توہین آمیز خاکے۔۔۔۔۔۔۔
تحرير کردہ: شکاری بتاريخ: Sunday، 17 February 2008 ہر مسلمان کے دل میںآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اپنی جان، مال، آل اولاد، ماں باپ، عزت وآبرو اور دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلٰٰی اخلاق وکردار نے غیر مسلموں کو بھی اعتراف حقیقت پر مجبور کیا ہے اور بعض غیر مسلم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں رطب اللسان نضر آتے ہیں۔ شاید آپ بھائیوں کو یاد ہو کہ اس سے پہلے جب یورپی ممالک نے خاکے شائع کیے تھے، تو پوری دنیا کے مسلمان سراپا احتجاج بن گئے اور ان کی مصنوعات کا بائیکات کر دیا جس کی وجہ سے ان ممالک کو بہت مالی نقصان بھی ہوا۔ اُن ممالک کو فوراً معافی مانگنا پڑی تھی ۔ لیکن اس وقت مسلمانوں نے اس کے آگے مکمل بند نہیں باندھا، وقتی طور پر احتجاج کیا چند مطالبات رکھے اور بس۔۔۔ جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ان ممالک نے یہ حرکت دوبارہ کی ، وہ بھی بڑی ڈھٹائی کےساتھ۔
دوسری طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے موے مبارک کی توہین بھی بدترین جرم ہے چہ جائیکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل ذات عالی کی توہین کی جائے۔ ناموسِ رسالت کا تحفظ ہر مسلمان پر فرض ہے۔اُمتِ مسلمہ نے کبھی اس فریضے کی ادائیگی سے غفلت نہیں برتی۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے آج تک امت مسلمہ نے اس مسئلہ پر کسی نرمی ولچک کا مظاہرہ نہیں کیا، بلکہ شاتم رسول کو کیفر کردار تک پہنچایا ہے۔ صحابہ کا اسوہ اس حوالے سے ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔
محسن انسانیت، تاجدار دو عالم، محمد مصطفٰی، احمد مجتبٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی پر مشتمل خاکوںکی اشاعت ایک بہت بڑا جرم ہے۔ دیکھا جائے تو توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کا جرم درحقیقت کئی جرائم کا مجموعہ ہے، پہلا اس خاکے کو بنانا، جبکہ جرائم پر ڈھٹائی دکھانا خود ایک جرم ہے۔ یہ مسئلہ جہاں اس لحاظ سے حقوق اللہ سے تعلق رکھتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پیغمر ہیں، وہاں اس معاملہ کا تعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ہے ، اس لیے یہ مسئلہ حقوق العباد سے بھی ہے،اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور انسان کو یہ حق حاصل نہیں کے وہ توہین رسالت کے جرم کو معاف کرسکے، اس لیے بعض لوگوں نے اس جرم پر معافی مانگنے کے مطالبات کئے ہیں،وہ لوگ یاد رکھیں کہ اب اس جرم عظیم کی معافی ممکن نہیں ہے، اسلئے معافی کے بجائے ملزمان کی حوالگی اور انھیں شرعی سزا دینے کا مطالبہ کیا جائے۔ جو ملک توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کرنے والوںکی سرپرستی یا حوصلہ افرائی کرتا ہے وہ بھی اس جرم میں برابر کا شریک ہے، وہ بدترین عذاب کے لیے تیار رہیں، اللہ رب العزت کا قہر وعذاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی دشمن یا شاتم رسول کو نہیںچھوڑے گا، یہ شاتم رسول دنیا میں بھی ذلت ورسوائی سے دو چار ہونگے اور آخرت میں ان کے لیے درد ناک عذاب ہے ہی۔
ان سطور کے ذریعہ ہم پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک سے پر زور مطالبہ کرتے ہیںکہ وہ ان یورپی ممالک سے سفیر بلالیں اور ان ممالک کے سفیروں کو ملک بدر کرتے ہوئےان ممالک سے تعلقات منقطع کرلیں۔ ہم اپنے پاکستانی بھائیوں سمیت ملک بھر کے مسلمان بھائیوں سے پر زور اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان تمام یورپی ممالک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرکے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ذات سے اپنے عشق و محبت کا ثبوت پیش کریںاور یہ یقین رکھیں کہ انشاءاللہ! ان کا یہ عظیم عمل بروز قیامت آقائے دو عالم محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی شفاعت کے حصول کا ذریعہ ثابت ہو گا۔
نوٹ: اس کے ساتھ ساتھ کوئی ایسا لائحہ عمل بھی اختیار کیا جانا چاہیے کہ آئند کوئی بھی توہین رسالت جیسی حرکت کرنے کا سوچ بھی نہ سکے۔

Recent Comments