Mar 30

پاکیزہ سیرت لوگ

قدرت اللہ شہاب بیان کرتے ہیں کہ جس مقام پر اب منگلا ڈیم واقع ہے۔ وہاں پر پہلے میر پور کا پرانا شہرآباد تھا۔ جنگ کے دوران اس شہر کا بیشتر حصہ مبلے کا ڈھیر بنا ہوا تھا۔ ایک روز میں ایک مقامی افسر کو اپنی جیپ میں بٹھائے اس کے گردونواح میں‌ گھوم رہا تھا۔ راستے میں ایک خستہ حال بوڑھا اور اس کی بیوی ایک گدھے کو ہانکتے ہوئے سڑک پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ دونوں کے کپڑے میلے کچیلے اور پھٹے پرانے تھے۔ دونوں کے جوتے ٹوٹے پھوٹے تھے۔ انھوں نے اشارے سے ہماری جیپ کو روک کر دریافت کیا: “ بیت المال کس طرف ہے؟ “ آزاد کشمیر میں درکاری خزانے کو بیت المال ہی کہا جاتا تھا۔ میں نے پوچھا۔ “ بیت المال میں تمہارا کیا کام؟ “ بوڑھے نے سادگی سے جواب دیا: “میں نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر میر پور شہر کے ملبے کو کرید کرید کر سونے اور چاندی کے زیورات کی دو بوریاں جمع کی ہیں۔ اب انھیں اس گدھے پر لاد کر ہم بیت المال میں جمع کروانے جارہے ہیں۔ “ ہم نے ان کا گدھا ایک پولیس کانسٹیبل کی حفاظت میں چھوڑا اور بوریوں کو جیپ میں‌ رکھ کر دونوں کو اپنے ساتھ بٹھا لیا، تاکہ انھیں‌ بیت المال لے جائیں۔ آج بھی جب وہ نحیف ونزار اور مفلوک الحال جوڑا مجھے یاد آتا ہے تو میرا سر شرمیندگی اور ندامت سے جھک جاتا ہے کہ جیپ کے اندر میں ان دونوں کے برابر کیوں بیھٹا رہا۔ مجھے تو چاہیے تھا کہ میں ان کے گرد آلود پاؤں اپنی آنکھوں اور سر پر رکھ کر بیٹھوں۔ ایسے پاکیزہ سیرت لوگ پھر کہاں ملتے ہیں؟
اب انھیں ڈھونڈ چراغ رخِ زیبا لے کر
(شہاب نامہ صفحہ 426 )
آپ لوگوں کا کیا خیال ہے کہ آج کے زمانے میں ایسے لوگ مل سکتے ہیں ؟

