<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	>

<channel>
	<title>شکاری کا بلاگ</title>
	<atom:link href="http://zahid.urdutech.net/feed" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://zahid.urdutech.net</link>
	<description>Just another Urdutech.net weblog</description>
	<pubDate>Mon, 13 Oct 2008 02:46:43 +0000</pubDate>
	<generator>http://wordpress.org/?v=2.6</generator>
	<language>en</language>
			<item>
		<title>تکلف میں ہے تکلیف سراسر</title>
		<link>http://zahid.urdutech.net/archives/57</link>
		<comments>http://zahid.urdutech.net/archives/57#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 13 Oct 2008 02:46:43 +0000</pubDate>
		<dc:creator>zahid</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[اقتباسات]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://zahid.urdutech.net/?p=57</guid>
		<description><![CDATA[تکلف چھوڑیے، بے تکلف ہوجایے۔ ماشاءاللہ بڑا مشورہ ہے۔ لیکن یہ بھی سوچیے کہ اگر ہم نے تکلف چھوڑ دیا تو نقصان آپ ہی کا ہوگا۔ ویسے ہم خوب جانتے ہیں‌کہ تکلف کو کب چھوڑنا ہے اور کب پکڑنا ہے۔ اگر ہم کسی پُر تکلف دعوت میں جاتے ہیں تو وہاں خود بہ خود بے [...]<script type="text/javascript">SHARETHIS.addEntry({ title: "تکلف میں ہے تکلیف سراسر", url: "http://zahid.urdutech.net/archives/57" });</script>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>تکلف چھوڑیے، بے تکلف ہوجایے۔ ماشاءاللہ بڑا مشورہ ہے۔ لیکن یہ بھی سوچیے کہ اگر ہم نے تکلف چھوڑ دیا تو نقصان آپ ہی کا ہوگا۔ ویسے ہم خوب جانتے ہیں‌کہ تکلف کو کب چھوڑنا ہے اور کب پکڑنا ہے۔ اگر ہم کسی پُر تکلف دعوت میں جاتے ہیں تو وہاں خود بہ خود بے تکلف ہوجاتے ہیں، کوں کہ ہن جانے ہیں‌کہ جب انواع واقسام کے لذیذ کھانے مامنے موجود ہوں تو تکلف کرنا ایسا ہی ہے جیسے خدا کی نعمتوں سے منکر ہوجانا۔ مگر جب کوئی بے تکلف دعوت ہوتی ہے جس میں کوئی خاص اہتمام نہیں ہوت اتو ہم خود بہ خود پُر تکلف ہوجاتے ہیں۔ پہلی صورت میں ہماری بے تکلفی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اپنا پیٹ لذیذ کھانے اور خدا کی نعمتوں ٹچاٹچ بھر لیں، اور دوسری صورت میں میں ہمارے پُر تکلف ہوجانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو سیدھے سادے اور بدمزہ کھانے سے محفوظ و مامون رکھیں۔<br />
ویسے ہمارا ذاتی خیال یہ ہے کہ میزبان اور مہمان اگر دونوں پُرتکلف ہوں تو تب بھی حساب فہمی کے معاملہ میں کافی چوکس رہتے ہیں۔آپ نے وہ لطیفہ تو سنا ہوگا کہ ایک پُر تکلف صاحب کسی سے ملنے کے لئے گئے تو میزبان نے اس کے سامنے رس گلے لاکر رکھ دیے۔ یہ صاحب پہلے تو تکلف کرتے رہے، لیکن میزبان کے بے حد اصرار پر انھوں نے رس گلے کھانے شروع کردیے۔یہ منع کرتے رہے ،لیکن بے تکلف میزبان ان کی پلیٹ میں رس گلے ڈالتا چلا گیا۔ کچھ دیر بعد جب میزبان نے ایک رس گلا مہمان کی پلیٹ میں ڈالنے کی کوشش کی تو پُر تکلف مہمان نے کہا، “صاحب! آخر میں کتنے رس گلے کھاؤں گا؟ پانچ تو ویسے ہی کھا چکا ہوں۔“ اس پر بے تکلف میزبان نے فوراً کہا۔ “حضور! ویسے تو آپ نے پانچ نہیں ‌بلکہ چھے رس گلے کھائے ہیں، لیکن پھر بھی ایک اور رس گلا کھانے میں کیا قباحت ہے۔“ اتنا سننا تھا کہ مہمان کے ہاتھ سے پلیٹ گر گئی۔<br />
آپ نے غور فرمایا کہ مہمان تو پرتکلف تھا، لیکن تکلف تکلف میں اس نے رس گلے کھائے تھے اور دوسری طرف میزبان کی بے تکلفی کا یہ عالم تھا کہ وہ مہمان کے سامنے بیٹھا کھائے جانے والے رس گلوں کی گنتی کررہا تھا۔<br />
اصل میں اب زمانہ بدل گیا ہے۔ چناچہ مہمان نوازی اور میزبانی کے آداب بھی اب بدلنے چاہییں۔میزبان بھی کنگال اور مہمان بھی کنگال تو تکلف میں سوائے تکلیف کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔<br />
پتا نہیں ہمارے معاشرے میں تکلف کو اتنی اہمیت کیسے حاصل ہوگئی۔ایک زمانہ ضرور ایسا تھا جب ہمارا معاشرہ تکلف کے بوجھ کو ہنسی خوشی برداشت کرلیتا تھا۔ ہماری آبادی بھی اتنی نہیں‌ تھی۔ ہر طرف فراغت کا دور دورہ تھا۔لوگ گھنٹوں خوش گپیوں اور خوش فعلیوں میں گزار دیتے تھے۔فرصت کے رات ودن اتنے تھے کہ تصورِجاناں کرنے بیٹھ جاتے تو کئی کئی دن بیٹھے رہتے تھے۔ ہر کام تکلف کے ساتھ ہوتا تھا۔ لوگ تکلف تکلف میں شادیاں کرتے تھے اور اسی تکلف تکلف میں بچے بھی پیداکرلیتے تھے۔ سب کچھ تکلفاً ہوتا تھا۔ پھر ایک زمانہ وہ آیا جب لکھنؤ کے دو نواب ریلوے اسٹیشن پر ملے تو ان دونوں‌ کے بیچ ایک دوسرے کا احترام کرنے کا پُر تکلف مقابلہ شروع ہوگیا۔ گاڑی اسٹیشن پر آکر رکی تو ایک نے کہا، “حضور! پہلے آپ گاڑی میں قدم رکھیں گے۔“دوسرے نے کہا، “جی نہیں‌، حضور! آپ بزرگ ہیں، پہلے آپ قدم رکھیں گے۔“<br />
