May 30

جاوید چوھدری اچھے کالم نگار ہیں ان کا آج کا کام پڑھئے ۔ مجھے تو یہ پڑھ کر بہت شرم آئی اور اپنے آپ پر افسوس بھی ہوا۔
image

ایکسپریس نیوز

May 28

28 مئی 1998ء کا سورج پاکستانی عوام کےلیے ایک بہت بڑی خوشخبری لے کر طلوع ہوا۔ اس دن پاکستان نے بظاہر ناممکن منزل تک پہنچ کر ایک اہم اعزاز حاصل کیا۔
منزل ایسی جس پر سفر سے شروع سے لے کر اختتام کے بعد تک انتہائی پریشانیاں، پابندیاں اور دھمکیاں ملتی رہیں۔اس دن کو قوم نے خصوصی خطاب دے کر قومی تہوار کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن افسوس صد افسوس ہمارا تعلق ان لوگوں سے ہے جو اپنی چیزوں سے محبت کرنے کی بجائے دوسروں کی روایات، رسم ورواج اپنا کر خوش ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنی تاریخ اور مختلف کارناموں کے بارے میں علم یا یاد نہیں ہوتا لیکن ویلنٹائن ڈے، بسنت اور نیو ائر نائٹ اس طرح مناتے ہیں کہ خود ان تہواروں کے وارث بھی سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں یہ اتہوار ہمارا ہے یا مسلمانوں کے۔
زیادہ پرانی نہیں صرف دس سال پہلے کی بات ہے ہم نے 28 مئی کو یوم تکبیر کا نام دے کر بھول گئے ۔ بہت سے لوگوں کو یہ تحریر پڑھ کر یاد آئے گا آج یوم تکبیر ہے۔ اسی طرح میں نے 23 مارچ کے بارے میں ایک تحریر لکھی تھی کہ کسی نے اس دن کو وش نہیں کیا۔ یوم تکبیر کو چھوڑئیے اپنی ایٹمی طاقت کے موجد ڈاکڑ عبدالقدیر خان کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ ہماری نسبت کو کس عزت سےنوازا۔ ہم نے اپنے محسن کو بے شمار بیماریوں کے ساتھ اُسی کے گھر قید کردیا۔ کوئی اس محسن کے لیے کچھ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کیا ہم اتنے بے حس اور گرے ہوئے ہیں جو قرارداد پاکستان ، یوم تکبیر کے علاوہ اپنے محسن کو بھی بھول گئے۔
جس کی وجہ سے پاکستان دنیا کے طاقتور ترین ملکوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

نوٹ: میرے ذہن میں ڈاکڑ عبدالقدیر کے لیے کچھ تجاویز ہیں انشاءاللہ جلد ہی یہاں پیش کروں گا۔

May 22

مچھر کا الٹی میٹم

بشکریہ ہفت روزہ بچوں کا اسلام

بلدیہ والوں سے اب کیا بحث میں سر ماریے
بلدیہ والے یہ کہتے ہیں کہ مچھر ماریے

کہتا پھرتا ہے یہ مچھر ، مار کر تم دیکھ لو
میرا طوفان دم بہ دم، دریا بہ دریا، جو بہ جو

دیکھ اے ناداں، یوں نہ مجھ پر ڈی ڈی ٹی چھڑک
تیرا یہ غازہ میرے چہرے کو دے دے گا چمک

تیرا ٹائی فون مجھ کو ختم کرسکتا نہیں
میں تو اک فنکار ہوں فنکار مر سکتا نہیں

مجھ سے کیوں ڈرتا ہے میرے ہاتھ میں خنجر نہیں
قاتلِ انساں تو خود انسان ہے ، مچھر نہیں

سیٹھ جی تیرا لہو چوسیں تو خوش ہوتا ہے تُو
میں بھی چکھ لیتا ہوں تھوڑا سا، کیوں روتا ہے تُو

(محمد مشہود خالد فیصل آباد)