Mar 25

آبرو کی آبرو
آج اردو کے لفظ ” آبرو ” کی آبرو سے کھیلیں گے۔ اس کے آباؤاجداد کا تعلق فارسی سے ہے۔ یہ بس یونہی ٹہلتا ہوا اردو ادب کی حدود میں آگیا۔ اردو دانوں‌کو یہ لفظ اتنا پسند ایا کے انھوں نے اسے تاحیات اردو ادب کی رکنیت دے دی۔ ہوسکتا ہے میری معلومات کم ہوں‌، ابرو نے خود ہی اردو ادب کی رکنیت حاصل کی ہو۔اس کے لیے پاکستان کی خفیہ ایجنسی سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ تحقیقات کرکے اصل ذمہ داران کا تعین کرے۔
مزید آگے بڑھنے سے پہلےہم آبرو کے معنی پر نظر ڈال لیں۔فیروزاللغات اردو جدید کے نئے ایڈیشن کے مطابق یہ 1۔ عصمت 2۔قدرومزلت۔شرف۔ناموری 3۔امارت۔وجاہت 4۔ساکھ۔اعتبار۔بات 5۔شرم۔لاج 6۔حیثیت 7۔ناموس اور عزت کے معنٰی میں استعمال ہوتا ہے۔آبرو کا استعمال شہروں میں‌اکثر اور دیہاتوں میں کبھی کبھی ایک لاحقے “ ریزی “ کے ساتھ سننے میں آتا رہتا ہے۔حتٰی کے حال ہی میں‌ کراچی کے کچھ شہریوں نے اس کے معنی پر مزار قائد پر عمل بھی کیا۔اس سے بڑھ کر دیہاتوں‌ میں “ مرد “ اپنی آبرو بچانے کےلیے اپنی ہی عورتوں کو قتل کردیتے ہیں‌۔ وہ اپنی نظر میں ایسا کرکے ابرو مند ہوجاتے ہیں۔ایسا کرنا بہت بڑے دل گردے کا کام ہے، میرے خیال میں ضرب المثل “ آبرو کا صدقہ جان “ ایسے ہی کسی موقع کے لیے بنی ہوگی۔ ایک غرب ادمی کے پاس سب سے بڑی دولت آبرو ہوتی ہے “ آبرو موتی کی آب ہے “(مثل)۔ اگر اس کی آبرو دو کوڑی ہوجائے تو اس کے پاس کیا بچا؟ اس معاملے میں دولت مند فائدے میں ہیں، اگر ان کی آبرو ڈوب جائے تو وہ کسی اور علاقے میں نام بدل کر رہنے لگتے ہیں ۔ لیکن حیرت ہے سیاست دانوں پر کہ جس وجہ سے ان کی آبرو دوکوڑی ہوتی ہے، وہ پھر اس کے پیچھے لگے رہتے ہیں۔ اس کی بڑی مثال چودھری پرویز الٰہی ہیں، جن کی جماعت کی آبرو ریزی 18 فروری کو عوام نے کی۔ اب دوبارہ وہ 24 مارچ کو پالیمینٹ سے آبرو گنوا بیٹھے۔ شاید انھوں نے یہ مثل نہیں پڑی “ ابرو جگ میں رہے بادشاہی جانیے “ (عزت بڑی چیز ہے۔ عزت بادشاہت کے برابر ہے)۔ ان کی حرکتوں‌ سے لگتا ہے وہ خود ہی اپنی آبرو کے درپے ہوگئے ہیں۔ میرے خیال میں اب تک آبرو کی کافی آبرو یا آبرو ریزی ہوچکی، کہیں میرے بلاگ کی آبرو لٹ نہ جائے میں اپنا قلم یہیں پر روکتا ہوں۔ ورنہ میرے سامنے آبرو پر بہت سی ضرب المثل پڑی ہیں جن پر تبصرہ کرنا باقی ہے۔

Mar 23

پاکستان سے محبت
23 مارچ کا پورا دن گزر گیا لیکن کہیں سے بھی اس دن کو وش کرنے کا میسج نہیں آیا، اگر اس کی جگہ ویلنٹائن ڈے یا نیو ائیر نائٹ ہوتا تو inbox آج انھی ایس ایم ایس سے بھرا ہوتا۔ یہ ہے ہماری پاکستان سے محبت۔

Mar 23

ایس۔ایم۔ایس کے ذریعہ بھیک مانگنے کا نیا طریقہ، زیر علاج ظاہر کرکےبیلنس مانگا جاتا ہے۔(قومی اخبار2008۔03۔22 )
فراڈ کا یہ ذریعہ واقعی بہت موثر ہے۔پرسوں میرے دوست کے پاس بھی ایسا ہی میسج آیا میں نے بھی دیکھا، میسج کچھ اسطرح تھا: ” آپ جو کوئی بھی ہو برائے مہربانی 20 روپے کا بیلنس بیھج دو میں ہسپتال میں ہوں۔” میرا دوست بیلنس بیھجنے کے لیے تیار تھا کہ معلوم نہیں کس مجبوری میں‌وہ بیلنس مانگ رہا ہے میں نے کہا اسے 20 روپے کے بیلنس کا کیا فائدہ ؟ اگر واقعی اس کو 20۔10 روپے کی ضرورت ہے تو اتنے پیسے ہسپتال میں کسی سے بھی لے سکتا ہے۔ آج کی اس خبر نے حقیقت بھی واضح کر دی۔

