تکلف میں ہے تکلیف سراسر
تحرير کردہ: شکاری بتاريخ: Sunday، 12 October 2008تکلف چھوڑیے، بے تکلف ہوجایے۔ ماشاءاللہ بڑا مشورہ ہے۔ لیکن یہ بھی سوچیے کہ اگر ہم نے تکلف چھوڑ دیا تو نقصان آپ ہی کا ہوگا۔ ویسے ہم خوب جانتے ہیںکہ تکلف کو کب چھوڑنا ہے اور کب پکڑنا ہے۔ اگر ہم کسی پُر تکلف دعوت میں جاتے ہیں تو وہاں خود بہ خود بے تکلف ہوجاتے ہیں، کوں کہ ہن جانے ہیںکہ جب انواع واقسام کے لذیذ کھانے مامنے موجود ہوں تو تکلف کرنا ایسا ہی ہے جیسے خدا کی نعمتوں سے منکر ہوجانا۔ مگر جب کوئی بے تکلف دعوت ہوتی ہے جس میں کوئی خاص اہتمام نہیں ہوت اتو ہم خود بہ خود پُر تکلف ہوجاتے ہیں۔ پہلی صورت میں ہماری بے تکلفی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اپنا پیٹ لذیذ کھانے اور خدا کی نعمتوں ٹچاٹچ بھر لیں، اور دوسری صورت میں میں ہمارے پُر تکلف ہوجانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو سیدھے سادے اور بدمزہ کھانے سے محفوظ و مامون رکھیں۔
ویسے ہمارا ذاتی خیال یہ ہے کہ میزبان اور مہمان اگر دونوں پُرتکلف ہوں تو تب بھی حساب فہمی کے معاملہ میں کافی چوکس رہتے ہیں۔آپ نے وہ لطیفہ تو سنا ہوگا کہ ایک پُر تکلف صاحب کسی سے ملنے کے لئے گئے تو میزبان نے اس کے سامنے رس گلے لاکر رکھ دیے۔ یہ صاحب پہلے تو تکلف کرتے رہے، لیکن میزبان کے بے حد اصرار پر انھوں نے رس گلے کھانے شروع کردیے۔یہ منع کرتے رہے ،لیکن بے تکلف میزبان ان کی پلیٹ میں رس گلے ڈالتا چلا گیا۔ کچھ دیر بعد جب میزبان نے ایک رس گلا مہمان کی پلیٹ میں ڈالنے کی کوشش کی تو پُر تکلف مہمان نے کہا، “صاحب! آخر میں کتنے رس گلے کھاؤں گا؟ پانچ تو ویسے ہی کھا چکا ہوں۔“ اس پر بے تکلف میزبان نے فوراً کہا۔ “حضور! ویسے تو آپ نے پانچ نہیں بلکہ چھے رس گلے کھائے ہیں، لیکن پھر بھی ایک اور رس گلا کھانے میں کیا قباحت ہے۔“ اتنا سننا تھا کہ مہمان کے ہاتھ سے پلیٹ گر گئی۔
آپ نے غور فرمایا کہ مہمان تو پرتکلف تھا، لیکن تکلف تکلف میں اس نے رس گلے کھائے تھے اور دوسری طرف میزبان کی بے تکلفی کا یہ عالم تھا کہ وہ مہمان کے سامنے بیٹھا کھائے جانے والے رس گلوں کی گنتی کررہا تھا۔
اصل میں اب زمانہ بدل گیا ہے۔ چناچہ مہمان نوازی اور میزبانی کے آداب بھی اب بدلنے چاہییں۔میزبان بھی کنگال اور مہمان بھی کنگال تو تکلف میں سوائے تکلیف کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
پتا نہیں ہمارے معاشرے میں تکلف کو اتنی اہمیت کیسے حاصل ہوگئی۔ایک زمانہ ضرور ایسا تھا جب ہمارا معاشرہ تکلف کے بوجھ کو ہنسی خوشی برداشت کرلیتا تھا۔ ہماری آبادی بھی اتنی نہیں تھی۔ ہر طرف فراغت کا دور دورہ تھا۔لوگ گھنٹوں خوش گپیوں اور خوش فعلیوں میں گزار دیتے تھے۔فرصت کے رات ودن اتنے تھے کہ تصورِجاناں کرنے بیٹھ جاتے تو کئی کئی دن بیٹھے رہتے تھے۔ ہر کام تکلف کے ساتھ ہوتا تھا۔ لوگ تکلف تکلف میں شادیاں کرتے تھے اور اسی تکلف تکلف میں بچے بھی پیداکرلیتے تھے۔ سب کچھ تکلفاً ہوتا تھا۔ پھر ایک زمانہ وہ آیا جب لکھنؤ کے دو نواب ریلوے اسٹیشن پر ملے تو ان دونوں کے بیچ ایک دوسرے کا احترام کرنے کا پُر تکلف مقابلہ شروع ہوگیا۔ گاڑی اسٹیشن پر آکر رکی تو ایک نے کہا، “حضور! پہلے آپ گاڑی میں قدم رکھیں گے۔“دوسرے نے کہا، “جی نہیں، حضور! آپ بزرگ ہیں، پہلے آپ قدم رکھیں گے۔“
