد تک اسلام پر عمل پیرا بھی تھے۔ سب سے بڑھ کر ہمارے آقا (امریکا) کو ایک آنکھ نہیں بھاتے تھے۔ اس سلسلے میں جامعہ حفصہ اور لال مسجد کی مثال لے لیجئے۔ لال مسجد اسلام آباد کی ایک تاریخی اور مرکزی مسجد تھی اور جامعہ حفصہ پاکستان کے چند بڑے مدارس میں شمار ہوتا تھا۔ یہ پاکستان کا واحد مدرسہ تھا جس میں پانچ ہزار کے لگ بھگ طالبات دینی علوم سیکھ رہی تھیں۔ ان میں اکثر ایسی طالبات تھیں جن کا کوئی والی وارث نہیں تھا۔ جو اس دنیا میں تنہا تھیں اور مدرسے کی صورت میں انھیں محفوظ چھت میسر تھی۔ اسی طرح لال میں نماز جمعہ کو ہزاروں کا اجتماع ہوتا اور یہاں سے ہر شب جمعہ کو دینی قافلے نکلتے تھے۔ یہ لوگ قرب و جوار میں برائی کے خلاف بھی برسر پیکار تھے اور معاشرے کی اصلاح میں بڑا اہم کردار ادا کرہے تھے۔ یہ لوگ یتیم بچے اور بچیوں کی شادی کراتے، انھیں نان نفقہ فراہم کرتے تھے۔ لیکن پھر کیا ہوا؟
ہمارے حکمرانوں نے ان پر فوجی طاقت ٹھونس دی اور آپ سمیت پوری دنیا جانتی ہے صرف دس دنوں میں اس مسجد اور مدرسے سمیت تین ہزار سے زائد طالبات، سینکڑوں طلبہ اور علامہ عبدالرشید غازی کو شہید کردیاگیا اور جس انداز میں مولانا عبدالعزیز کو گرفتار کیا، جس ہتک آمیز طریقے سے سے انہیں میڈیا پر پیش کیا گیا اس سے بھی پاکستان کا بچہ بچہ واقف ہے۔ قطع نظر اس بحث سے کہ کون غلط تھا مولانا عبدالعزیز یا حکمران، مولانا اس وقت اسلام کے نمائندے تھے کیا اس طرح اُنھیں میڈیا پر پیش کرنا اسلام کی توہین نہیں؟ کیا اسلامی افکار کا مذاق نہیں اُڑیا گیا؟
آپ مولانا عبداللہ شہید، مولانا یوسف لدھیانوی، مفتی نظام الدین شامزئی، مولانا اعظم طارق، مفتی حبیب اللہ مختار، مفتی عبدالسمیع، مفتی جمیل، مفتی عتیق الرحمٰن اور دیگر شخصیات کو ہی لیجئے۔ ان لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا گیا اور انھیں کس طرح دیدہ دلیری سے شہید کیا گیا؟ آپ علاقہ جات میں جاری آپریشن کو دیکھ لیجئے۔ یہ آپریشن بھی بنیادی طور پر مذہبی لوگوںکے خلاف ہے۔ یہ لوگ مذہب پسندہیں ان کی روایات اور کلچر میں مذہب کا رنگ غالب نظر آتا ہے چنانچہ ہمارے امریکا نواز حکمرانوں نے ان لوگوں کے خلاف آپریشنز شروع کیے اور ہزاروں لوگوں کو بغیر کسی وجہ سے شہید کردیا۔ آپ باجوڑ مدرسے پر بمباری کو ہی لے لیجئے۔ اس مدرسے پر گن شپ ہیلی کاپڑوں سے بمباری کی گئی اور کہا یہ گیا کہ ان لوگوں کو دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے۔ آج دنیا کے کسی بھی ملک میں کہیں بھی بم حملہ ہوتا ہے، دھماکہ ہوتا ہے، ایکسیڈینٹ ہوتا ہے، طیارہ گرتا ہے یا ہائی جیک ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ کوئی آدمی اغوا کیا جاتا ہے یا کہیں زلزلہ ہی آجاتا ہے تو اس کا ذمہ دار بھی مسلمانوں کو ٹھرایا جاتا ہے۔ بے گناہ مسلمانوں کو القاعدہ اور اُسامہ بن لادن کا ساتھی قرار دے کر گوانتا ناموبے جیسی جیلوں میں بند کردیا جاتا ہے۔ باریش طلبہ کو دہشت گرد اور انتہاپسند قرار دیتے ہیں اور باپردہ اور مذہب پسند خواتین کو قدامت پرست کہا جاتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے عیسائی دنیا اپنے رہنماؤں کو وی وی آئی پی پروٹوکول دے، ان کا استقبال کے لیے سپر پاور امریکا کا صدر تک ائرپورٹ پہنچ جائے۔ لاکھوں ہزاروں لوگ اپنے پوپ کا پرجوش استقبال کریں اور ہم اپنے علمائے کرام کو دہشت گرد اور انتہا پسند قرار دے دیں . . . .
