Feb 28
اسلام علیکم،
ذرا دیکھیے
زعم مقبولیت ہے دھرا دیکھیے
دیکھیے دیکھیے آئینہ دیکھیے
خواب منزل کہ جب ریزہ ریزہ ہوا
یہی بہتر کہ اب راستہ دیکھیے
مستند، معتمد بھی ہوئے مشتبہ
پھر محل ریت کا ہے گرا دیکھیے
کوئی مثلِ چٹاں، کوئی رشکِ جبل
ریلۃ آب میں بہہ گیا دیکھیے
شغل کیجیےنہ اب ملک وملت کےساتھ
اب کوئی دوسرا مشغلہ دیکھیے
ایک بیساکھی جوں ہی شکستہ ہوئی
ہو کے بیساکھ وہ رہ گیا دیکھیے
ڈھونڈتے ہیں خرد مند وجۃ شکست
سانحے سے بڑا سانحہ دیکھیے
اک کھلونا ہے، اطفال ہیں درجنوں
بیچ میداں میں ہوتا ہے کیا دیکھیے
(حاصل تمنائی)
Feb 24
اسلام علکیم،
آج کی خبروں سے اندازہ ہوا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف بہت جلد صدارت سے الگ ہوجائیں گے۔
اورپاکستان کی ان سے جان چھوٹ جائے گی۔
Feb 21
اسلام علیکم ،
میرے گھر کے پاس کچی آبادی ہے جہاں زیادہ ترغریب لوگ رہتے ہیں۔ ہمارے محلے میں ہر ہفتے یوٹیلٹی اسٹور کی طرف سے اشیاء خوردونوش کا سامان لیے ایک ٹرک آتا ہے۔ جس سے غریب لوگوں کے ساتھ ساتھ ہم جیسے متوسط طبقے کا بھی فائدہ ہو جاتا، ایک تو سارا دن لمبی قطار میں کھڑا نہیں ہونا پڑتا، دوسرا یہاں سے چھوٹا بھائی بھی باآسانی خریداری کر لیتا ہے، ورنہ ہمیں اپنی دوکان کی ٹائمنگ میں رودوبدل کرکے لمبی قطار میں لگنا پڑتا تھا۔ لیکن آج تو بھائی لوگوں نے حد ہی کر دی، جیسے ہی ٹرک آیا تو انھوں نے یہ کہہ کر کچی آبادی کے مکینوں کو پیچھے کر دیا کہ: “آپ لوگوں نے ہماری پارٹی کو ووٹ نہیں دیا تھا، یہ اُن کے لیے ہے جس نے ہمیں ووٹ دیا تھا۔“ اس کے بعد پارٹی کے ارکان نے اس سے خریداری کی(شکر ہے خریداری کی لوٹا نہیں اگر لوٹ لیتے تو ہم کیا کر لیتے)۔ ان خریداروں میں بھی زیادہ تر صاحب حثیت تھے۔ اس کے بعد جو بچا وہ ان غریب لوگوں نے خریدا۔ ہمیں تو خیر کوئی مشکل نہیں ہوئی کیوں کہ ابو کا ووٹ انھی نےلیا تھا۔ اصل سوال یہ ہے کہ:
ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے؟
کیا یہ اپنے ہر فعال میں آذاد ہیں؟
ابھی ان کے اَمیدوار جیتے ہیں تو یہ حال ہے جب ان کی گورنمنٹ بنے گی تو عوام کا کیا بنے گا؟
Feb 18
اسلام علکیم ،
جب میںصبح اُٹھا تو مجھے معلوم ہوا ابو ووٹ ڈال آئیں ہیں ان کی روداد آپ اُنھی کی زبانی پڑھئے: “میںجب ووٹ ڈالنے گیا تو پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر ایم کیو ایم کے کارکن موجود تھے، اور ان کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ جب میں بیلٹ پیپر پر اسٹیمپ لگانے لگا تو وہاں موجود کارکنوں نے مجھے کہا کہ پتنگ پر نشان لگائیں، جس پر مجھے مجبوراً عمل کرنا پڑا:( ۔ اگر ایسا نہ کرتا تو…… ہمارے علاقے میںانھی کا کنڑول ہے؟ “
یہ سب کہانی سننے کے بعدمیں نے ناشتہ بھی نہیں کیا اور اپنے بڑے بھائی کو ساتھ لے کر اپنی زندگی کا پہلا ووٹ کاسٹ کرنے نکلا، اس کی رواداد کچھ اس طرح ہے کہ سب سے پہلے ہم اپنے ووٹ کی پرچی بنوانے کے لیے گئے میری تو پرچی فوراَ بنادی گئی لیکن بھائی کا پتا چلا کہ اس کا ووٹ ڈالا جاچکا ہے:?۔ لیکن پولنگ ایجنٹ نے پھر بھی پرچی بنادی
۔ اس کے بعد ہم ہنستے مسکراتے پولنگ بوتھ پہنچے تو میرا ووٹ فائینل کردیا گیا لیکن بھائی کو واپس کردیا۔ بھائی نے کہا: “ چلو اچھا ہے انگھوٹھا گندا نہیں ہوا :wink:“ ۔خیر میں نے اپنا ووٹ ڈالا اور گھر کی راہ لی۔ لکھنے کو تو اور بھی بہت کچھ ہے لیکن کیا فائدہ ؟ ایسی کہانیاں تقریباَ سب کو ہی معلوم ہیں۔
Feb 17
