خواجہ حسن نظامی

اپنی آپ بیتی میں خواجہ صاحب لکھتے ہیں: “ میرا نام علی حسن عرف حسن نظامی ، والد نام سید عاشق علی، پیدائش کا مقام بستی درگاہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا پرانی دہلی ہے اور وہیں آج کل اقامت ہے۔ معاش کتابوں اور دواؤں کی تجارت پر ہے تعلیم عربی ، فاسی اور اردو۔
تیرھویں صدی کے خاتمے کے قریب 1369ھ میں 2محرم کو جمعرات کے دن صبح صادق کے وقت حسن نظامی پیدا ہوئے۔ خاجہ صاحب اردو کے باکمال وبے مثال ادیب تھے ۔ جنھوں نے اپنی تحریروں سے نثر کو امر کردیا۔ ان کی ساری عمر ارضی مسائل کو سلجھانے میں ہی گزری۔ ان کو سماج کے دھتکارے ہوئے اور پچھڑ جانے والے لوگوں سے خصوصی لگاؤ تھا۔ انھوں نے اس قسم کے مرقعے اپنے افسانوں میں پیش کئے ہیں۔
تصور کیجیے کہ ایک امیر زادی جس کو زندگی کی گردش نے بھکارن بنادیا تھا یہ صدا لگاتی ہے کہ:

“ دولت والو ٹکڑا دو، عزت والو ٹکڑا دو، اپنے بچوں کا صدقہ ٹکڑا دو، اپنے لالوں کا صدقہ ٹکڑا دو، تمھاری چوڑی کی خیر، تمھاری مہندی کی خیر، ایک نوالہ دو۔لو میرا خالی پیالہ، لوگو! تمھارے محلے میں ٹھوکریں کھانے والی بھکارن آئی ہے، ساتھ میں اس کی جائی ہے، ہم دونوں میں بھوک کی مار آئی ہے، دہائی ہے، ایک نوالہ مجھ کو دو۔ سونے والو جاگو، ایک دن میں بھی سوتی تھی، پیا کا ہیرا موتی تھی، دنیا نے تاراج کیا؛ اس کو جس نے راج کیا۔ اب گدڑی میرا جوڑا ہے اور پاؤں کا چھالا گھوڑا ہے، جشن کی راتیں ، موج کے دن سب پانی ہیں، کنڈی کھولو، ٹکڑا دو، ہاتھ بڑھاؤ ٹکڑا دو۔روکھا ہو یا باسی ہو سب ہے نعمت ، بھوک سے بری ہے میری نوبت ، یہ ننھی بچی روتی ہے ، یہ محل کی ملکہ گود میں تھی، اب گدا کی دختر پیدل ہے۔ یہ باپ کی پیاری ، دکھ کی ماری، تیرے دوار آئی بھکاری، ٹکڑا دو، یہ آنی جانی ہے، ذرہ ذرہ فانی ہے، غفلت میں مدہوش نہ ہو، عبرت سے باہوش رہو، صدقہ ایک ٹکڑا دو۔“