پہلے نے کہا، “حضور!میں بزرگ ہوں تو کیا ہوا، مرتبے میں آپ بڑے ہیں۔ پہلےآپ قدم رکھیں گے۔“ اس پر “پہلے آپ، پہلے آپ“ کا جو پُرتکلف دور شروع ہوا تو ٹرین کے گارڈ نے محسوس کیا کہ ان دونوں نوابوں کے تکلف میں گاڑی لیٹ ہوتی جارہی ہے، لٰہذااس نے پوری بے تکلفی کے ساتھ ہری جھنڈی ہلا دی اور ٹرین بھی بے تکلفی کے ساتھ نکل گئی اور دونوں نواب پلیٹ فارم پر اپنے رتبے اور بزرگی کا جائزہ لیتے رہ گئے۔<br />
جب ٹرین ایجاد نہیں‌ہوئی تھی تو ہمارے معاشرے میں تکلف کی گنجائش ضرور تھی۔ “پہلے آپ پہلے آپ“ کا تکلف اس وقت اچھا معلوم ہوتا ہے جب آپ اپنے گھر کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی بزرگی اور رتبے کا جائزہ لینا شروع کریں اور دو چار گھنٹوں کی بحث کے بعد اس نتیجے پر پہنچیں کہ پہلے کس کو گھر کے اندر قدم رکھنا ہے، کیوں کہ گھر کا گارڈ نہیں ہوتا اور اگر ہوتا بھی ہے تو اس کے پاس کوئی ہری جھنڈی نہیں ہوتی۔<br />
آپ یقین کیجیے، بچپن میں ہم بھی بہت پُر تکلف ہوا کرتے تھے، بلکہ آج بھی تکلف ہماری رگ رگ میں سمایا ہوا ہے۔ ہماری تربیت ہی کچھ ایسی ہوئی ہے کہ کردار میں کچھ ہو یا نہ ہو، تکلف ضرور تھا۔ اسی  تکلف کا نتیجہ تھا کہ ہم اپنے زمانہ طالب علمی میں جاہل بنے رہے۔ استاد کوئ سبق پڑھا دیتا اور یہ ہماری سمجھ میں نہ آتا تو ہم تکلف تکلف میں استاد کو یہ نہیں بتاتے تھے کہ سبق ہماری سمجھ میں نہیں‌آیا ہے۔ نتیجے میں ہمارا نتیجہ خراب ہوجاتا تھا۔<br />
جب تک ہم ایک چھوٹے سے قصبے میں رہے، ہم اور ہمارا تکلف دونوں ہی ٹھیک ٹھاک رہے۔ لیکن جیسے ہی ہم ایک بڑے شہر میں منتقل ہوئے، ہمارے تکلف نے لنگڑانا شروع کیا۔ ابتدا میں ہمارا قیام ہاسٹل میں تھا۔ آپ تو جانتے ہیں‌ کہ ہاسٹلوں میں افراتفری اور نفسانفسی کا عالم ہوتا ہے اور نفسانفسی کا عالم ہمیشہ تکلف کا دشمن ہوتا ہے۔<br />
ہمیں یاد ہے کہ ہم ہاسٹل میں بھوکے ہی رہے، کیوں کہ قصبے میں کھانے پینے کے جو پُرتکلف آداب ہوا کرتے تھے، وہ ہاسٹل میں بالکل مفقود تھے۔ قصبے میں یہ ہوتا تھا کہ کھانا ہم پر ٹوٹ پڑتا تھا اور ہم حتی الامکان کھانے سے دور رہنے کی کوشش کرتے تھے۔ چھوٹے چھوٹے نوالے بنا کر منھ میں ڈالا کرتے تھے۔ بلکہ جگالی تک فرماتے تھے۔ ہاسٹل میں آئے تو دیکھا کہ یہاں کھانے کے آداب ہی مختلف ہیں۔ یہاں آدمی کھانے پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ جو چیز بھی سامنے نظر آجائے، اسے فوراً پلیٹ میں اتارلیتا ہے۔ یہاں اس بات کا انتظار نہیں‌ہوتا کہ دوسرا آدمی کھانا کھالے تو آپ کھانا لیں۔ اکثر ایسا بھی ہوتا کہ ہم بڑی محنت کے بعد تھوڑا سا کھانا اپنی پلیٹ میں اُتار لیتے تو کوئی ساتھی ہماری پلیٹ لے کر بھاگ جاتا تھا۔‌چھوٹے چھوٹے نوالے بناکر کھانا ہمارے بس میں نہیں رہا۔ پیٹ بڑا بدکار تو ہے ہی، کچھ دن بھوک کو برداشت کیا، بعد میں جب بھوک نے زور مارنا شروع کیا تو ہم نے تکلف کو بالائے طاق رکھا اور آستینیں چڑھا کر کھانا کھانے لگ گئے۔ ایک منزل تو وہ بھی آئی جب ہم ڈائننگ ہال میں پہنچتے تھے تو لوگ اس ڈر سے بھاگ جاتے تھے کہ ہم کھانا کھانے کے لیے آرہے ہیں۔<br />
ہمارے کھانے کے تیور ہی یکسر بدل گئے، کیوں‌کہ ہم کھانا کیا کھاتے تھے، اپنی پہلوانی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ چھوٹے چھوٹے نوالے بنا کر کھانے کیا سوال پیدا ہوتا ہے، ہم تو نوالہ بھی منھ سے بڑا بناتے تھے۔<br />
کھانے کے آداب میں‌سے تکلف کو برخاست کرنے کے بعد ہماری صحت ٹھیک رہنے لگی۔ اب دوسر ےمعاملوں کو تکلف سے پاس کرنے کا مرحلہ تھا۔ مثال کے طور پر بس میں‌سوار ہونے کے معاملے میں ہم بہت پُرتکلف تھے۔ بسیں آتیں اور گزر جاتیں اور ہم تکلف تکلف میں بس اسٹاپ پر کھڑے کے کھڑے رہ جاتے۔ کہیں جانے کے لیے ہم اپنی داڑھی بنا کر بس اسٹاپ پر کھڑے ہوجاتے تھے اور دوسرے مسافروں کو بس میں سوار ہونے کا موقع عنایت کرتے جاتے تھے۔ ایک نوبت ایسی بھی آتی تھی، جب ہماری داڑھی بڑھ جاتی تھی اور ہم بس اسٹاپ سے گھر واپس آجاتے تھے کہ دوبارہ داڑھی بنالیں۔<br />