قرضے کے بدلے بیٹی یا گردے دینے کا مطالبہ، اسرار نے امان نامی شخص سے ساڑھے پانچ لاکھ کا قرض لیا تھا جو غربت کی وجہ سے ادا نہ کرسکا، بدلے میں 19 سالہ جوان لڑکی کا رشتہ یا تینوں بیٹو‌ں کا ایک ایک گردہ مانگ لیا۔ (قومی اخبار2008۔03۔22 )
ارے پکڑو پاکستان اور پاکستانی عوام کو ان کے قدم کس منزل کی طرف گامزن ہیں ؟
آخر میں ایک نعرہ
پاکستانی عوام زندہ باد

Mar 22

دو تین سال پہلے میں نے ایک میگزین میں یہ ترانہ پڑھا تھا جو مجھے اچھا لگا، تو اپنے پاس نوٹ کر لیا۔ آج اس کو یہاں پیش کررہا ہوں ۔ اُمید ہے کہ بہت سے دوستوں کا اسے پڑھ کر دل بھی دکھے گا لیکن جو حقیقت ہے وہ تو ہے۔

نیا قومی ترانہ

کھیت گھر زمین شاد باد
کار بہترین شاد باد

پگڑیاں، وزارتیں ،دوکان
کوٹھیاں، عمارتیں، مکان

لوٹ مار دھاڑ شاد باد
بیوقوف لوگ ہیں عوام

رہ گئے غلام کے غلام
کرسی، عہدہ، سلطنت

پائندہ تابندہ باد
لیڈروں کی منزل مراد

ہر طرف سازشوں کے جال
سرنگوں ترقی وکمال

پاک سرزمین میں حلال
رشوتوں وزارتوں کا مال

سایہء امریکہ باکمال

Mar 19

لاکھ مانگو کروڑ دیتا ہے
اللہ رب العزت فرماتے ہیں: لئن شکرتم لازیدنکم(سورہ ابراہیم آیت 7) یعنی اگر تم شکر کرو گے تو ہم تمہیں بڑھا کر دیں گے۔ گویا شکر ایک ایسا عمل ہے جس کی وجہ سے نعمتیں باقی رہتی بھی‌ہیں اور بڑھتی بھی چلی جاتی ہیں۔
ٹوٹے رشتے وہ جوڑ دیتا ہے
بات رب پہ جو چھوڑ دیتا ہے
اس کے لطف وکرم کا کیا کہنا
لاکھ مانگو کروڑ دیتا ہے
یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ مانگنے والے کو اپنے مانگنے میں کمی کا شکوہ رہا جبکہ دینے والے کے خزانے بہت زیادہ ہیں اور مانگنے والوں کے دامن چھوٹے ہیں جو بہت دلدی بھر جاتے ہیں۔

Mar 16

آج 08-03-16 کا دن بس ٹینشن میں ہی گزرا۔ صبح ‌جب اُٹھا تو سب سے پہلا مسلئہ انٹرنیٹ ٹھیک کروانے کا تھا جو 4 دن سے بند پڑا ہوا تھا یہ تقریباً 03:00 بجے حل ہوا تو نیا مسلئہ بجلی کا تھا جس کی وجہ سے کافی پریشان ہوں صبح 12:00 سے رات 12:00 بجے تک 5 مرتبہ بجلی بند ہوئی اور ہر مرتبہ سسٹم ڈائریکٹ بند ہوا۔ اگر یہی صورتحال رہی تو امید ان گرمیوں میں میرا سسٹم خراب ہوکر ہی رہے گا۔ اللہ خیر کرے۔ Kesc والے اگر ٹائم فریم دے دیں کہ اتنے بجے سے اتنے وقت بجلی بند ہوگی تو بھی یہ مسلئہ کسی حد تک حل ہو سکتا ہے۔ لیکن نہیں اس طرح عوام کو احساس کیسے ہوگا کہ ہمارے ذمہ دار افسران نااہل ہیں ۔ ابھی لیکھنے کو تو بہت کچھ ہے ، اتنا ہی بہت ہے اگر بجلی پھر چلی گئی تو یہ بھی رہ جائے گا۔