یہ انتہائی قابل افسوس اور باعث شرم بات ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ علمائے کرام انبیاء کرام کے کے وارث ہیں۔“ اور ہم ان وارثوں کے ساتھ کیا سلوک کررہے ہیں؟ کبھی ہم نے اور ہمارے حکمرانوں نے اس بارے میں سوچا۔ یقین کیجئے اگر ہمارا اور ہمارے حکمرانوں کا علمائے کرام کے خلاف ایسا ہی ناروا رویہ برقرار رہا تو وقت دور نہیں جب ہمیں نماز جنازہ پڑھانے کے لیے بھی کوئی عالمِ دین نہیں ملے گا۔
(نوٹ: یہ تحریر ہفت روزہ ضرب مومن میں فرق کے عنوان سے یاسر محمد خان نے لکھی تھی جو کافی طویل ہے میں نے اس میں کچھ کاٹ اور کچھ اپنی طرف سے بڑھا کر یہاں پیش کی ہے۔ اصل اور مکمل تحریر پڑھنے کے لیے ضرب مومن 25 اپریل تا یکم مئی 2008ء دیکھئے۔)
Apr 16
ہر طالب علم کی خواہش ہوتی ہے وہ پیپروں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے اور بہترین نمبروں سے پاس ہو۔فائنل پیپر سارے سال کی محنت کی عکاسی کرتے ہیں۔ خصوصاً نویں دسویں کے بورڈ کے پیپر خاص اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ انھی کی بنیاد پر طالب علم اپنے آنئدہ تعلیمی مستقبل کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔جیسا کہ کراچی والوں کو معلوم ہے نویں دسویں کے بورڈ کے پیپر ہورہے ہیں۔میرا چھوٹا بھائی بھی میڑک کے پیپردے رہا ہے۔ آج اس کا پہلا پیپر تھا۔ پیپر کے دوران جو صوتحال تھی، اسے سن کر بہت افسوس ہوا۔جن طالب علموں نے ایم کیو ایم کے کارکنوں کو پیسے دئیے ان کی فل مدد کی گئی اس کے علاوہ کوئی اور نقل کرنے کی کوشش کرتا تو اس سے نقل کا سامان چھین لیتے، نگران ٹیچر نہیں بلکہ بھائی لوگ۔
ایک نگران ٹیچر شاید نئی بھرتی ہوئی تھی اس نے وہاں کے ایک ٹیچر سے دریافت کیا یہ کون ہیں؟ ٹیچر نے بتایا یہ اس علاقے کا بڑا کارکن ہے اسے ڈون کہتے ہیں۔ ڈون کا نام سن کر وہ بیچاری بھی خاموش ہوگئی، ورنہ اگلے دن بوری میں ملتی۔ ویسے جب بڑے اور پرانے ٹیچر انھیں روک نہیں رہے تھے تو وہ کیوں روکتی۔نقل ایسے ہورہی تھی جیسے پانچویں کے پیپر ہورہے ہوں۔ میں نے پنجاب میں میڑک کیا، وہاں آٹھویں تک چیٹنگ ہوتی ہے اس کے بعد بہت سختی کے ساتھ نمٹا جاتا ہے۔بھائی بتا رہا تھا کہ ایک بچے کے ساتھ اس کے والد آئے ہوئے تھے وہ اس کے پاس بیٹھے پرچہ حل کروا رہے تھے۔ افسوس ہے ایسے والدین پر جو اپنے ہاتھوں اپنے بچے کا مستقبل خراب کرتے ہیں۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں پڑھنے کا مقصد سرٹیفکیٹ کا ایک بنڈل جمع کرنا ہوتا ہے، بجائے اس کے اعلٰی تعلیم حاصل کرکے ملک وقوم کی خدمت کرے۔پڑھائی ایک رسم اختیار کرچکی ہے۔ بچہ بڑا ہوا اس کو پڑھنے ڈال دیا، جب پڑھائی سے دل بھر جائے تو کسی کام پہ لگادیا جاتا ہے۔یہ ساری بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ تیار ہونے والی نئی نسل جب ملک کو سنبھالے گی تو ملک کا کیا بنے گا؟
