تحرير کردہ: شکاری بتاريخ: Thursday، 13 November 2008
میں نے جب نیا نیا کپمیوٹر چلانا سیکھا تو میرے پاس نیٹ نہیں تھا بس ایسے ہی گیمز کھیل لیں اور تھوڑا بہت ایڈوبی آتا تھا اسے کھول کر بیٹھا رہتا۔ اس وقت کمپوٹنگ میگزین کا اجراء ابھی نئی بات تھی اور وہ بھی باقاعدگی کے ساتھ۔ یہ اردو زبان میںہونے کی وجہ سے مجھے بہت پسند ہے کیونکہ میںنے اب تک کوئی اور ٹیکنالوجی میگزین اردو زبان میں نہیں دیکھا۔ میں نیوز ایجینسی والے کے پاس ایسے ہی گیا تھا کہ وہاں پر اس میگزین پر نظر پڑ گئی تھوڑا سا اُلٹ پلٹ کر دیکھا تو عام فہم معلوم پوا جس پر میںنے خرید لیا۔ اب ہرماہ 30 تاریخ کو نیوز ایجنسی کی دوکان پر کمپیوٹنگ آگیا کیا ؟؟؟؟ جواب ایک ہی ملتا بھائی تمھیں میگزین کی اتنی جلدی کیا ہے اتنی جلدی تو میگزین شائع کرنے والوںکو بھی نہیںہوگی۔ اُس وقت یہ اپنی ابتداء میںتھا شاید اس لیے ہرماہ باقاعدگی سے شائع ہورہا تھا لیکن اب جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا ہے منتظمین کا جوش ٹھنڈا ہوتا جا رہا ہے یا پھر کوئی خاص مشکلات ہوگئیں ہیں جن میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔یہ ماہنامہ سے شروع ہوا پھر چھ ماہی بن گیا ابھی چھ ماہی کا پہلا میگزین تھا کہ اگلے میگزین کو نہ آنا تھا نہ آیا۔ ان کے آخری شمارے کو آئے ہوئے دس ماہ ہوچکے ہیں یعنی ایک سال ۔ ۔ ۔ ۔ اُمید ہے اب سالنامہ آہی جائے گا۔ اس میگزین نے اردو زبان ہونے کی وجہ سے اپنے قارئین کی تعداد میں بھی بہت تیزی سے اضافہ کیا اور ان کا محبوب میگزین بن گیا۔ لیکن اب پتا نہیںاس کو کس کی نظر لگ گئی ہے جو دوبارہ شائع ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ اس کی اشاعت رک جانے کی وجہ سے ٹیکنالوجی کی دنیا میں بہت بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے اب میری اس پوسٹ کے ذریعے امانت علی گوہر ، علمدار حسین بھائی اور دیگر منتظمین سے ریکویسٹ ہے وہ کمپیوٹنگ میگزین کو دوبارہ ماہنامہ کی شکل میں شائع کریں۔
تحرير کردہ: شکاری بتاريخ: Thursday، 6 November 2008
کچھ عرصہ قبل میں نے ایک پوسٹ لکھی، جس میں ڈاکڑ عبدالقدیر کے ساتھ اپنے جذبات کے اظہار کرنے کی تجویز تھی۔ لیکن میری سستی کہہ لیجئے کہ میں دوسرے بلاگرز کو اکھٹا کرکے گروپ کی شکل میں عمل نہیں کرسکا۔ اس پر سب سے زیادہ اور بہترین کام خاور کھوکھر نے یہاں کیا۔ اس کے علاوہ بھی کسی دوست نے کام کیا ہو تو معلوم نہیں۔
آج ایک عرصے بعد عبدالقدوس نے اس تجویز کو ایک نئی شکل دیدی ہے اور اس نئی شکل کا نام بلاگر کی تحریک دیا ہے ۔ انھوں نے اپنے بلاگ پر مینو کے نیچے ایک پکچر لگائی، اور ساتھ اس کا کوڈ دیا ہے انھوں نے دوسرے بلاگر کو بھی دعوت دی کہ وہ اس کوڈ کو اپنے بلاگ میں لگا کر بلاگر تحریک کو آکے بڑھائیں۔ (یہ پکچر میرے بلاگ پر بھی دیکھی جاسکتی ہے۔)