May 17

مختلف بلاگرز ابوشامل، عکس، انکل اجمل نے کافی متاثر کن انداز میں حقائق بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن مجھے افسوس ہے کہ یہ اتنا بڑا ایشو نہیں ہے جتنا بڑا کرکے اسے عوام میں پیش کیا جارہا ہے اس واقع پر ٹی وی پر بھی بحث چل رہی ہے۔ مرنے والے لوگوں کا تعلق چور ڈکیت سے تھا اگر ان کو زندہ جلادیا گیا تو کیا ہوا، 9 اپریل کو 6 افراد کو زندہ جلایا گیا وہ بے گناہ اور شریف تھے اُس وقت تو کوئی نہیں بولا کسی نے ایسے افسوس ناک واقع پر اتنا شور نہ کیا بس ایک دو دن بحث چلی اور سب بھول گئے۔ اس واقع میں اتنا ضرور ہوا ہے کہ عوام نے قانون اپنے ہاتھ میں لینا شروع کردیا ہے۔ عوام بھی بیچارے مجبور ہیں جب انصاف فراہم کرنے والے ادارے عوام کی بجائے چور، ڈکیت، شرابی کبابی اور ہر طرح کا غیر قانونی کام کرنے والوں کو تحفظ دیں گے تو عوام کس کے پاس جائیں۔ ان کے پاس۔ ۔ ۔ ۔ جو خود انصاف کی تلاش میں تقریباً ڈیڑھ سال کے عرصے سے سڑکوں پر گھوم رہے ہیں؟ ان سیاسی جماعتوں کے پاس جن کے اعمال میں 12 مئی اور 9 اپریل جیسے نہ جانے کتنے کارنامے لکھے ہوئے ہیں؟ ان حکمرانوں کے پاس جنہوں نے 12 مئی کو کراچی میں اپنی طاقت کا اظہار کیا تھا، جو آٹے اور اسٹاک ایکسچینج جیسے واقعات میں ملوث ہیں یا اُن لوگوں کے پاس جو ناجانے کتنے کیس معاف کرواکر حکومت کرنے آئے ہیں ؟ یا اُن پولیس والوں کے پاس جو کسی بھی مجرم سے چند ہزار روپے لے کر رہا کردیتے ہیں؟ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے آج تک ہمیں پولیس کے محکمے سے محفوظ رکھا ہوا ہے۔ ہمارے ایک رشتہ دار سے بائیک چھینی گئی۔ جب وہ اس کی ایف۔ آئی۔ آر کٹوانے گئے تو پہلے یہ فیصلہ ہی نہیں ہورہا تھا یہ علاقہ کس تھانے کے انڈر میں آتا ہے، مجبوراً 55 ہزار والی بائیک کی ایف آئی آر 10 ہزار میں کٹوائی اور 3 ماہ بعد محکمے کے بہترین سلوک کی وجہ سے 25 ہزار دے کر فائل بند کروائی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
فرض کیا لوگ اس طرح بے رحمانہ اور پرتشدد رویہ اختیار نہ کرتے، بلکہ ایک مہذب قوم کا کردار ادا کرتے ہوئے ان تین مجرموں‌ کو پولیس کے حوالے کردیتے تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں یقین سے کہتا ہوں وہ تینوں آدھے گھنٹے بعد پولیس کی حراست سے آزاد ہوتے اور ان کا اگلا حدف اُنھیں گرفتار کروانے والے لوگ ہوتے۔ کراچی ایسے واقعات میں اپنی مثال آپ ہے پہلی تاریخ کو ایک مزدور تنخواہ لے کر گھر آرہا ہوتا ہے راستے میں اس کی جان سمیت تنخواہ چھین لی جاتی ہے۔۔۔ کسی راہ چلتے کو روک کر موبائیل لے لیتے ہیں اگر کوئی زیادہ بولے تو جان بھی جاتی ہے۔ ہر مہنے ایسے واقعات میں کئی لوگ مارے جاتے ہیں۔ حکومت کے ذمہ دار افراد ان کے اہلخانہ سے تعزیت کرکے بھول جاتے ہیں اس کے بعد کبھی کسی نے سوچا ہے اُن کے گھر والے خرچہ کیسے پورا کرتے ہیں۔کوئی نہیں سوچتا، ہمیں کیا اس سے ۔ :twisted:
اگر عوام نے خود انصاف لینا کی کوشش شروع کردی ہے تو ہر طرف شور ہورہا ۔ یہ بات حقیقت ہے کہ ایسے واقعات نہیں ہونے چاہیں۔ لیکن کیا یہ اس طرح فالتو بحث کرنے سے روک جائیں گے۔ اس کے لیے عملی طور پر اقدام کرنے کی ضرورت ہے جو کوئی بھی محکمہ کرنے کے لیے تیار نہیں‌ ہے۔ پہلے واقع کے تقریباً 1500 افراد گواہ ہیں لیکن پولیس اس بات پر میسر ہے یہ پولیس مقابلہ تھا عوام نے بعد میں دخل اندازی کرکے ان لوگوں کو جلایا ہے۔
آخر میں‌ ضروری اطلاع: ایسا ہی واقع نارتھ ناظم آباد میں دوپہر تین بجے پیش آیا ابتدائی رپورٹ کے مطابق دو ڈاکوں کو آگ لگادی جن میں سے ایک ہلاک اور دوسرا زخمی حالت میں عباسی ہسپتال منتقل۔ اب بھی ارباب اختیار نے اس طرف توجہ نہ کی تو مزید واقعات سننے کے لیے تیار رہنا چاہے۔