Apr 11
فیس نہ ملنے پر علاج کرنے سے انکار، 4 سالہ بچہ دم توڑ گیا
ڈاکڑوں نے بچے کو تڑپتا چھوڑ دیا والدین، پولیس کی متاثرین سے بدسلوکی، اہلخانہ کا لاش کے ساتھ دھرنا(ایکسپریس 11/04/08 )
جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے مجھے نہیں یاد میں نے کبھی کسی ڈاکڑ کی کی اچھی خصوصیت سنی ہو۔ یہ واقع ایسا ہے کہ اس پر زیادہ لکھنے کو دل نہیں چاہتا۔ بس چند سوالات چھوڑتا ہوں۔
1۔ کیا کسی ایسی قوم نے کبھی ترقی کی ہے؟
2۔ کیا ایک بچے کی قیمت چند سو یا چند ہزار روپے ہے؟
3۔ کیا ہم انسان ہیں؟
Mar 23
پاکستان سے محبت
23 مارچ کا پورا دن گزر گیا لیکن کہیں سے بھی اس دن کو وش کرنے کا میسج نہیں آیا، اگر اس کی جگہ ویلنٹائن ڈے یا نیو ائیر نائٹ ہوتا تو inbox آج انھی ایس ایم ایس سے بھرا ہوتا۔ یہ ہے ہماری پاکستان سے محبت۔
Feb 13
میں کافی دنوںسے کوشیش کر رہا تھا کہ کسی موضوع پر کوئی تحریر لکھ کر بلاگ پر پوسٹ کروں۔ لیکن حالات ہی ایسے تھے سمجھ نہیں آرہاتھا کس موضوع پر زور آزمائی کی جائے۔ سیاست پر بحث کروں یاں پھر عوامی مسائل کے متعلق بات چیت کی جائے۔ بس اسی کشمکش میں اتنے دن گزر گئے اور کچھ تحریر نہ کرسکا۔ جس پہلو سے بھی سوچتا ہوں تو ہر طرف بے چینی اور مسلئے مسائل منہ کھولے کھڑے ہیں۔ کچھ سمجھ نہیںآرہا ہمارے پیارے ملک میں کیا ہورہا ہے۔ امن وامان کی صورت حال بالکل بگڑ چکی ہے، ہر شخص پریشان ہے کہ نہ جانے کب کیا ہوجائے۔ سوات اور وزیرستان میں اپنے ہی شہریوں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ اپنے ہی ملک کو فتح کیا جارہا ہے۔(یہاں تک کے اپنا ہی ملک فتح نہیں ہورہا ) دوسری طرف تمام سیاسی جماعتیں الیکشن کی تیاریوں میںمصروف ہیں۔ ایسے الیکشن جس میں عوام کی کوئی خاص توجہ نہیں ہے۔ ہر شخص کی یہی خواہش ہے کہ کسی طرح 18 فروری کادن بخیریت وعافیت گزر جائے۔ ملک میں شدید قسم کی افراتفری پھیلادی گئی ہے کہ ذراسی افواہ اَڑی اور چند لمحوںمیںکاروبار زندگی بند۔ گزشتہ ہفتہ بھی ایسی ہی افواہوں کی زد میںگزرا بس اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمارے ملک کی حفاظت کرےاور ملک میں امن وامان بحال ہو۔
Recent Comments