آخر کو ہم نے بس میں‌ سوار ہونے کے آداب بدل ڈالے۔ اگر بس ساٹھ کلومیڑ فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی چل رہی ہوتو ہم اس میں‌ سوار ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مسافروں کی چاہے کتنی بھیڑ کیوں نہ ہو، ہم اس بھیڑ کو چیرنے کا ہنر جان گئے ہیں‌۔ایسا نہ کرتے تو ہم زندگی بھر بس اسٹاپ پر ہی کھڑے رہ جاتے۔ سچ تو یہ ہے کہ تکلف میں‌اپنی زندگی کا بڑا حصہ ہم گنواچکے ہیں۔<br />
ہماری شادی بھی محض‌اس لیے دیر سے ہوئی کہ جس لڑکی سے ہم شادی کرنا چاہتے تھے، اس سے اظہارِعشق کرنے میں ہم نے‌ تکلف سے کام لیا۔نتیجے میں‌ایک بے تکلف رقیب سے اس کی شادی ہوگئی۔ بعد میں جو دوسری لڑکی پسند آئی تو اس سے اظہارِعشق کرنے میں ہم اتنے بے تکلف ہوگئے کہ اس سے پٹتے پٹتے بچے، مگر وہ تھی بڑی سمجھ دار ۔ ۔ ۔ اس نے سوچاکہ ہمیں‌ایک بار پیٹ دینے سے اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوگا۔ اس نے سوچا کہ ہم سے شادی کرلینا ہی بہتر ہے تاکہ زندگی بھر ہماری بے تکلفی کا بھر پور بدلہ لے سکے۔ سو اس لڑکی سے ہماری شادی ہوگئی اور ہماری زندگی کا جو حال ہے، وہ سب پر عیاں ہے۔ اب ہماری زندگی میں تکلف نام کی کوئی چیز نہیں‌ رہ گئی ہے۔<br />
ہاں، دعوتوں‌ وغیرہ میں ضرور تکلف سے کام لیتے ہیں‌۔ لیکن اس تکلف سے بچنے کے بھی ہم نے کئی طریقے ایجاد کررکھے ہیں، مثلاً دسترخوان پر ہم ہمیشہ کسی قریبی دوست کے ساتھ بیٹھتے ہیں کہ وہ تکلف تکلف میں کھانے کی ہماری پسندیدہ چیزیں ہماری پلیٹ میں ڈالتا چلا جائے اورہم جواباً اس کی پلیٹ میں‌ اس کی پسندیدہ چیزیں ڈالتے جائیں‌ گے۔دعوتوں‌میں یہ اچھا نہیں‌لگتےا کہ آپ خود اپنی پلیٹ میں‌کھانا ڈالتے جائیں۔ کوئی دوسرا آپ کی پلیٹ میں کھانا ڈالے تو یہ الگ بات ہے۔ اس طرح تکلف کا دامن بھی ہمارے ہاتھ سے نہیں چھوٹتا اور ہم سیر ہوکر کھانا بھی کھالیتے ہیں۔<br />
زندگی کے کئی برس اس دنیا میں‌ گزارنے کے بعد ہمارا خیال یہ ہے کہ تکلف ایک خاص ماحول میں اچھا ضرور لگتا ہے، لیکن اگر یہ حد سے تجاوز کرجائے توتکلیف کا سبب بن جاتا ہے۔ اس لیے ہمارا مخلصانہ مشورہ یہ کہ قبلہ تکلف کو چھوڑیے اور اپنے آپ کو عذاب سے بچایے۔</p>
<p>یہ مضمون <a href="http://www.kamyaby.com/kd/index.htm" onclick="javascript:pageTracker._trackPageview ('/outbound/www.kamyaby.com');">کامیابی ڈائجسٹ</a> میں مجتبٰی حسین کے نام سے شائع ہوا ہے۔</p>
<p><a href="http://sharethis.com/item?&wp=2.6&amp;publisher=94f1cb47-7fe7-4df2-9920-e2fd23ec035e&amp;title=%D8%AA%DA%A9%D9%84%D9%81+%D9%85%DB%8C%DA%BA+%DB%81%DB%92+%D8%AA%DA%A9%D9%84%DB%8C%D9%81+%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%B1&amp;url=http%3A%2F%2Fzahid.urdutech.net%2Farchives%2F57">ShareThis</a></p>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://zahid.urdutech.net/archives/57/feed</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>اللہ کی نعمتیں اور ہم</title>
		<link>http://zahid.urdutech.net/archives/55</link>
		<comments>http://zahid.urdutech.net/archives/55#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 07 Oct 2008 16:55:35 +0000</pubDate>
		<dc:creator>zahid</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[مشاہدات]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://zahid.urdutech.net/?p=55</guid>
		<description><![CDATA[اللہ کی ہم پر بے حساب نعمتیں ہیں لیکن کبھی ہم نے اس بارے میں سوچا ہی نہیں کہ وہ ہمیں کس کس طرح نوازتا ہے ۔ ہمیں اگر کوئی تھوڑی سی بھی تکلیف آجائے تو فورا ناشکری پر اُتر آتے ہیں اگر دیکھا جائے تو ہمارا ٹھیک طرح سے بولنا اور سن لینا بھی [...]<script type="text/javascript">SHARETHIS.addEntry({ title: "اللہ کی نعمتیں اور ہم", url: "http://zahid.urdutech.net/archives/55" });</script>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>اللہ کی ہم پر بے حساب نعمتیں ہیں لیکن کبھی ہم نے اس بارے میں سوچا ہی نہیں کہ وہ ہمیں کس کس طرح نوازتا ہے ۔ ہمیں اگر کوئی تھوڑی سی بھی تکلیف آجائے تو فورا ناشکری پر اُتر آتے ہیں اگر دیکھا جائے تو ہمارا ٹھیک طرح سے بولنا اور سن لینا بھی بہت بڑی نعمت ہے اس کا اندازہ تب ہوتا جب بندہ کسی گونگے بہرے کے ساتھ بیٹھے۔۔<br />