May 08

عام طور پر شکار کھیلنے والے کو شکاری کہا جاتا ہے۔ شکار کی کئی اقسام ہیں، ایک شکار جنگلوں میں‌ کیا جاتا ہے اور دوسرا پانی میں ہوتا ہے۔ یہ دونوں اقسام عام اور سب کو معلوم ہیں۔ اس کے علاوہ شکار کی ایک اور قسم ہے جسے “شہری شکار“ کہا جاتا ہے۔ چونکہ ہماری نئی نسل جنگلوں میں جانے سے ڈرتی ہے اس لیے وہ شکار شہروں‌ میں‌ ہی کرنے لگی ہے۔ سب سے بہترین شکار کراچی میں‌ انسانوں‌ کا ہوتا ہے۔ یہاں ہمیشہ شکاری متحدہ ہوتی ہے۔ کچھ بھی ہوجائے لوگ بس اسی نام لیتے ہیں۔ متحدہ لاکھ چیختی رہے، شکار ہونے والے لوگوں کے اہلخانہ کو یرغمال بنا کر بیان دے: “ یہ ہمارے لوگ تھے ان کا شکار ہم نہیں‌ کیا۔“ لیکن کوئی سنتا ہی نہیں‌۔ یہاں جس کی لاٹھی اسی کی بھینس والا قانون لاگو ہوتا ہے، جیسے شکاری جنگل میں شیر کا شکار کرنے کی بجائے اس سے ڈرتے اور ہرن خرگوش جیسے معصوم جانوروں کا شکار کرتے ہیں‌۔ اسی طرح جو شکار ہوگیا سو ہوگیا، بچ جانے والے ادھر اُدھر دبک کر بیٹھ جاتے ہیں، اگلے دن معمولاتِ زندگی اور کسی نئے شکاری کا خوف . . . . .
شہر کراچی شہری شکار کھیلنےوالوں کا پسندیدہ میدان قرار پاتا ہے، کیونکہ یہاں‌ کبھی شکاری کو مایوسی کا سامنا نہیں ہوتی ، بلکہ زیادہ تر دورے کامیاب ترین ہوتے ہیں۔ اس کی میں 12 مئی اور 9 اپریل کے دن پیش کئے جاسکتے ہیں۔ شہری شکار کی یہ قسم ہماری اپنی نہیں ہے۔ اس کا تعلق آقا (امریکا) سے ہے۔ اگرچہ وہ ملکی شکار کرتا ہے۔ اس شکار پر وہ کبھی خود اور تنہا نہیں‌ جاتا بلکہ اپنے مہروں یا دوسرے ملکوں کو ساتھ لے کر جاتا ہے۔ ہم اس کے شاگرد ہیں‌‌ اس لیے ملکی شکار کی بجائے شہری شکار پر گزارا کرلیتے ہیں۔ امریکا کا ایک سینیئر شاگرد (اسرائیل) ریاستی شکار کھیلتا ہے۔ ہمارا ایک ہمسایہ بھی امریکا کا سینیئر شاگرد بننے کی کوشش میں اکثر ہمیں بھی ڈانٹ پلادیتا ہے۔ آج ہم بھی اس کے سینیئر شاگرد ہوتے لیکن برا ہو عوام کا جو چھوٹے چھوٹے ایشوز پر احتجاج کرنے روڈوں پر نکل آتے ہیں۔ خیر کوئی بات نہیں اب نئی حکومت نے ریکارڈ مہنگائی کرنے کا پروگرام بنالیا ہے تاکہ عوام مزدوری کرنے کے علاوہ اور کچھ نہ سوچ سکے ، اور ہماری گورنمنٹ امریکا نواز پالیسیاں اپنا کر اس کی خوشنودی حاصل کرسکے۔

