Jul 31

بارش
فیصل آباد میں اس سال خوب بارش ہوئی، کراچی میں بارش کا بہت طویل انتظار کرنا پڑا جو اُنتیس جولائی کو ختم ہوا لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہم اس سے لطف اندوز نہیں ہوسکے۔ اس میں ہمارا قصور صرف اتنا ہے کہ ہم پاکستان کے سب سے ترقی یافتہ شہر کراچی میں رہتے ہیں، اتنی ترقی اور فاسٹ ہونے کے باوجود یہ مسائل کا گھڑ ہے۔ اب بارش ہی کو دیکھ لیجیے ہلکی سی بارش ہوئی اور اگلے دن کے تقریباً تمام اخبارات کی مین سرخی بارش ہی کے مطلق تھی، جیسے بارش نہ ہوئی کوئی بہت اہم بات ہوگئی۔ فیصل آباد میں اس سے کئی گنا تیز اور طوفانی بارشیں ہوتی ہیں لیکن وہاں کبھی کوئی مسلہ نہیں بنا۔کراچی بمقابلہ پنجاب دیکھئے ذرا:

1۔ یہاں بارش شروع ہوتے ہی بجلی غائب اور بارہ سے چوبیس گھنٹے بعد ہی آتی ہے۔
2۔ پہلی بارش پر ٹیلیفون کی سروس خراب ہوجاتی ہے مکمل ٹھیک برسات کے بعد ہوتی ہے۔
3۔ بارش کے شروع ہوتے ہی تمام مارکیٹیں بند ہوجاتی ہیں اور لوگ گھروں کو بھاگتے ہیں اس وقت پونے گھنٹے کا سفر تین سے چار گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔
4۔ اگلے دن مارکیٹ کے بند ہونے کا ستر فیصد چانس ہوتا ہے، اگر کھل بھی جائے تو کاروبار نہیں ہوتا، دوکاندار چار بجے گھر جانا شروع ہوجاتے ہیں۔
5۔ روڈ تو روڈ مارکیٹ میں بھی پانی کھڑا ہوتا ہے بارش کا نہیں سیوریج کا ۔
یہ مختصر سے مسائل ہیں جن سے مجھے واسطہ پڑا تو یہاں لکھ دیئے، اس کے علاوہ بھی بہت سے مسائل ہونگے جو یہاں جگہ پانے سے محروم رہ گئے۔ اصل مسلئہ یہ ہے کہ کراچی پاکستان کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ شہر ہے اور یہاں کا بجٹ بھی بہت زیادہ ہے جو یہاں کی تعمیر و ترقی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود یہ حال ہے کہ پہلی بارش بہت بڑی خبر بن جاتی ہے۔فیصل آباد میں ایسا کوئی مسلئہ نہیں وہاں کتنی بھی زیادہ اور تیز بارش ہو نظام زندگی کبھی متاثر نہیں ہوا، باقاعدہ مارکیٹ کھلی رہتی ہے،اور کاروبار بھی ہوتا ہے، کسی روڈ پر پانی نہیں کھڑا ہوتا بہت کم جگہوں پر پانی کھڑا ہوتا ہے وہ بھی بارش کا جو ایک دو دن میں خشک ہوجاتا ہے، ٹریفک بھی جام نہیں ہوتی۔

Jul 01

میں نے آج سے ٹھیک چوبیس سال پہلے یعنی 1
st جولائی 1984ء بروز جمعرات عید کے دن اس دنیا میں تشریف لاکر اپنے گھر والوں کو ڈبل خوشی اور دنیا والوں کو اپنی خدمت کرنے کا موقع فراہم کیا تھا۔یہی نہیں بلکہ پاکستان کی نئی نسل میں ایک فرد کا اضافہ بھی۔ میرے گھر والوں کا خیال تھا میں پڑھ لکھ کر اپنے ماں باپ اور پاکستان کا نام روشن کروں گا۔
لیکن بوجہ اچھی تعلیم حاصل نہ کرسکا۔ جس پر مجھے خیال گزرا مقصد نام روشن کرنا ہی ہے تو کیوں نہ ایک بورڈ پر سب کے نام لکھ کر 1000 واٹ کے بلب آن کردوں گا۔ جس کے لئے کوئی خاص محنت بھی نہیں‌کرنی پڑے گی۔ پتا نہیں kesc والوں کو میرے اس منصوبے کا علم کیسے ہوگیا اور انھوں نے مجھے ناکام کرنے کے لیے لوڈ شیڈنگ شروع کردی۔
اب تک زندگی بے مقصد بغیر کسی منزل کے تعین کے گزار رہا تھا۔ لیکن kesc کے اس اقدام نے مجھے کسی منزل کا تعین کرنے پر مجبور کردیا۔ جس کی وجہ سے میں نے اپنے لیے ایک مشن اسٹیٹمنٹ لکھا ہے۔ سب سے بڑھ کر میں نے چھ سال اپنا تعلیمی سفر دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے یقیناً سخت محنت کرنی پرے گی۔ مشن اسٹیٹمینٹ کچھ اس طرح ہے:

سب سے پہلے اور سب سے زیادہ میں ہمیشہ اپنے خدا پر یقین رکھوں گا۔
میں ہمیشہ اپنا مثبت ذاتی تشخص اور بلند اعتماد برقرار رکھوں گا۔
اپنے لیے ایسے مقاصد طے کروں گا جو قابل حصول اور مذہب سے متصادم نہ ہوں۔
ان مقاصد کو کبھی نظروں سے اوجھل نہیں‌ ہونے دوں گا۔
میں تمام چیلنجوں کا سامنا رجائیت کے ساتھ کروں گا نہ کہ شک کے ساتھ۔
ہر ایک کی عزت ، احترام اور اکرام کروں‌گا۔
میں اپنے خاندان کے شیرازے کی قوت کو کم تر نہیں‌کروں‌ گا۔
میں اپنے مخلص دوستوں‌کو کبھی نظر انداز نہیں‌کروں گا۔اپنے آپ پر اور جو لوگ میرے ارد گرد ہیں ، ان سب پر اعتماد کروں‌گا۔
اپنے افعال کے ذریعے گفتگو کروں گا نہ کہ الفاظ کے ذریعے۔
دوسروں کے (اپنے سے) اختلاف کی قدر کروں گا، اور ان اختلافات کو اپنے لیے مفید گردانوں گا۔
ان لوگوں کی مدد کے لیے وقت نکالوں گا جو مادی لحاظ سے مجھ سے کم تر ہیں‌ یا جن کا دن مجھ سے خراب تر ہے۔

اللہ سے دعا ہے وہ مجھے اس آئین پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آئندہ سال زندگی نے ایک اور سالگرہ منانے کا موقع دیا تو انشاءاللہ اپنی سال بھر کی پروگریسیو رپورٹ بھی لکھوں گا۔