اللہ نے ہمارے جسم کا ڈیزائن ہی ایسا بنایا ہے کہ اس میں تھوڑی سی تبدیلی بھی بھدی لگتی ہے ۔ اللہ کا لاکھ شکر ہے اس نے مجھے ہر طرح کے (جسمانی) نقص سے پا ک بنایا ہے۔ کل جب میں دوکان پر جارہاتھا تو بس میں ایک بچے کو دیکھ کر میں ہل گیا اُس کا دایا کان ہی نہیں تھا، کان کی جگہ پر ایک باریک سا سوراخ تھا اس کا کان سےگلے تک کا حصہ اندر کو دبا ہوا تھا اور گال سے تھوڑا اُوپر اور کان کی جگہ سے نیچے گوشت کا ایک چھوٹآ سا ٹکڑا باہر کو اُبھرا ہوا تھا۔ صرف کان کی اُوپر کی شیو ٹھیک نہ ہونے سے اُس کا چہرہ   ۔ ۔ ۔ ۔ ۔<br />
میں صرف اس پہلو کو دیکھوں اللہ نے میرے دونوں کان بالکل صیحیح ہیں تو اس کا شکر ادا نہیں کرسکتا جب میرا سارا جسم کسی نقص سے پاک ہے کہیں‌ کوئی خرابی نہیں ہے تو میں اس کا کیسے شکر ادا کرسکتا ہوں۔</p>
<p><strong>یا اللہ تیرا لاکھ شکر ہے تونے مجھے صحت مند جسم دیا، سوچنے والا دماغ دیا میں‌ تیری نعمتوں کا شکرادا نہیں کرسکتا یا اللہ تو مجھے معاف کردے۔</strong></p>
<p><a href="http://sharethis.com/item?&wp=2.6&amp;publisher=94f1cb47-7fe7-4df2-9920-e2fd23ec035e&amp;title=%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81+%DA%A9%DB%8C+%D9%86%D8%B9%D9%85%D8%AA%DB%8C%DA%BA+%D8%A7%D9%88%D8%B1+%DB%81%D9%85&amp;url=http%3A%2F%2Fzahid.urdutech.net%2Farchives%2F55">ShareThis</a></p>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://zahid.urdutech.net/archives/55/feed</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>دکھتی رگ</title>
		<link>http://zahid.urdutech.net/archives/53</link>
		<comments>http://zahid.urdutech.net/archives/53#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 14 Sep 2008 04:56:04 +0000</pubDate>
		<dc:creator>zahid</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[مشاہدات]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://zahid.urdutech.net/?p=53</guid>
		<description><![CDATA[اُردو محفل پر زیک نے ایک نیا سلسہ اجتماعی انٹرویو کا شروع کیا۔ اس میں انھوں نے پہلا سوال رکھا کہ آپ کو کونسی آواز بری لگتی ہے ان کا یہ سوال میری دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنے کے مترادف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری دوکان کے سامنے والی تین چار دوکانیں [...]<script type="text/javascript">SHARETHIS.addEntry({ title: "دکھتی رگ", url: "http://zahid.urdutech.net/archives/53" });</script>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://www.urduweb.org/mehfil/forum.php" onclick="javascript:pageTracker._trackPageview ('/outbound/www.urduweb.org');">اُردو محفل</a> پر زیک نے ایک نیا سلسہ <a href="http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=11353" onclick="javascript:pageTracker._trackPageview ('/outbound/www.urduweb.org');">اجتماعی انٹرویو</a> کا شروع کیا۔ اس میں انھوں نے پہلا سوال رکھا کہ آپ کو کونسی آواز بری لگتی ہے ان کا یہ سوال میری دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنے کے مترادف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری دوکان کے سامنے والی تین چار دوکانیں بند پڑی ہیں جہاں پر دوسرے دوکان دار اپنے گلاس اور پلیٹیں دھوتے ہیں۔ اور ساتھ ہی وہاں کی دیواریں بھی لال کرتے رہتے ہیں۔ لیکن دوسرے راہ گزر بھی موقع کو ضائع کرنا مناسب نہیں سمجھتے اور خالی جگہ سے بھر پور فائدہ اُٹھاتے ہوئے وہاں رک کر پہلے گلے سے ایک عجیب سی آواز نکالتے ہیں کچھ کی یہ آواز لمبی ہی ہوتی چلی جاتی ہے اور پھر گلے سے ریشہ برامد کرکے ادائے بے نیازی سے ہماری آنکھوں کے سامنے پھینکتے ہوئے چلتے بنتے ہیں۔اب آدمی کس کس کو روکے وہاں سے ہزاروں لوگ گزرتے رہتے ہیں۔اگر کس کو ریشہ کی تکلیف نہ ہو تو وہ بھی موقع کو ضائع کرنا مناسب نہیں سمجھتا بلکہ پان کی پیک پر ہی اکتفا کرلیتا ہے۔<br />
اصل پریشانی تب ہوتی ہے جب ہم کھانا کھا رہے ہوں اور ہماری آنکھوں کے سامنے یہ سارا عمل بھی جاری و ساری رہتا ہے۔ فرض کریں جب آپ نوالہ منہ میں ڈال رہے ہوں عین اس وقت کوئی وہاں آکر رکے اور ریشہ پھینکنے کی کوشش کرے تو آپ کا ردعمل کیا ہوگا۔</p>