May 05

سیہان انعام اللہ خان مرحوم پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں‌ مارشل آرٹ کا بہت بڑا نام تھا۔ پاکستان میں انعام اللہ خان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں‌۔
وہ 1947ء میں‌ صوابی کے قریب زوبی میں‌ پیدا ہوئے۔ ان کے والد قاضی شفیع اللہ مرحوم تقسیم پاکستان کے بعد علاقے بنوں سے وابستہ ہوگئےتھے۔ حکومت کی طرف سے کراچی کے علاقے گزری میں سرکاری ہیڈ کواٹر ملنے کے بعد چھوٹے سے انعام اللہ خان اپنی والہ کے ساتھ کراچی آگئے۔
انھوں نے تعلیم مقامی اسکول سندھ مدرستہ الاسلام سے حاصل کی۔ انعام اللہ خان کشتی کبڈی، باکسنگ، جوڈو اور کراٹے کے بھی ماہر تھے۔ بعد میں انھوں نے صرف کراٹے کو چن لیا۔1971ء میں انھوں نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے کوالمپور میں‌ہونے والی بین الاقوامی چمپئن شپ میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔
یہاں سے سیہان کے عروج کا دور شروع ہوا۔ 1977ء کی چمپئن شپ میں‌ رنر اپ رہنےکے بعد وہ کراٹے کے مشہور اسٹائل کیوکشن سے وابستہ ہوگئے۔ سیہان نے جاپان میں عالمی ہیڈکواٹر میں‌ کیوکشن اسٹائل کے بانی گرینڈ ماسڑ سوسائی ماسو اوہاما سے براہ راست تربیت حاصل کی ۔
سیہان انعام اللہ خان نے پاکستان، افغانستان، سعودی عرب، تاجکستان، ازبکستان، عمان اور یمن میں کیوکشن کراٹے کی بنیاد رکھی۔سیہان انعام اللہ خان نے اپنے آپ کو ان فن کی ترویج کے لیے وقف کردیا تھا۔
انھوں نے بریکنگ کے حوالے سے بھی پاکستان میں نئی روایات کو جنم دیا۔ انھوں‌ نے پہلی مرتبہ ہتھیلی کی ضرب سے ناریل کو توڑنا، پہاڑی پتھر توڑنااور پیٹ پر سے جیپ گزارنا جیسے کمالات دکھائے۔ آخری بریکنگ انھوں نے 56 سال کی عمر میں‌ پیش کی، جب انھوں‌ نے ہتھیلی کی ضرب سے تقریباً 4 انچ موٹا لکڑی کا بلاک توڑا۔
سیہان انعام اللہ خان نے پاکستان آرمی اور پاکستان نیوی کو بھی خصوصی تربیت دی۔ سعودی عرب کے کمانڈوز کو سعودی عرب میں تربیت دیتے رہے۔
سیہان دنیا میں‌ مارشل آرٹ کے ماہر ترین اساتذہ میں شمار کئے جاتے تھے۔ وہ سخت سے سخت لمحات میں‌ بھی مسکراتے ہی نہیں‌ بلکہ قہقہے لگانے کا حوصلہ رکھتے تھے۔موت سے بڑھ کر انسان کو پریشان کردینے والی شے اور کیا ہوسکتی ہے؟ مگر زندگی کے آخری دنوں تک جبکہ معالجوں نے مایوسی کا اظہار کردیا تھا، ان کی مسکراہٹ برقرار رہی۔ وہ زندگی کے آخری دنوں تک مصروف رہے، بلکہ انتقال سے ایک گھنٹہ قبل انھوں نے ایک شاگرد کو بلیک بیلٹ لکھ کر جاری کیا۔ اس کے بعد کھانا کھا کر وضو کرکے نماز کے انتظار میں‌ بیٹھے تھے کہ دل کا چھٹا کا حملہ ہوا اور ان کا بلاوہ آگیا۔
دل کی تکلیف انھیں ایک شدید چوٹ کی بنا پر لاحق ہوئی تھی۔ یہ چوٹ تقریباً 15 برس قبل ایک مقابلے میں لگی تھی۔ اس چوٹ کی وجہ سے ان کے دل کی جھیلی پھٹ گئی اور اس کا بائی پاس کرنا پڑا۔
بالآخر پاکستان کے یہ عظیم سپوت اور محسن قوم دل کے چھٹے حملے کے باعث 15 نومبر 2007ء کو دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اللہ تعالٰی ان پر اپنی رحمت نازل کرے۔ (آمین)