Jun 15

خواجہ حسن نظامی

اپنی آپ بیتی میں خواجہ صاحب لکھتے ہیں: “ میرا نام علی حسن عرف حسن نظامی ، والد نام سید عاشق علی، پیدائش کا مقام بستی درگاہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا پرانی دہلی ہے اور وہیں آج کل اقامت ہے۔ معاش کتابوں اور دواؤں کی تجارت پر ہے تعلیم عربی ، فاسی اور اردو۔
تیرھویں صدی کے خاتمے کے قریب 1369ھ میں 2محرم کو جمعرات کے دن صبح صادق کے وقت حسن نظامی پیدا ہوئے۔ خاجہ صاحب اردو کے باکمال وبے مثال ادیب تھے ۔ جنھوں نے اپنی تحریروں سے نثر کو امر کردیا۔ ان کی ساری عمر ارضی مسائل کو سلجھانے میں ہی گزری۔ ان کو سماج کے دھتکارے ہوئے اور پچھڑ جانے والے لوگوں سے خصوصی لگاؤ تھا۔ انھوں نے اس قسم کے مرقعے اپنے افسانوں میں پیش کئے ہیں۔
تصور کیجیے کہ ایک امیر زادی جس کو زندگی کی گردش نے بھکارن بنادیا تھا یہ صدا لگاتی ہے کہ:

“ دولت والو ٹکڑا دو، عزت والو ٹکڑا دو، اپنے بچوں کا صدقہ ٹکڑا دو، اپنے لالوں کا صدقہ ٹکڑا دو، تمھاری چوڑی کی خیر، تمھاری مہندی کی خیر، ایک نوالہ دو۔لو میرا خالی پیالہ، لوگو! تمھارے محلے میں ٹھوکریں کھانے والی بھکارن آئی ہے، ساتھ میں اس کی جائی ہے، ہم دونوں میں بھوک کی مار آئی ہے، دہائی ہے، ایک نوالہ مجھ کو دو۔ سونے والو جاگو، ایک دن میں بھی سوتی تھی، پیا کا ہیرا موتی تھی، دنیا نے تاراج کیا؛ اس کو جس نے راج کیا۔ اب گدڑی میرا جوڑا ہے اور پاؤں کا چھالا گھوڑا ہے، جشن کی راتیں ، موج کے دن سب پانی ہیں، کنڈی کھولو، ٹکڑا دو، ہاتھ بڑھاؤ ٹکڑا دو۔روکھا ہو یا باسی ہو سب ہے نعمت ، بھوک سے بری ہے میری نوبت ، یہ ننھی بچی روتی ہے ، یہ محل کی ملکہ گود میں تھی، اب گدا کی دختر پیدل ہے۔ یہ باپ کی پیاری ، دکھ کی ماری، تیرے دوار آئی بھکاری، ٹکڑا دو، یہ آنی جانی ہے، ذرہ ذرہ فانی ہے، غفلت میں مدہوش نہ ہو، عبرت سے باہوش رہو، صدقہ ایک ٹکڑا دو۔“

Jun 10

پاک گروپ

کچھ دن پہلے میں نے ایک تجویز پیش کی تھی کہ ہم ڈاکڑ عبدالقدیر خان کے ساتھ اپنی عقیدت اور ہمدردی کا اظہار کس طرح کرسکتے ہیں۔ وہ تجویز یہاں دوبارہ دوہراتا ہوں، تاکہ قاری کو بار بار وہاں جانا نہ پڑے۔

“ ہم قریباً چالیس پچاس بلاگر ایک دوسرے کو تھوڑا بہت جانتے ہیں ۔ اگر یہ چالیس، پچاس افراد مل کر ایک گروپ بنالیں اور اس گروپ کا روزانہ ایک رکن ایک کارڈ کی بنیاد پر ڈاکڑ صاحب کو تہنتی (بیسٹ وش) کارڈ پوسٹ کرے۔ اگر ارکان کی تعداد بڑھ جائے تو روزانہ ایک کارڈ کی بجائے وہ یا تین رکن ہوجائیں گے۔ ہر مہنے کی یکم تاریخ کو تمام ارکان ایک کارڈ اور پھر روزانہ ایک ، دو یا تین افراد ایک ایک کارڈ‌ پوسٹ کریں گے۔ اس طرح ڈاکڑ صاحب کو پہلی تاریخ کو لاتعداد بیسٹ وش کے کارڈ اور روزانہ ۔ ۔ ۔ ۔کارڈ موصول ہونگے۔ اس طرح ہم اپنے ہیرو کے ساتھ اپنی عقیدت کا اظہار بھی کرسکیں گے اور اس کے بہت سے فوائد بھی ہیں۔اس طریقے سے کسی رکن پر زیادہ مالی بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔“