پہلے نے کہا، “حضور!میں بزرگ ہوں تو کیا ہوا، مرتبے میں آپ بڑے ہیں۔ پہلےآپ قدم رکھیں گے۔“ اس پر “پہلے آپ، پہلے آپ“ کا جو پُرتکلف دور شروع ہوا تو ٹرین کے گارڈ نے محسوس کیا کہ ان دونوں نوابوں کے تکلف میں گاڑی لیٹ ہوتی جارہی ہے، لٰہذااس نے پوری بے تکلفی کے ساتھ ہری جھنڈی ہلا دی اور ٹرین بھی بے تکلفی کے ساتھ نکل گئی اور دونوں نواب پلیٹ فارم پر اپنے رتبے اور بزرگی کا جائزہ لیتے رہ گئے۔
جب ٹرین ایجاد نہیںہوئی تھی تو ہمارے معاشرے میں تکلف کی گنجائش ضرور تھی۔ “پہلے آپ پہلے آپ“ کا تکلف اس وقت اچھا معلوم ہوتا ہے جب آپ اپنے گھر کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی بزرگی اور رتبے کا جائزہ لینا شروع کریں اور دو چار گھنٹوں کی بحث کے بعد اس نتیجے پر پہنچیں کہ پہلے کس کو گھر کے اندر قدم رکھنا ہے، کیوں کہ گھر کا گارڈ نہیں ہوتا اور اگر ہوتا بھی ہے تو اس کے پاس کوئی ہری جھنڈی نہیں ہوتی۔
آپ یقین کیجیے، بچپن میں ہم بھی بہت پُر تکلف ہوا کرتے تھے، بلکہ آج بھی تکلف ہماری رگ رگ میں سمایا ہوا ہے۔ ہماری تربیت ہی کچھ ایسی ہوئی ہے کہ کردار میں کچھ ہو یا نہ ہو، تکلف ضرور تھا۔ اسی تکلف کا نتیجہ تھا کہ ہم اپنے زمانہ طالب علمی میں جاہل بنے رہے۔ استاد کوئ سبق پڑھا دیتا اور یہ ہماری سمجھ میں نہ آتا تو ہم تکلف تکلف میں استاد کو یہ نہیں بتاتے تھے کہ سبق ہماری سمجھ میں نہیںآیا ہے۔ نتیجے میں ہمارا نتیجہ خراب ہوجاتا تھا۔
جب تک ہم ایک چھوٹے سے قصبے میں رہے، ہم اور ہمارا تکلف دونوں ہی ٹھیک ٹھاک رہے۔ لیکن جیسے ہی ہم ایک بڑے شہر میں منتقل ہوئے، ہمارے تکلف نے لنگڑانا شروع کیا۔ ابتدا میں ہمارا قیام ہاسٹل میں تھا۔ آپ تو جانتے ہیں کہ ہاسٹلوں میں افراتفری اور نفسانفسی کا عالم ہوتا ہے اور نفسانفسی کا عالم ہمیشہ تکلف کا دشمن ہوتا ہے۔
ہمیں یاد ہے کہ ہم ہاسٹل میں بھوکے ہی رہے، کیوں کہ قصبے میں کھانے پینے کے جو پُرتکلف آداب ہوا کرتے تھے، وہ ہاسٹل میں بالکل مفقود تھے۔ قصبے میں یہ ہوتا تھا کہ کھانا ہم پر ٹوٹ پڑتا تھا اور ہم حتی الامکان کھانے سے دور رہنے کی کوشش کرتے تھے۔ چھوٹے چھوٹے نوالے بنا کر منھ میں ڈالا کرتے تھے۔ بلکہ جگالی تک فرماتے تھے۔ ہاسٹل میں آئے تو دیکھا کہ یہاں کھانے کے آداب ہی مختلف ہیں۔ یہاں آدمی کھانے پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ جو چیز بھی سامنے نظر آجائے، اسے فوراً پلیٹ میں اتارلیتا ہے۔ یہاں اس بات کا انتظار نہیںہوتا کہ دوسرا آدمی کھانا کھالے تو آپ کھانا لیں۔ اکثر ایسا بھی ہوتا کہ ہم بڑی محنت کے بعد تھوڑا سا کھانا اپنی پلیٹ میں اُتار لیتے تو کوئی ساتھی ہماری پلیٹ لے کر بھاگ جاتا تھا۔چھوٹے چھوٹے نوالے بناکر کھانا ہمارے بس میں نہیں رہا۔ پیٹ بڑا بدکار تو ہے ہی، کچھ دن بھوک کو برداشت کیا، بعد میں جب بھوک نے زور مارنا شروع کیا تو ہم نے تکلف کو بالائے طاق رکھا اور آستینیں چڑھا کر کھانا کھانے لگ گئے۔ ایک منزل تو وہ بھی آئی جب ہم ڈائننگ ہال میں پہنچتے تھے تو لوگ اس ڈر سے بھاگ جاتے تھے کہ ہم کھانا کھانے کے لیے آرہے ہیں۔