ہر مسلمان کے دل میںآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اپنی جان، مال، آل اولاد، ماں باپ، عزت وآبرو اور دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلٰٰی اخلاق وکردار نے غیر مسلموں کو بھی اعتراف حقیقت پر مجبور کیا ہے اور بعض غیر مسلم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں رطب اللسان نضر آتے ہیں۔ شاید آپ بھائیوں کو یاد ہو کہ اس سے پہلے جب یورپی ممالک نے خاکے شائع کیے تھے، تو پوری دنیا کے مسلمان سراپا احتجاج بن گئے اور ان کی مصنوعات کا بائیکات کر دیا جس کی وجہ سے ان ممالک کو بہت مالی نقصان بھی ہوا۔ اُن ممالک کو فوراً معافی مانگنا پڑی تھی ۔ لیکن اس وقت مسلمانوں نے اس کے آگے مکمل بند نہیں باندھا، وقتی طور پر احتجاج کیا چند مطالبات رکھے اور بس۔۔۔ جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ان ممالک نے یہ حرکت دوبارہ کی ، وہ بھی بڑی ڈھٹائی کےساتھ۔
دوسری طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے موے مبارک کی توہین بھی بدترین جرم ہے چہ جائیکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل ذات عالی کی توہین کی جائے۔ ناموسِ رسالت کا تحفظ ہر مسلمان پر فرض ہے۔اُمتِ مسلمہ نے کبھی اس فریضے کی ادائیگی سے غفلت نہیں برتی۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے آج تک امت مسلمہ نے اس مسئلہ پر کسی نرمی ولچک کا مظاہرہ نہیں کیا، بلکہ شاتم رسول کو کیفر کردار تک پہنچایا ہے۔ صحابہ کا اسوہ اس حوالے سے ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔
محسن انسانیت، تاجدار دو عالم، محمد مصطفٰی، احمد مجتبٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی پر مشتمل خاکوںکی اشاعت ایک بہت بڑا جرم ہے۔ دیکھا جائے تو توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کا جرم درحقیقت کئی جرائم کا مجموعہ ہے، پہلا اس خاکے کو بنانا، جبکہ جرائم پر ڈھٹائی دکھانا خود ایک جرم ہے۔ یہ مسئلہ جہاں اس لحاظ سے حقوق اللہ سے تعلق رکھتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پیغمر ہیں، وہاں اس معاملہ کا تعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ہے ، اس لیے یہ مسئلہ حقوق العباد سے بھی ہے،اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور انسان کو یہ حق حاصل نہیں کے وہ توہین رسالت کے جرم کو معاف کرسکے، اس لیے بعض لوگوں نے اس جرم پر معافی مانگنے کے مطالبات کئے ہیں،وہ لوگ یاد رکھیں کہ اب اس جرم عظیم کی معافی ممکن نہیں ہے، اسلئے معافی کے بجائے ملزمان کی حوالگی اور انھیں شرعی سزا دینے کا مطالبہ کیا جائے۔ جو ملک توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کرنے والوںکی سرپرستی یا حوصلہ افرائی کرتا ہے وہ بھی اس جرم میں برابر کا شریک ہے، وہ بدترین عذاب کے لیے تیار رہیں، اللہ رب العزت کا قہر وعذاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی دشمن یا شاتم رسول کو نہیںچھوڑے گا، یہ شاتم رسول دنیا میں بھی ذلت ورسوائی سے دو چار ہونگے اور آخرت میں ان کے لیے درد ناک عذاب ہے ہی۔
ان سطور کے ذریعہ ہم پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک سے پر زور مطالبہ کرتے ہیںکہ وہ ان یورپی ممالک سے سفیر بلالیں اور ان ممالک کے سفیروں کو ملک بدر کرتے ہوئےان ممالک سے تعلقات منقطع کرلیں۔ ہم اپنے پاکستانی بھائیوں سمیت ملک بھر کے مسلمان بھائیوں سے پر زور اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان تمام یورپی ممالک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرکے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ذات سے اپنے عشق و محبت کا ثبوت پیش کریںاور یہ یقین رکھیں کہ انشاءاللہ! ان کا یہ عظیم عمل بروز قیامت آقائے دو عالم محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی شفاعت کے حصول کا ذریعہ ثابت ہو گا۔
