عام طور پر شکار کھیلنے والے کو شکاری کہا جاتا ہے۔ شکار کی کئی اقسام ہیں، ایک شکار جنگلوں میں‌ کیا جاتا ہے اور دوسرا پانی میں ہوتا ہے۔ یہ دونوں اقسام عام اور سب کو معلوم ہیں۔ اس کے علاوہ شکار کی ایک اور قسم ہے جسے “شہری شکار“ کہا جاتا ہے۔ چونکہ ہماری نئی نسل جنگلوں میں جانے سے ڈرتی ہے اس لیے وہ شکار شہروں‌ میں‌ ہی کرنے لگی ہے۔ سب سے بہترین شکار کراچی میں‌ انسانوں‌ کا ہوتا ہے۔ یہاں ہمیشہ شکاری متحدہ ہوتی ہے۔ کچھ بھی ہوجائے لوگ بس اسی نام لیتے ہیں۔ متحدہ لاکھ چیختی رہے، شکار ہونے والے لوگوں کے اہلخانہ کو یرغمال بنا کر بیان دے: “ یہ ہمارے لوگ تھے ان کا شکار ہم نہیں‌ کیا۔“ لیکن کوئی سنتا ہی نہیں‌۔ یہاں جس کی لاٹھی اسی کی بھینس والا قانون لاگو ہوتا ہے، جیسے شکاری جنگل میں شیر کا شکار کرنے کی بجائے اس سے ڈرتے اور ہرن خرگوش جیسے معصوم جانوروں کا شکار کرتے ہیں‌۔ اسی طرح جو شکار ہوگیا سو ہوگیا، بچ جانے والے ادھر اُدھر دبک کر بیٹھ جاتے ہیں، اگلے دن معمولاتِ زندگی اور کسی نئے شکاری کا خوف . . . . .
شہر کراچی شہری شکار کھیلنےوالوں کا پسندیدہ میدان قرار پاتا ہے، کیونکہ یہاں‌ کبھی شکاری کو مایوسی کا سامنا نہیں ہوتی ، بلکہ زیادہ تر دورے کامیاب ترین ہوتے ہیں۔ اس کی میں 12 مئی اور 9 اپریل کے دن پیش کئے جاسکتے ہیں۔ شہری شکار کی یہ قسم ہماری اپنی نہیں ہے۔ اس کا تعلق آقا (امریکا) سے ہے۔ اگرچہ وہ ملکی شکار کرتا ہے۔ اس شکار پر وہ کبھی خود اور تنہا نہیں‌ جاتا بلکہ اپنے مہروں یا دوسرے ملکوں کو ساتھ لے کر جاتا ہے۔ ہم اس کے شاگرد ہیں‌‌ اس لیے ملکی شکار کی بجائے شہری شکار پر گزارا کرلیتے ہیں۔ امریکا کا ایک سینیئر شاگرد (اسرائیل) ریاستی شکار کھیلتا ہے۔ ہمارا ایک ہمسایہ بھی امریکا کا سینیئر شاگرد بننے کی کوشش میں اکثر ہمیں بھی ڈانٹ پلادیتا ہے۔ آج ہم بھی اس کے سینیئر شاگرد ہوتے لیکن برا ہو عوام کا جو چھوٹے چھوٹے ایشوز پر احتجاج کرنے روڈوں پر نکل آتے ہیں۔ خیر کوئی بات نہیں اب نئی حکومت نے ریکارڈ مہنگائی کرنے کا پروگرام بنالیا ہے تاکہ عوام مزدوری کرنے کے علاوہ اور کچھ نہ سوچ سکے ، اور ہماری گورنمنٹ امریکا نواز پالیسیاں اپنا کر اس کی خوشنودی حاصل کرسکے۔