ہمارے کھانے کے تیور ہی یکسر بدل گئے، کیوںکہ ہم کھانا کیا کھاتے تھے، اپنی پہلوانی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ چھوٹے چھوٹے نوالے بنا کر کھانے کیا سوال پیدا ہوتا ہے، ہم تو نوالہ بھی منھ سے بڑا بناتے تھے۔
کھانے کے آداب میںسے تکلف کو برخاست کرنے کے بعد ہماری صحت ٹھیک رہنے لگی۔ اب دوسر ےمعاملوں کو تکلف سے پاس کرنے کا مرحلہ تھا۔ مثال کے طور پر بس میںسوار ہونے کے معاملے میں ہم بہت پُرتکلف تھے۔ بسیں آتیں اور گزر جاتیں اور ہم تکلف تکلف میں بس اسٹاپ پر کھڑے کے کھڑے رہ جاتے۔ کہیں جانے کے لیے ہم اپنی داڑھی بنا کر بس اسٹاپ پر کھڑے ہوجاتے تھے اور دوسرے مسافروں کو بس میں سوار ہونے کا موقع عنایت کرتے جاتے تھے۔ ایک نوبت ایسی بھی آتی تھی، جب ہماری داڑھی بڑھ جاتی تھی اور ہم بس اسٹاپ سے گھر واپس آجاتے تھے کہ دوبارہ داڑھی بنالیں۔
آخر کو ہم نے بس میں سوار ہونے کے آداب بدل ڈالے۔ اگر بس ساٹھ کلومیڑ فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی چل رہی ہوتو ہم اس میں سوار ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مسافروں کی چاہے کتنی بھیڑ کیوں نہ ہو، ہم اس بھیڑ کو چیرنے کا ہنر جان گئے ہیں۔ایسا نہ کرتے تو ہم زندگی بھر بس اسٹاپ پر ہی کھڑے رہ جاتے۔ سچ تو یہ ہے کہ تکلف میںاپنی زندگی کا بڑا حصہ ہم گنواچکے ہیں۔
ہماری شادی بھی محضاس لیے دیر سے ہوئی کہ جس لڑکی سے ہم شادی کرنا چاہتے تھے، اس سے اظہارِعشق کرنے میں ہم نے تکلف سے کام لیا۔نتیجے میںایک بے تکلف رقیب سے اس کی شادی ہوگئی۔ بعد میں جو دوسری لڑکی پسند آئی تو اس سے اظہارِعشق کرنے میں ہم اتنے بے تکلف ہوگئے کہ اس سے پٹتے پٹتے بچے، مگر وہ تھی بڑی سمجھ دار ۔ ۔ ۔ اس نے سوچاکہ ہمیںایک بار پیٹ دینے سے اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوگا۔ اس نے سوچا کہ ہم سے شادی کرلینا ہی بہتر ہے تاکہ زندگی بھر ہماری بے تکلفی کا بھر پور بدلہ لے سکے۔ سو اس لڑکی سے ہماری شادی ہوگئی اور ہماری زندگی کا جو حال ہے، وہ سب پر عیاں ہے۔ اب ہماری زندگی میں تکلف نام کی کوئی چیز نہیں رہ گئی ہے۔
ہاں، دعوتوں وغیرہ میں ضرور تکلف سے کام لیتے ہیں۔ لیکن اس تکلف سے بچنے کے بھی ہم نے کئی طریقے ایجاد کررکھے ہیں، مثلاً دسترخوان پر ہم ہمیشہ کسی قریبی دوست کے ساتھ بیٹھتے ہیں کہ وہ تکلف تکلف میں کھانے کی ہماری پسندیدہ چیزیں ہماری پلیٹ میں ڈالتا چلا جائے اورہم جواباً اس کی پلیٹ میں اس کی پسندیدہ چیزیں ڈالتے جائیں گے۔دعوتوںمیں یہ اچھا نہیںلگتےا کہ آپ خود اپنی پلیٹ میںکھانا ڈالتے جائیں۔ کوئی دوسرا آپ کی پلیٹ میں کھانا ڈالے تو یہ الگ بات ہے۔ اس طرح تکلف کا دامن بھی ہمارے ہاتھ سے نہیں چھوٹتا اور ہم سیر ہوکر کھانا بھی کھالیتے ہیں۔
زندگی کے کئی برس اس دنیا میں گزارنے کے بعد ہمارا خیال یہ ہے کہ تکلف ایک خاص ماحول میں اچھا ضرور لگتا ہے، لیکن اگر یہ حد سے تجاوز کرجائے توتکلیف کا سبب بن جاتا ہے۔ اس لیے ہمارا مخلصانہ مشورہ یہ کہ قبلہ تکلف کو چھوڑیے اور اپنے آپ کو عذاب سے بچایے۔
یہ مضمون کامیابی ڈائجسٹ میں مجتبٰی حسین کے نام سے شائع ہوا ہے۔

Recent Comments