کوڈ یہ ہے۔

اس کو اپنے بلاگ پر لگانے کا طریقہ یہ کہ اپنے بلاگ پر تھیم والے صفحہ پر جائیں وہاں ایک آپشن Widgets کا ہے اس میں ٹیکسٹکی وڈتھ منتخب کر کے ٹائیٹل میں بلاگر کی تحریک لکھنا ہے اور نیچے کوڈ ڈال کر سیو چینج پر کلک کردیں۔ بس کام ختم۔
کچھ نامعلوم وجوہات کی وجہ سے میں اپنے بلاگ پر کوڈ نہیں دے پارہا اس لیے کوڈ یہاں سے حاصل کریں۔ کوئی دوست مجھے اپنے بلاگ پر کوڈدینے کا طریقہ بھی بتادے۔
تحرير کردہ: شکاری بتاريخ: Monday، 18 August 2008
کچھ دن پہلے میرا یاہو کا میسنجر کرپٹ ہوگیا۔ میں نے یاہو کی سائیٹ سے نیا میسنجر ڈاون لوڈ کیا اور جب انسٹال کرنے لگا تو معلوم ہوا یہ بھی کرپٹ ہوگیا ہے ۔ جس کا صاف مطلب تھا سسٹم میں کوئی وائرس ہے جو یہ کرپٹ ہوگیا ہے۔ اس وقت میرے پاس اے وی جی رجسڑ اور نورٹن ٹریل دونوں تھے ان دونوں نے سسٹم اسکین کیا اور کہا یہاں کوئی وائرس نہیں ہے ۔ خیر کسی طرح بھی میسنجر چلنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ مجبورا نئی ونڈو انسٹال کرکے یاہو کو چلنے کے لیے راضی کیا۔
ونڈو انسٹال کرنے کے دوران غلطی سے یو ایس بھی کو میں نے فارمیٹ کر دیا۔ اسے اوپن کرنے سے پہلے ایک مرتبہ پھر فارمیٹ کرنے کے لیے کہا جاتا ہے جو میں نے نہیں کیا بلکہ قریبا سات ڈیٹا ریکوری کے سوفٹ وئیر آزما کر دوسری ڈرائیو میں ڈیٹا ریکور کر لیا لیکن اب یو ایس بی اوپن کرتا ہوں تو اسے فارمیٹ کرنے کے لیے کہا جاتا ہے، فارمیٹکرتا ہوں تو ونڈو فارمیٹ کرنے سے انکار کردیتی ہے ۔ اسے میں نے دوسرے کمپیوٹر پر بھی ٹرائی کیا ہے لیکن یہی ایرر آرہا ہے۔
ابھی ونڈو کو کچھ دن ہی گزرے تھے کہ میسنجر کو پھر کیا سوجھی اور کرپٹ ہوگیا۔ اب کی بار یاہو کی سائٹ سے میسنجر ڈاؤن لوڈ کیا تو کرپٹ نکلا۔۔۔۔۔ سوفٹ پیڈیا سے ڈاؤن لوڈ کیا تو وہ بھی کرپٹ ۔۔۔۔
اس کا سیدھا سا مطلب ہے کہ سسٹم میں وائرس ہے لیکن اے وی جی سے دو مرتبہ اسکین کروایا اور اس نے دونوں مرتبہ کہہ دیا کوئی وائرس نہیں ہے ۔ اب سوفٹ پیڈیا سے دوسری سورس کو استعمال کرتے ہوئے میں نے میسنجر ڈاؤن لوڈ کرنے نی کوشش کی تو اس نے مجھے مزید خواری سے بچاتے ہوئے ڈاؤن لوڈ ہونے کی زحمت اور صحیح انسٹال ہونے کی مہربانی کی جو اب تک قائم ہے۔
اس ساری کہانی میں یہ سمجھ نہیں آئی کہ یاہو کی سائٹسے لیا ہوا میسنجر کرپٹ ہوگیا اور دوسری سورس کا میسنجر چل گیا ۔۔ دوسرا مسلہ یو ایس بی کا ہے ۔۔۔۔ اور تیسرا مسلہ وائرس کا ہے جسے اے وی جی بھی پکڑنے سے قاصر ہے۔ حتٰی کہ اب خود اے وی جی کو بھی اسنے تنگ کرنا شروع کردیا ہے۔ مثلاً جب اے وی جی کا دل چاہتا ہے چل جاتا ہے اور جب چاہتا ہے کرپٹ فائل کی طرح ایک طرف پڑا سویا رہتا ہے۔
Recent Comments