<p>1- برداشت کریں گے اور اب تک کھائی ہوئی روٹی کو واپس باہر آنے سے روکنے کی کوشش کریں۔<br />
2- وہاں لوگوں کو منع کریں گے (کتنے لوگوں کو منع کریں گے اور کب تک؟)</p>
<p><a href="http://sharethis.com/item?&wp=2.6&amp;publisher=94f1cb47-7fe7-4df2-9920-e2fd23ec035e&amp;title=%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%8C+%D8%B1%DA%AF&amp;url=http%3A%2F%2Fzahid.urdutech.net%2Farchives%2F53">ShareThis</a></p>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://zahid.urdutech.net/archives/53/feed</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>میسنجر کہانی</title>
		<link>http://zahid.urdutech.net/archives/51</link>
		<comments>http://zahid.urdutech.net/archives/51#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 18 Aug 2008 09:14:53 +0000</pubDate>
		<dc:creator>zahid</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[1]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://zahid.urdutech.net/?p=51</guid>
		<description><![CDATA[
کچھ دن پہلے میرا یاہو کا میسنجر کرپٹ ہوگیا۔ میں نے یاہو کی سائیٹ سے نیا میسنجر ڈاون لوڈ کیا اور جب انسٹال کرنے لگا تو معلوم ہوا یہ بھی کرپٹ ہوگیا ہے ۔ جس کا صاف مطلب تھا سسٹم میں کوئی وائرس ہے جو یہ کرپٹ ہوگیا ہے۔ اس وقت میرے پاس اے وی [...]<script type="text/javascript">SHARETHIS.addEntry({ title: "میسنجر کہانی", url: "http://zahid.urdutech.net/archives/51" });</script>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[
<p>کچھ دن پہلے میرا یاہو کا میسنجر کرپٹ ہوگیا۔ میں نے <a href="http://www.yahoo.com" onclick="javascript:pageTracker._trackPageview ('/outbound/www.yahoo.com');">یاہو</a> کی سائیٹ سے نیا میسنجر ڈاون لوڈ کیا اور جب انسٹال کرنے لگا تو معلوم ہوا یہ بھی کرپٹ ہوگیا ہے ۔ جس کا صاف مطلب تھا سسٹم میں کوئی وائرس ہے جو یہ کرپٹ ہوگیا ہے۔ اس وقت میرے پاس اے وی جی رجسڑ اور نورٹن ٹریل دونوں تھے ان دونوں نے سسٹم اسکین کیا اور کہا یہاں کوئی وائرس نہیں ہے ۔ خیر کسی طرح بھی میسنجر چلنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ مجبورا نئی ونڈو انسٹال کرکے یاہو کو چلنے کے لیے راضی کیا۔<br />
 ونڈو انسٹال کرنے کے دوران غلطی سے یو ایس بھی کو میں نے فارمیٹ کر دیا۔ اسے اوپن کرنے سے پہلے ایک مرتبہ پھر فارمیٹ کرنے کے لیے کہا جاتا ہے جو میں نے نہیں کیا بلکہ قریبا سات ڈیٹا ریکوری کے سوفٹ وئیر آزما کر دوسری ڈرائیو میں ڈیٹا ریکور کر لیا لیکن‌ اب یو ایس بی اوپن کرتا ہوں تو اسے فارمیٹ کرنے کے لیے کہا جاتا ہے، فارمیٹ‌کرتا ہوں تو ونڈو فارمیٹ کرنے سے انکار کردیتی ہے ۔ اسے میں نے دوسرے کمپیوٹر پر بھی ٹرائی کیا ہے لیکن یہی ایرر آرہا ہے۔</p>
<p>ابھی ونڈو کو کچھ دن ہی گزرے تھے کہ میسنجر کو پھر کیا سوجھی اور کرپٹ ہوگیا۔ اب کی بار یاہو کی سائٹ سے میسنجر ڈاؤن لوڈ کیا تو کرپٹ نکلا۔۔۔۔۔ <a href="http://www.softpedia.com/" onclick="javascript:pageTracker._trackPageview ('/outbound/www.softpedia.com');">سوفٹ پیڈیا </a>سے ڈاؤن لوڈ کیا تو وہ بھی کرپٹ  ۔۔۔۔<br />
اس کا سیدھا سا مطلب ہے کہ سسٹم میں وائرس ہے لیکن اے وی جی سے دو مرتبہ اسکین کروایا اور اس نے دونوں مرتبہ کہہ دیا کوئی وائرس نہیں ہے ۔ اب سوفٹ پیڈیا سے دوسری سورس کو استعمال کرتے ہوئے میں نے میسنجر ڈاؤن لوڈ کرنے نی کوشش کی تو اس نے مجھے مزید خواری سے بچاتے ہوئے ڈاؤن لوڈ ہونے کی زحمت اور صحیح انسٹال ہونے کی مہربانی کی جو اب تک قائم ہے۔</p>
<p>اس ساری کہانی میں یہ سمجھ نہیں‌ آئی کہ یاہو کی سائٹ‌سے لیا ہوا میسنجر کرپٹ ہوگیا اور دوسری سورس کا میسنجر چل گیا ۔۔ دوسرا مسلہ یو ایس بی کا ہے ۔۔۔۔ اور تیسرا مسلہ وائرس کا ہے جسے اے وی جی بھی پکڑنے سے قاصر ہے۔ حتٰی کہ اب خود اے وی جی کو بھی اسنے تنگ کرنا شروع کردیا ہے۔ مثلاً جب اے وی جی کا دل چاہتا ہے چل جاتا ہے اور جب چاہتا ہے کرپٹ فائل کی طرح ایک طرف پڑا سویا رہتا ہے۔</p>
<p><a href="http://sharethis.com/item?&wp=2.6&amp;publisher=94f1cb47-7fe7-4df2-9920-e2fd23ec035e&amp;title=%D9%85%DB%8C%D8%B3%D9%86%D8%AC%D8%B1+%DA%A9%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C&amp;url=http%3A%2F%2Fzahid.urdutech.net%2Farchives%2F51">ShareThis</a></p>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://zahid.urdutech.net/archives/51/feed</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>بارش</title>