تو جناب یہ تھی میری تجویز جس کو کچھ بلاگر نے پسند کیا لیکن کوئی ایسی صورت نہ بن سکی کہ گروپ بنایا جائے ۔ اس لیے میں نے لکھ دیا جس کو یہ تجویز پسند آئے وہ اپنے طور پر عمل کرتا رہے ۔ انشاءاللہ جلد ہی گروپ بنادیا جائے گا، اس کے بعد میں بھی گروپ کو بھول گیا۔ لیکن کل خاور کھوکھر کی اس تحریر نے ایک نیا جذبہ دیا جنھوں نے مختصر عرصے میں اتنا زیادہ کام کیا کہ ان کی تحریر پڑھ کر بہت خوشی ہوئی اس نئے جذبے کے تحت میں نے اپنے بلاگ پر ایک الگ صفحہ پاک گروپ کے نام سے بنادیا ہے۔ جو دوست بھی اس تجویز پر عمل کرنا چاہے یا کوئی اپنی قیمتی رائے سے نوازنا چاہے تو یہاں پر تبصرہ والے خانہ میں اپنا مشورہ دیں اور بتائیے آپ اس تجویز پر کتنا اور کس حد تک عمل کرنا چاہتے ہیں۔

ڈاکڑ صاحب کا پوسٹ ایڈریس جو بذریعہ انکل اجمل معلوم ہوا ہے وہ درج ذیل ہے۔

عبدالقدیر خان
گومل روڈ ۔ ای ۔ 7 ۔ اسلام آباد

Jun 01

اپنے انصار برنی جو پاکستان سے زیادہ انڈیا کے ساتھ وفاداری کی کوشش کرتے رہتے ہیں کو انڈیا نے “ منہ پر خوشامد یہ کرتے ہوئے“ “منہ پر تھوک کر “‌‌‌ ملک بدر کردیا۔ “ منہ دیکھ کر بیڑا، چوتڑ دے کر پیڑھا “ وامہ مثل رکھی تھی آج اُکا عملی مظاہرہ بھی دیکھ لیا ہے۔ بھارت نے منہ دیکھ کر تھپڑ مارا “ ہے۔ اگرچہ انصار برنی یہاں سے بہت پر رونق منہ لے کر گئے ہوں گے۔ لیکن انڈیا نے ائیر پورٹ پر ہی “ منہ توڑ کر جواب “ دے دیا جسے سن کر محترم کے “ منہ کی فاختہ “ اُر گئی۔ یقیناً اس وقت انصار برنی کی حالت “ منہ ڈھک ڈھک کر رونا “ سے مماثلت ہوگی۔ جب وہ کہیں‌ “ منہ دکھانے کے قابل “‌ نہ رہے تو “ منہ دیکھے کی اُلفت “ کے مطابق اُنھیں دوبارہ انڈیا آنے کی دعوت دے ڈالی ۔ آب دیکھیے انصار برنی کس منہ سے انڈیا جاتے ہیں ۔ اس وقت انصار برنی کی عزت “ منہ کو سات تووں کی کالک لگ جانا “ کے مترادف ہے۔

Jun 01

سب کو معلوم ہے انڈیا اور پاکستان دونوں نےقریب قریب ایک ساتھ ہی ایٹمی سائنسدانوں نے بہت محنت کے بعد اس منزل کو حاصل کیا۔ جس پر عوام نے انھیں اپنا ہیرو قرار دے دیا۔ انڈیا نے اپنے سائنسدان کو صدر کا عہدہ دے کر اُن کی عزت افزائی کی لیکن ہم نے اپنے ہیرو ڈاکڑ عبدالقدیر خان کو قید یا نظر بند کرکے عزت دی ۔ کہا جارہا ہے اُنھیں بوجہ مصلحت نظر بند کیا ہے وہ بے قصور ہیں ، وقت آنے پر اُنھیں رہا کردیا جائے گا۔
لیکن قوم کسی حد تک اُنھیں بھول چکی ہے۔ یقیناً ڈاکڑ صاحب کو بھی اس کا احساس ہوگا، یہ کیسی بے حس قوم ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میں نے کہا تھا میرے ذہن میں ڈاکڑ صاحب کے لیے چند تجاویز ہیں ، جو میں یہاں پیش کررہا ہوں۔
بلاگنگ کی لائن میں ہم کم از کم 40،50 افراد ہیں جو ایک دوسرے کو جانتے ہیں ۔ اگر ہم سب مل کر ایک گروپ بنالیں اور اس گروپ کا روزانہ ایک رکن ایک تہنتی کارڈ ڈاکڑ عبد القدیر خان کو پوسٹ کرے گا۔ اس طرح اگر گروپ کے صرف 30 رکن بھی ہوئے تو ہر رکن کو ایک مہینے میں ایک کارڈ پوسٹ کرنا پڑیگا۔ لیکن ڈاکڑ صاحب کو روزانہ ایک کارڈ موصول ہوگا۔ میرے خیال سے ایک کارڈ کا خرچہ کسی کے لیے کوئی بوجھ نہیں بنے گا۔
اس طریقے سے ہم ڈاکڑ صاحب کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کرسکتے ہیں ۔ اگر ارکان میں اضافہ ہوگیا تو روزانہ ایک رکن کی بجائے دو رکن ہوجائیں گے۔ ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ تمام ارکان مہنے کی یکم تاریخ کو ایک ایک کارڈ اور پھر روزانہ ایک رکن ایک کارڈ پوسٹ کریں گے۔ اس طرح دو کارڈ کا خرچہ برداشت کرنا ہوگا۔

آپکی تجاویز کا انتظار رہے گا۔