Mar 08

خام خیالی
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ملک پر بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ بادشاہ کے دور حکومت میں امن وامان کا یہ حال تھا کہ راوی چین ہی چین لکھتا تھا(چاہے رعایا کچھ بھی کہے)۔اس زمانے کی بات ہے ذیادہ پرانی نہیں 2008ء کا واقع ہے کہ بادشاہ کے ایک وزیر با تدبیر کو انتہائی نامعلوم ذائع سے معلوم ہوا، اس کی مملکت خداداد(امریکا نواز) میں غیرملکی قیدی جیل میں اپنی زندگی کے دن پورے کر رہا ہے،نےخواب میں‌دیکھا کہ آسمان سے ایک فرشتے نے آکر اس کی ہتھکڑی کھول دی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وزیر موصوف کو فوراً خیال آیا کیوں نہ قیدی کے خواب میں آنے والے فرشتے کا کردار میں ادا کروں۔ لہذا وزیر محترم بادشاہ کے پاس اس قیدی کی فریاد لے کر پہنچے، بادشاہ نے بھی کمال فیاضی سے ایک ایسے قیدی کو معاف کردیا جس کے گلے کا پھندا جلال تیار کرنے میں مصروف تھا۔بادشاہ تو پہلے ہی عوام میں غیر مقبول تھا، لیکن اس اقدام نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔محل میں کھلبلی مچ گئی، بادشاہ نے اپنے وزیروں‌‌ مشیروں کا اجلاس طلب کیا کہ عوام کو کیسے مطمئن کیا جائے؟ بادشاہ کے نمائیندوں نے اس اقدام کی عوام کے سامنے بہت سی مجبوریاں اور حکمتیں پیش کیں لیکن عوام تو مان کر ہی نہیں دے رہی۔‌ آخر کار ان کو رعایا کے سامنے ہتھیاڑ ڈالنا پڑےاور رعایا کے مطالبے پر عمل کے لیے ایک اور اجلاس طلب ہوا۔ اب یہ ہوا کہ عوام کا مطالبہ ایک خط میں لکھ کر پڑوسی ملک کو دے دیا جائے تاکہ ہمارا سرپرست اعلٰی (امریکا) بھی ناراض نہ ہو۔ لہذا اس منصوبے پر عمل کرتےہوئے عوام کا تین سطری مطالبہ لکھ کر سرکاری مہر لگا کر بیھج دی گئی، اس کو مزید موثر بنانے کے لیے دوسرے اسلامی ممالک سے بھی اس مطالبے کی حمایت میں بیان دلوادیے گئے۔ سرکاری مہر کی وجہ سے پڑوسی ملک بھی خاصا پریشان ہوا اور بہت سی میٹنگز بھی ہوئی۔ لیکن اسلامی ممالک کی غیرت جاگ چکی تھی، آخر مجبوراً اس مطالبے پر عمل کیا۔ عمل پڑوسی ملک نے کیا لیکن رعایا یہاں کی خوش ہوئی، بادشاہ عوام میں غیر مقبول تھا وہ یک دم مقبولیت کی بلندیوں کو چھونے لگا۔ مطالبہ درج ذیل ہے:

ہم نے کشمیر + سنگھ کو رہا کیا جو کہ ہمارا اہم قیدی تھا
لہذا
آپ بدلے میں صرف کشمیر ہمیں دے دو

ورنہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Mar 02

پہچان
مرزا صاحب پنج وقتہ نماز کے پابند تھے۔ ایک دفعہ دہلی کی ایک مسجد سے نماز مغرب ادا کرنے کے بعد گھر آرہے تھے کہ راستہ میں کھڑے ایک اجنبی بچے نے کہا: “نمستے انکل۔“
“بےادب، جاہل، بدتمیز ایک مسلمان کو نمستے کرتا ہے۔“مرزا صاحب بچے پر برس پڑے۔
“انکل جی! کیا آپ مسلمان ہیں‌؟“ بچے نے شرارتی معصومیت کے ساتھ سوال کیا۔
“ہاں بھائی! میں ‌اللہ کو مانتا ہوں، اس کے رسول کو مانتا ہوں، نماز پڑھتا ہوں۔ مسلمان نہیں تو اور کیا ہوں؟“ مرزا صاحب نے روایتی بوڑھوں کی طرح‌‌‌‌‌ کہانی لمبی کی۔
“جناب! میں تو بس آپ کا چہرہ دیکھا جو ہمارے پنڈت جی سے ملتا جلتا تھا۔ اس لیے نمستے کہہ بیٹھا۔ I’m sorry۔“
یہ کہہ کر بچے نے مرزا صاحب کی حیران نظروں کو زیادہ دیر اپنے چہرے پر غضب ناک شعاعیں نہ برسانے دیں اور یہ جا وہ جا اوجھل ہوگیا۔
یہ قصہ ہمارے ایک مسجد القلبی نے ہمیں سنایا۔ تمام سامعین نے اسے لطیفہ سمجھا اور ہنس دیے، محفل برخاست ہوگئی۔ لیکن بچے کی بات میرے دماغ میں گھڑ کررہ گئی۔ میں ‌رہ رہ کر یہ سوچنے لگا کہ آخر اس کی بات میں کتنی گہرائی پہناں تھی۔
یہ حقیقت ہے کہ ہر چیز کو پہچاننے کی کوئی نہ کوئی نشانی ہوتی ہے۔ جس طرح انسان کی اخلاقیات کو اس کے معاملات سے، اس کی شرافت وتہذیب کو گفتگو سے، اس کی شخصیت کو رویے اور برتاؤ سے، اس کی نفاست کو لباس سے، اس کی متانت کو موبائل کی گھنٹی سے، اس کی طبعیت کو چال ڈھال سے، اس کے کردار کو آزمائشی حالات سے، اس کے ذوق کو حسنِ انتخاب سے، اس کے شوق کو اس کے پسندیدہ مشغلے سے پہچانا جاتا ہے۔
اسی طرح مقامات کی پہچان کی بھی نشانیاں ہوتی ہیں جیسے کراچی کو مزارِ قائد سے، نیویارک کو اسٹیچو آف لبرٹی، پیرس کو ایفل ٹاور،آگرہ کو تاج محل، چین کو چائنہ وال، قاہرہ کو اہرامِ مصر، سڈنی کو اوپرا ہاؤس، دوبئی کو برج العرب سے پہچانا جاتا ہے۔
ہمیں‌ اس “لیبل“ سے احساس کمتری ہے۔ ہمیں ٹوپی پہننے سے عار اور ڈاڑھی رکھنے سے شرم آتی ہے۔ وہ سکھ ہم سے کیوں نہیں‌ اچھے جنھوں نے فرنگیوں کی دست درازی کے باوجود اپنی مذہبی پہچان کو قائم رکھا اورایک ہم ہیں جو ان کے خوف سے اپنے ہی ملک میں مذہبی پہچان کو اپنانے سے اجتناب کرتے ہیں۔
ہم ایک شرمیلی برادری ہیں جو اپنے رب کے علاوہ سب سے شرماتے ہیں۔ ہم اپنے ہی وجود کو خنجر گھونپ رہے ہیں۔ ہم اپنی پہچان سے نفرت کررہے ہیں۔ ہم اپنا ہی لیبل مٹا رہے ہیں۔