		<link>http://zahid.urdutech.net/archives/50</link>
		<comments>http://zahid.urdutech.net/archives/50#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 01 Aug 2008 04:29:04 +0000</pubDate>
		<dc:creator>zahid</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[باتیں ادھر ادھر کی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://zahid.urdutech.net/archives/50</guid>
		<description><![CDATA[بارشفیصل آباد میں اس سال خوب بارش ہوئی، کراچی میں بارش کا بہت طویل انتظار کرنا پڑا جو اُنتیس جولائی کو ختم ہوا لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہم اس سے لطف اندوز نہیں ہوسکے۔ اس میں ہمارا قصور صرف اتنا ہے کہ ہم پاکستان کے سب سے ترقی یافتہ شہر کراچی میں [...]<script type="text/javascript">SHARETHIS.addEntry({ title: "بارش", url: "http://zahid.urdutech.net/archives/50" });</script>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بارش<br />فیصل آباد میں اس سال خوب بارش ہوئی، کراچی میں بارش کا بہت طویل انتظار کرنا پڑا جو اُنتیس جولائی کو ختم ہوا لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہم اس سے لطف اندوز نہیں ہوسکے۔ اس میں ہمارا قصور صرف اتنا ہے کہ ہم پاکستان کے سب سے ترقی یافتہ شہر کراچی میں رہتے ہیں، اتنی ترقی اور فاسٹ ہونے کے باوجود یہ مسائل کا گھڑ ہے۔ اب بارش ہی کو دیکھ لیجیے ہلکی سی بارش ہوئی اور اگلے دن کے تقریباً تمام اخبارات کی مین سرخی بارش ہی کے مطلق تھی، جیسے بارش نہ ہوئی کوئی بہت اہم بات ہوگئی۔ فیصل آباد میں اس سے کئی گنا تیز اور طوفانی بارشیں ہوتی ہیں لیکن وہاں کبھی کوئی مسلہ نہیں بنا۔کراچی بمقابلہ پنجاب دیکھئے ذرا:</p>
<p>1۔ یہاں بارش شروع ہوتے ہی بجلی غائب اور بارہ سے چوبیس گھنٹے بعد ہی آتی ہے۔<br />2۔ پہلی بارش پر ٹیلیفون کی سروس خراب ہوجاتی ہے مکمل ٹھیک برسات کے بعد ہوتی ہے۔<br />3۔ بارش کے شروع ہوتے ہی تمام مارکیٹیں بند ہوجاتی ہیں اور لوگ گھروں کو بھاگتے ہیں اس وقت پونے گھنٹے کا سفر تین سے چار گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔<br />4۔ اگلے دن مارکیٹ کے بند ہونے کا ستر فیصد چانس ہوتا ہے، اگر کھل بھی جائے تو کاروبار نہیں ہوتا، دوکاندار چار بجے گھر جانا شروع ہوجاتے ہیں۔<br />5۔ روڈ تو روڈ مارکیٹ میں بھی پانی کھڑا ہوتا ہے بارش کا نہیں سیوریج کا ۔<br />یہ مختصر سے مسائل ہیں جن سے مجھے واسطہ پڑا تو یہاں لکھ دیئے، اس کے علاوہ بھی بہت سے مسائل ہونگے جو یہاں جگہ پانے سے محروم رہ گئے۔ اصل مسلئہ یہ ہے کہ کراچی پاکستان کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ شہر ہے اور یہاں کا بجٹ بھی بہت زیادہ ہے جو یہاں کی تعمیر و ترقی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود یہ حال ہے کہ پہلی بارش بہت بڑی خبر بن جاتی ہے۔فیصل آباد میں ایسا کوئی مسلئہ نہیں وہاں کتنی بھی زیادہ اور تیز بارش ہو نظام زندگی کبھی متاثر نہیں ہوا، باقاعدہ مارکیٹ کھلی رہتی ہے،اور کاروبار بھی ہوتا ہے، کسی روڈ پر پانی نہیں کھڑا ہوتا بہت کم جگہوں پر پانی کھڑا ہوتا ہے وہ بھی بارش کا جو ایک دو دن میں خشک ہوجاتا ہے، ٹریفک بھی جام نہیں ہوتی۔</p>
<p><a href="http://sharethis.com/item?&wp=2.6&amp;publisher=94f1cb47-7fe7-4df2-9920-e2fd23ec035e&amp;title=%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%B4&amp;url=http%3A%2F%2Fzahid.urdutech.net%2Farchives%2F50">ShareThis</a></p>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://zahid.urdutech.net/archives/50/feed</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>میں</title>
		<link>http://zahid.urdutech.net/archives/49</link>
		<comments>http://zahid.urdutech.net/archives/49#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 02 Jul 2008 03:53:08 +0000</pubDate>
		<dc:creator>zahid</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[میں نے کہا]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://zahid.urdutech.net/archives/49</guid>