نوٹ: اس کے ساتھ ساتھ کوئی ایسا لائحہ عمل بھی اختیار کیا جانا چاہیے کہ آئند کوئی بھی توہین رسالت جیسی حرکت کرنے کا سوچ بھی نہ سکے۔
Feb 17
حکیم الاسلام حضرت اقدس مولانا قاری محمد طیب قاسمی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں:
“1947ء میں ملک آزاد ہوا تو مشرقی پنجاب مسلمانوں سے خالی ہوگیا، تو وہاں کے ہندوؤںنے ایک بہت بڑا مشاعرہ کیا، جس کا صدر مولانا حبیب رحمتہ اللہ کو بنایا گیا۔ جب مولانا تشریف لائے تو لوگ گلے مل کر روئے اور بہت روئے اور پھر کہنے لگے کہ:مولانا!آپ گئے تو ہمارہ دین دھرم بھی ساتھ لے گئے۔ مولانا نے فرمایا کہ: بھائی!ہم تمہارہ دین ودھرم کیسے لے گئے؟انھوں نے کہا کہ: آپ لوگ تھے تو یہاں کی مسجدیں آباد تھیں، پانچ وقت اذان ہوتی تھیں، اذانیں سن کر ہمارے دلوں میں بھی جذبہ اُٹھتا تھا کہ ہم بھی بھگوان کا نام لیں، مگر اب نہ اذانیں ہیں اور نہ نماز،روزہ کا منضر ہے، اس لئے ہم تو ٹھنڈے پڑ گئے، ہمارا دیں ودھرم ختم ہوگیا،جو تمہارے دم سے قائم تھا۔
اس قاری مولانا محمد طیب قاسمی رحمتہ اللہ مہتمم دارلعلوم دیوبند نے فرمایا:میں کہتا ہوںکہ اگر ان کے گھروں تک علمِ دین نہ بھی پہنچے، اذانوں کے ذریعہ اللہ تعالی کا نام ان کے گھروں تک ضرور پہنچتا ہے۔
ایک زمانے میںدارلعلوم کی مسجد کے موذن جان محمد تریکی تھے،جب وہ اذان کہتے تھے تو لاؤڈاسپیکر نہ ہونے کے باوجود بلا تکلف ان کی اذان اسٹیشن سے سنی جاسکتی تھی۔ان کی آواز اتنی تیز تھی کے کافی دور تک جاتی تھی،جب ان کی اذان شروع ہوتی تھی تو بہت سے ہندو بیٹھ جایا کرتے تھے کہ اب اللہ کا نام لیا جارہا ہے۔“
Feb 13
ایک ادھیڑ عمر شخص اپنے نوعمر بیٹے کے ساتھ شام گئے کسی بستی سے گزرا تو اس کی نظر ایک دوکان پر پڑی۔ اس نے چپکے سے بیٹے کے کان میں کہا:
“میں نے یہاں چار بار چوری کی ہے۔“
نو عمر بیٹے نے حیرت سے دکان کی طرف دیکھا۔ دیے کی مدھم سی روشنی میںاسے وہاںایک دکان دار نظر آگیا۔ اس نے اسی حیرت کے عالم میںاپنے باپ سے کہا:
“اس دکان میںتو اب بھی دیا جل رہا ہے ارو ہمارے گھر میںتو اب بھی اندھیرا ہے۔“
(بشکریہ بچوں کااسلام شمارہ292 ، 27جنوری 2008)
Feb 13
میں کافی دنوںسے کوشیش کر رہا تھا کہ کسی موضوع پر کوئی تحریر لکھ کر بلاگ پر پوسٹ کروں۔ لیکن حالات ہی ایسے تھے سمجھ نہیں آرہاتھا کس موضوع پر زور آزمائی کی جائے۔ سیاست پر بحث کروں یاں پھر عوامی مسائل کے متعلق بات چیت کی جائے۔ بس اسی کشمکش میں اتنے دن گزر گئے اور کچھ تحریر نہ کرسکا۔ جس پہلو سے بھی سوچتا ہوں تو ہر طرف بے چینی اور مسلئے مسائل منہ کھولے کھڑے ہیں۔ کچھ سمجھ نہیںآرہا ہمارے پیارے ملک میں کیا ہورہا ہے۔ امن وامان کی صورت حال بالکل بگڑ چکی ہے، ہر شخص پریشان ہے کہ نہ جانے کب کیا ہوجائے۔ سوات اور وزیرستان میں اپنے ہی شہریوں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ اپنے ہی ملک کو فتح کیا جارہا ہے۔(یہاں تک کے اپنا ہی ملک فتح نہیں ہورہا ) دوسری طرف تمام سیاسی جماعتیں الیکشن کی تیاریوں میںمصروف ہیں۔ ایسے الیکشن جس میں عوام کی کوئی خاص توجہ نہیں ہے۔ ہر شخص کی یہی خواہش ہے کہ کسی طرح 18 فروری کادن بخیریت وعافیت گزر جائے۔ ملک میں شدید قسم کی افراتفری پھیلادی گئی ہے کہ ذراسی افواہ اَڑی اور چند لمحوںمیںکاروبار زندگی بند۔ گزشتہ ہفتہ بھی ایسی ہی افواہوں کی زد میںگزرا بس اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمارے ملک کی حفاظت کرےاور ملک میں امن وامان بحال ہو۔
Recent Comments