دنیا میں ‌کسی بھی قوم کو پہچاننے میں غلطی کا احتمال موجود ہوتا ہےلیکن “سکھوں“ کو پہچاننے میں‌ کوئی غلطی نہیں کرسکتا۔ سکھوں کی مذہبی وثقافتی تہذیب نے تقریباً چار صدی پہلے پہلے جنم لیا۔ 1699ء میں گرو “گوبند سنگھ“ نے “خالصہ“ نامی عقیدہ کی بنیاد رکھی جس کے پانچ ارکان پانچ “ککے“ کہلاتے ہیں۔ کیس، کنگھا، کاچھا، کڑا اور کرپان۔ سکھوں کی کل آبادی تقریباً ڈھائی کروڑ ہے جو دنیا کی کل آبادی کا اعشاریہ 39 فیصد ہے۔ جن میں سے ایک کروڑ بیانوے لاکھ پندرہ ہزار سات سوسکھ ہندوستان میں رہتے ہیں جو ہندستان کی کل آبادی کا صرف 1.87 فیصد بنتے ہیں۔ سکھوں کی کل آبادی کا 83 فیصد ہندوستان میں رہتا ہے یعنی ہندوستان کے علاوہ پوری دنیا میں سکھوں کی تعداد صرف ستاون لاکھ چوراسی ہزار دو سو بہتر ہے لیکن پھر جانے کیوں دنیا کے کونے کونے میں قلیل تعداد ہونے کے باوجود سکھوں کا وجود نظر آتا ہے۔ یہاں پر ذرا رکتے ہیں‌اور آتے ہیں مسلمانوں کی طرف۔
سینسٹس بیور آف امریکا کے مطابق25 جون 2006ء تک دنیا کی آبادی تقریباً ساڑھے چھ ارب تھی جن میں 1.8 بلین مسلمان ہیں جو دنیا کی کل آبادی کا 29 فیصد ہیں۔ یعنی ہم دنیا کی دوسری بڑی برادری ہیں۔ دنیا میں ہر چوتھا آدمی مسلمان ہے۔ دنیا کا کل رقبہ 20.6 فیصد مسلمانوں کے پاس ہے جو ایک کروڑ اٹھارہ لاکھ تیراسی ہزار آٹھ سو نواسی مربع میل ہے۔ دنیا کے 57 ممالک میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ اسلام دنیا میں شرح پیدائش سے 0.6 فیصد تیزی سے پھیل رہا ہے۔ سی آئی اے کی فیکٹ بک کے مطابق 2200ء میں دنیا میں سب سے زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہوگی۔
اب واپس چلتے ہیں پچلھی بات کی طرف۔ آخر کیا وجہ ہے کہ سکھ اتنی قلیل تعداد میں‌ ہونے کے باوجود دنیا کے ہر حصے میں نظر آتے ہیں؟ ان کی بات کو انڑ نیشنل میڈیا خصوصی کوریج دیتا ہے۔ ان کی طرف کیمرہ کرکے ہندوستان کی پہچان کروائی جاتی ہے۔ان کی ثقافت زندہ ہے۔ ان کی معاشرے میں اہمیت ہے۔
“میرے دماغ میں‌ کرنٹ لگا کہ آخر کیوں؟ بے ساختہ جواب آیا: “لیبل۔“ لیبل ہی وہ چیز ہے جو سکھوں کے وجود کو قائم رکھے ہوئے ہے۔ سکھ صرف اپنی ڈاڑھی اور پگ کی وجہ سے دنیا کے ہر خطے میں‌ آشنائی رکھتے ہیں۔ چھوٹا ہو، بڑا یا بوڑھا ہر ایک بے جھجھک اپنے مذہنی لیبل کو اپناتا ہے۔
یہاں تک کہ گیارہ ستمبر کے بعد بھی جب سکھوں کو مسلمان سمجھ کر ان پر مظالم ڈھائے گئے تب بھی انہوں نے اپنے لیبل کو مضبوطی سے تھامے رکھا اور اس پر فخر کرتے رہے۔ لیکن ایک ہم مسلمان ہیں جو کثیر تعداد میں ہونے کے باوجود اپنی پہچان کو منوانے سے قاصر ہیں۔ ہمارا وجود ہونے کے باوجود بھی نہیں ہے۔“
مجھے جواب مل چکا تھا۔ صرف لیبل سے محبت نہ ہونا اس کا باعث ہے۔

(ضرب مومن محمد احسن الیاس )