ایک کہانی محاوروں کی زبانی

تحرير کردہ: شکاری بتاريخ: Sunday، 1 June 2008

اپنے انصار برنی جو پاکستان سے زیادہ انڈیا کے ساتھ وفاداری کی کوشش کرتے رہتے ہیں کو انڈیا نے “ منہ پر خوشامد یہ کرتے ہوئے“ “منہ پر تھوک کر “‌‌‌ ملک بدر کردیا۔ “ منہ دیکھ کر بیڑا، چوتڑ دے کر پیڑھا “ وامہ مثل رکھی تھی آج اُکا عملی مظاہرہ بھی دیکھ لیا ہے۔ بھارت نے منہ دیکھ کر تھپڑ مارا “ ہے۔ اگرچہ انصار برنی یہاں سے بہت پر رونق منہ لے کر گئے ہوں گے۔ لیکن انڈیا نے ائیر پورٹ پر ہی “ منہ توڑ کر جواب “ دے دیا جسے سن کر محترم کے “ منہ کی فاختہ “ اُر گئی۔ یقیناً اس وقت انصار برنی کی حالت “ منہ ڈھک ڈھک کر رونا “ سے مماثلت ہوگی۔ جب وہ کہیں‌ “ منہ دکھانے کے قابل “‌ نہ رہے تو “ منہ دیکھے کی اُلفت “ کے مطابق اُنھیں دوبارہ انڈیا آنے کی دعوت دے ڈالی ۔ آب دیکھیے انصار برنی کس منہ سے انڈیا جاتے ہیں ۔ اس وقت انصار برنی کی عزت “ منہ کو سات تووں کی کالک لگ جانا “ کے مترادف ہے۔

چند تجاویز

تحرير کردہ: شکاری بتاريخ: Sunday، 1 June 2008

سب کو معلوم ہے انڈیا اور پاکستان دونوں نےقریب قریب ایک ساتھ ہی ایٹمی سائنسدانوں نے بہت محنت کے بعد اس منزل کو حاصل کیا۔ جس پر عوام نے انھیں اپنا ہیرو قرار دے دیا۔ انڈیا نے اپنے سائنسدان کو صدر کا عہدہ دے کر اُن کی عزت افزائی کی لیکن ہم نے اپنے ہیرو ڈاکڑ عبدالقدیر خان کو قید یا نظر بند کرکے عزت دی ۔ کہا جارہا ہے اُنھیں بوجہ مصلحت نظر بند کیا ہے وہ بے قصور ہیں ، وقت آنے پر اُنھیں رہا کردیا جائے گا۔
لیکن قوم کسی حد تک اُنھیں بھول چکی ہے۔ یقیناً ڈاکڑ صاحب کو بھی اس کا احساس ہوگا، یہ کیسی بے حس قوم ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میں نے کہا تھا میرے ذہن میں ڈاکڑ صاحب کے لیے چند تجاویز ہیں ، جو میں یہاں پیش کررہا ہوں۔
بلاگنگ کی لائن میں ہم کم از کم 40،50 افراد ہیں جو ایک دوسرے کو جانتے ہیں ۔ اگر ہم سب مل کر ایک گروپ بنالیں اور اس گروپ کا روزانہ ایک رکن ایک تہنتی کارڈ ڈاکڑ عبد القدیر خان کو پوسٹ کرے گا۔ اس طرح اگر گروپ کے صرف 30 رکن بھی ہوئے تو ہر رکن کو ایک مہینے میں ایک کارڈ پوسٹ کرنا پڑیگا۔ لیکن ڈاکڑ صاحب کو روزانہ ایک کارڈ موصول ہوگا۔ میرے خیال سے ایک کارڈ کا خرچہ کسی کے لیے کوئی بوجھ نہیں بنے گا۔
اس طریقے سے ہم ڈاکڑ صاحب کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کرسکتے ہیں ۔ اگر ارکان میں اضافہ ہوگیا تو روزانہ ایک رکن کی بجائے دو رکن ہوجائیں گے۔ ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ تمام ارکان مہنے کی یکم تاریخ کو ایک ایک کارڈ اور پھر روزانہ ایک رکن ایک کارڈ پوسٹ کریں گے۔ اس طرح دو کارڈ کا خرچہ برداشت کرنا ہوگا۔

آپکی تجاویز کا انتظار رہے گا۔


جملہ حقوق بحق شکاری کا بلاگ محفوظ ہيں.