تحرير کردہ: شکاری بتاريخ: Wednesday، 13 February 2008
ایک ادھیڑ عمر شخص اپنے نوعمر بیٹے کے ساتھ شام گئے کسی بستی سے گزرا تو اس کی نظر ایک دوکان پر پڑی۔ اس نے چپکے سے بیٹے کے کان میں کہا:
“میں نے یہاں چار بار چوری کی ہے۔“
نو عمر بیٹے نے حیرت سے دکان کی طرف دیکھا۔ دیے کی مدھم سی روشنی میںاسے وہاںایک دکان دار نظر آگیا۔ اس نے اسی حیرت کے عالم میںاپنے باپ سے کہا:
“اس دکان میںتو اب بھی دیا جل رہا ہے ارو ہمارے گھر میںتو اب بھی اندھیرا ہے۔“
(بشکریہ بچوں کااسلام شمارہ292 ، 27جنوری 2008)
تحرير کردہ: شکاری بتاريخ: Wednesday، 13 February 2008
میں کافی دنوںسے کوشیش کر رہا تھا کہ کسی موضوع پر کوئی تحریر لکھ کر بلاگ پر پوسٹ کروں۔ لیکن حالات ہی ایسے تھے سمجھ نہیں آرہاتھا کس موضوع پر زور آزمائی کی جائے۔ سیاست پر بحث کروں یاں پھر عوامی مسائل کے متعلق بات چیت کی جائے۔ بس اسی کشمکش میں اتنے دن گزر گئے اور کچھ تحریر نہ کرسکا۔ جس پہلو سے بھی سوچتا ہوں تو ہر طرف بے چینی اور مسلئے مسائل منہ کھولے کھڑے ہیں۔ کچھ سمجھ نہیںآرہا ہمارے پیارے ملک میں کیا ہورہا ہے۔ امن وامان کی صورت حال بالکل بگڑ چکی ہے، ہر شخص پریشان ہے کہ نہ جانے کب کیا ہوجائے۔ سوات اور وزیرستان میں اپنے ہی شہریوں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ اپنے ہی ملک کو فتح کیا جارہا ہے۔(یہاں تک کے اپنا ہی ملک فتح نہیں ہورہا ) دوسری طرف تمام سیاسی جماعتیں الیکشن کی تیاریوں میںمصروف ہیں۔ ایسے الیکشن جس میں عوام کی کوئی خاص توجہ نہیں ہے۔ ہر شخص کی یہی خواہش ہے کہ کسی طرح 18 فروری کادن بخیریت وعافیت گزر جائے۔ ملک میں شدید قسم کی افراتفری پھیلادی گئی ہے کہ ذراسی افواہ اَڑی اور چند لمحوںمیںکاروبار زندگی بند۔ گزشتہ ہفتہ بھی ایسی ہی افواہوں کی زد میںگزرا بس اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمارے ملک کی حفاظت کرےاور ملک میں امن وامان بحال ہو۔
Recent Comments