بارش
فیصل آباد میں اس سال خوب بارش ہوئی، کراچی میں بارش کا بہت طویل انتظار کرنا پڑا جو اُنتیس جولائی کو ختم ہوا لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہم اس سے لطف اندوز نہیں ہوسکے۔ اس میں ہمارا قصور صرف اتنا ہے کہ ہم پاکستان کے سب سے ترقی یافتہ شہر کراچی میں رہتے ہیں، اتنی ترقی اور فاسٹ ہونے کے باوجود یہ مسائل کا گھڑ ہے۔ اب بارش ہی کو دیکھ لیجیے ہلکی سی بارش ہوئی اور اگلے دن کے تقریباً تمام اخبارات کی مین سرخی بارش ہی کے مطلق تھی، جیسے بارش نہ ہوئی کوئی بہت اہم بات ہوگئی۔ فیصل آباد میں اس سے کئی گنا تیز اور طوفانی بارشیں ہوتی ہیں لیکن وہاں کبھی کوئی مسلہ نہیں بنا۔کراچی بمقابلہ پنجاب دیکھئے ذرا:

1۔ یہاں بارش شروع ہوتے ہی بجلی غائب اور بارہ سے چوبیس گھنٹے بعد ہی آتی ہے۔
2۔ پہلی بارش پر ٹیلیفون کی سروس خراب ہوجاتی ہے مکمل ٹھیک برسات کے بعد ہوتی ہے۔
3۔ بارش کے شروع ہوتے ہی تمام مارکیٹیں بند ہوجاتی ہیں اور لوگ گھروں کو بھاگتے ہیں اس وقت پونے گھنٹے کا سفر تین سے چار گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔
4۔ اگلے دن مارکیٹ کے بند ہونے کا ستر فیصد چانس ہوتا ہے، اگر کھل بھی جائے تو کاروبار نہیں ہوتا، دوکاندار چار بجے گھر جانا شروع ہوجاتے ہیں۔
5۔ روڈ تو روڈ مارکیٹ میں بھی پانی کھڑا ہوتا ہے بارش کا نہیں سیوریج کا ۔
یہ مختصر سے مسائل ہیں جن سے مجھے واسطہ پڑا تو یہاں لکھ دیئے، اس کے علاوہ بھی بہت سے مسائل ہونگے جو یہاں جگہ پانے سے محروم رہ گئے۔ اصل مسلئہ یہ ہے کہ کراچی پاکستان کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ شہر ہے اور یہاں کا بجٹ بھی بہت زیادہ ہے جو یہاں کی تعمیر و ترقی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود یہ حال ہے کہ پہلی بارش بہت بڑی خبر بن جاتی ہے۔فیصل آباد میں ایسا کوئی مسلئہ نہیں وہاں کتنی بھی زیادہ اور تیز بارش ہو نظام زندگی کبھی متاثر نہیں ہوا، باقاعدہ مارکیٹ کھلی رہتی ہے،اور کاروبار بھی ہوتا ہے، کسی روڈ پر پانی نہیں کھڑا ہوتا بہت کم جگہوں پر پانی کھڑا ہوتا ہے وہ بھی بارش کا جو ایک دو دن میں خشک ہوجاتا ہے، ٹریفک بھی جام نہیں ہوتی۔