		<description><![CDATA[
میں نے آج سے ٹھیک چوبیس سال پہلے یعنی 1
st جولائی 1984ء بروز جمعرات عید کے دن اس دنیا میں تشریف لاکر اپنے گھر والوں کو ڈبل خوشی اور دنیا والوں کو اپنی خدمت کرنے کا موقع فراہم کیا تھا۔یہی نہیں بلکہ پاکستان کی نئی نسل میں ایک فرد کا اضافہ بھی۔ میرے گھر والوں [...]<script type="text/javascript">SHARETHIS.addEntry({ title: "میں", url: "http://zahid.urdutech.net/archives/49" });</script>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[
<p>میں نے آج سے ٹھیک چوبیس سال پہلے یعنی 1<br />
st جولائی 1984ء بروز جمعرات عید کے دن اس دنیا میں تشریف لاکر اپنے گھر والوں کو ڈبل خوشی اور دنیا والوں کو اپنی خدمت کرنے کا موقع فراہم کیا تھا۔یہی نہیں بلکہ پاکستان کی نئی نسل میں ایک فرد کا اضافہ بھی۔ میرے گھر والوں کا خیال تھا میں پڑھ لکھ کر اپنے ماں باپ اور پاکستان کا نام روشن کروں گا۔<br />
لیکن بوجہ اچھی تعلیم حاصل نہ کرسکا۔ جس پر مجھے خیال گزرا مقصد نام روشن کرنا ہی ہے تو کیوں نہ ایک بورڈ پر سب کے نام لکھ کر 1000 واٹ کے بلب آن کردوں گا۔ جس کے لئے کوئی خاص محنت بھی نہیں‌کرنی پڑے گی۔ پتا نہیں kesc والوں کو میرے اس منصوبے کا علم کیسے ہوگیا اور انھوں نے مجھے ناکام کرنے کے لیے لوڈ شیڈنگ شروع کردی۔<br />
اب تک زندگی بے مقصد بغیر کسی منزل کے تعین کے گزار رہا تھا۔ لیکن kesc کے اس اقدام نے مجھے کسی منزل کا تعین کرنے پر مجبور کردیا۔ جس کی وجہ سے میں نے اپنے لیے ایک مشن اسٹیٹمنٹ لکھا ہے۔ سب سے بڑھ کر میں نے چھ سال اپنا تعلیمی سفر دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے یقیناً سخت محنت کرنی پرے گی۔ مشن اسٹیٹمینٹ کچھ اس طرح ہے:</p>
<p><strong>سب سے پہلے اور سب سے زیادہ میں ہمیشہ اپنے خدا پر یقین رکھوں گا۔<br />
 میں ہمیشہ اپنا مثبت ذاتی تشخص اور بلند اعتماد برقرار رکھوں گا۔<br />
 اپنے لیے ایسے مقاصد طے کروں گا جو قابل حصول اور مذہب سے متصادم نہ ہوں۔<br />
 ان مقاصد کو کبھی نظروں سے اوجھل نہیں‌ ہونے دوں گا۔<br />
 میں تمام چیلنجوں کا سامنا رجائیت کے ساتھ کروں گا نہ کہ شک کے ساتھ۔<br />
 ہر ایک کی عزت ، احترام اور اکرام کروں‌گا۔<br />
 میں اپنے خاندان کے شیرازے کی قوت کو کم تر نہیں‌کروں‌ گا۔<br />
 میں اپنے مخلص دوستوں‌کو کبھی نظر انداز نہیں‌کروں گا۔اپنے آپ پر اور جو لوگ میرے ارد گرد ہیں ، ان سب پر اعتماد کروں‌گا۔<br />
 اپنے افعال کے ذریعے گفتگو کروں گا نہ کہ الفاظ کے ذریعے۔<br />
 دوسروں کے (اپنے سے) اختلاف کی قدر کروں گا، اور ان اختلافات کو اپنے لیے مفید گردانوں گا۔<br />
 ان لوگوں کی مدد کے لیے وقت نکالوں گا جو مادی لحاظ سے مجھ سے کم تر ہیں‌ یا جن کا دن مجھ سے خراب تر ہے۔</strong></p>
<p>اللہ سے دعا ہے وہ مجھے اس آئین پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آئندہ سال زندگی نے ایک اور سالگرہ منانے کا موقع دیا تو انشاءاللہ اپنی سال بھر کی پروگریسیو رپورٹ بھی لکھوں گا۔</p>
<p><a href="http://sharethis.com/item?&wp=2.6&amp;publisher=94f1cb47-7fe7-4df2-9920-e2fd23ec035e&amp;title=%D9%85%DB%8C%DA%BA&amp;url=http%3A%2F%2Fzahid.urdutech.net%2Farchives%2F49">ShareThis</a></p>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://zahid.urdutech.net/archives/49/feed</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>خواجہ حسن نظامی</title>
		<link>http://zahid.urdutech.net/archives/45</link>
		<comments>http://zahid.urdutech.net/archives/45#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 15 Jun 2008 18:09:11 +0000</pubDate>
		<dc:creator>zahid</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[اقتباسات]]></category>

		<category><![CDATA[خواجہ حسن نظامی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://zahid.urdutech.net/archives/45</guid>
		<description><![CDATA[خواجہ حسن نظامی
اپنی آپ بیتی میں خواجہ صاحب لکھتے ہیں: “ میرا نام علی حسن عرف حسن نظامی ، والد نام سید عاشق علی، پیدائش کا مقام بستی درگاہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا پرانی دہلی ہے اور وہیں آج کل اقامت ہے۔ معاش کتابوں اور دواؤں کی تجارت پر ہے تعلیم عربی ، فاسی [...]<script type="text/javascript">SHARETHIS.addEntry({ title: "خواجہ حسن نظامی", url: "http://zahid.urdutech.net/archives/45" });</script>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>خواجہ حسن نظامی</p>
<p>اپنی آپ بیتی میں خواجہ صاحب لکھتے ہیں: “ میرا نام علی حسن عرف حسن نظامی ، والد نام سید عاشق علی، پیدائش کا مقام بستی درگاہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا پرانی دہلی ہے اور وہیں آج کل اقامت ہے۔ معاش کتابوں اور دواؤں کی تجارت پر ہے تعلیم عربی ، فاسی اور اردو۔<br />تیرھویں صدی کے خاتمے کے قریب 1369ھ میں 2محرم کو جمعرات کے دن صبح صادق کے وقت حسن نظامی پیدا ہوئے۔ خاجہ صاحب اردو کے باکمال وبے مثال ادیب تھے ۔ جنھوں نے اپنی تحریروں سے نثر کو امر کردیا۔ ان کی ساری عمر ارضی مسائل کو سلجھانے میں ہی گزری۔ ان کو سماج کے دھتکارے ہوئے اور پچھڑ جانے والے لوگوں سے خصوصی لگاؤ تھا۔ انھوں نے اس قسم کے مرقعے اپنے افسانوں میں پیش کئے ہیں۔<br />تصور کیجیے کہ ایک امیر زادی جس کو زندگی کی گردش نے بھکارن بنادیا تھا یہ صدا لگاتی ہے کہ:</p>
<p>“ دولت والو ٹکڑا دو، عزت والو ٹکڑا دو، اپنے بچوں کا صدقہ ٹکڑا دو، اپنے لالوں کا صدقہ ٹکڑا دو، تمھاری چوڑی کی خیر، تمھاری مہندی کی خیر، ایک نوالہ دو۔لو میرا خالی پیالہ، لوگو! تمھارے محلے میں ٹھوکریں کھانے والی بھکارن آئی ہے، ساتھ میں اس کی جائی ہے، ہم دونوں میں بھوک کی مار آئی ہے، دہائی ہے، ایک نوالہ مجھ کو دو۔ سونے والو جاگو، ایک دن میں بھی سوتی تھی، پیا کا ہیرا موتی تھی، دنیا نے تاراج کیا؛ اس کو جس نے راج کیا۔ اب گدڑی میرا جوڑا ہے اور پاؤں کا چھالا گھوڑا ہے، جشن کی راتیں ، موج کے دن سب پانی ہیں، کنڈی کھولو، ٹکڑا دو، ہاتھ بڑھاؤ ٹکڑا دو۔روکھا ہو یا باسی ہو سب ہے نعمت ، بھوک سے بری ہے میری نوبت ، یہ ننھی بچی روتی ہے ، یہ محل کی ملکہ گود میں تھی، اب گدا کی دختر پیدل ہے۔ یہ باپ کی پیاری ، دکھ کی ماری، تیرے دوار آئی بھکاری، ٹکڑا دو، یہ آنی جانی ہے، ذرہ ذرہ فانی ہے، غفلت میں مدہوش نہ ہو، عبرت سے باہوش رہو، صدقہ ایک ٹکڑا دو۔“</p>
<p><a href="http://sharethis.com/item?&wp=2.6&amp;publisher=94f1cb47-7fe7-4df2-9920-e2fd23ec035e&amp;title=%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%AC%DB%81+%D8%AD%D8%B3%D9%86+%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85%DB%8C&amp;url=http%3A%2F%2Fzahid.urdutech.net%2Farchives%2F45">ShareThis</a></p>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://zahid.urdutech.net/archives/45/feed</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>پاک گروپ</title>
		<link>http://zahid.urdutech.net/archives/44</link>
		<comments>http://zahid.urdutech.net/archives/44#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 11 Jun 2008 03:52:28 +0000</pubDate>
		<dc:creator>zahid</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[ہم اور دنیا]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://zahid.urdutech.net/archives/44</guid>
		<description><![CDATA[پاک گروپ
کچھ دن پہلے میں نے ایک تجویز پیش کی تھی کہ ہم ڈاکڑ عبدالقدیر خان کے ساتھ اپنی عقیدت اور ہمدردی کا اظہار کس طرح کرسکتے ہیں۔ وہ تجویز یہاں دوبارہ دوہراتا ہوں، تاکہ قاری کو بار بار وہاں جانا نہ پڑے۔
“ ہم قریباً چالیس پچاس بلاگر ایک دوسرے کو تھوڑا بہت جانتے ہیں [...]<script type="text/javascript">SHARETHIS.addEntry({ title: "پاک گروپ", url: "http://zahid.urdutech.net/archives/44" });</script>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>پاک گروپ</p>
<p>کچھ دن پہلے میں نے<a href="http://zahid.urdutech.net/archives/41#comments"> ایک تجوی</a>ز پیش کی تھی کہ ہم ڈاکڑ عبدالقدیر خان کے ساتھ اپنی عقیدت اور ہمدردی کا اظہار کس طرح کرسکتے ہیں۔ وہ تجویز یہاں دوبارہ دوہراتا ہوں، تاکہ قاری کو بار بار وہاں جانا نہ پڑے۔</p>
<p>“ ہم قریباً چالیس پچاس بلاگر ایک دوسرے کو تھوڑا بہت جانتے ہیں ۔ اگر یہ چالیس، پچاس افراد مل کر ایک گروپ بنالیں اور اس گروپ کا روزانہ ایک رکن ایک کارڈ کی بنیاد پر ڈاکڑ صاحب کو تہنتی (بیسٹ وش) کارڈ پوسٹ کرے۔ اگر ارکان کی تعداد بڑھ جائے تو روزانہ ایک کارڈ کی بجائے وہ یا تین رکن ہوجائیں گے۔ ہر مہنے کی یکم تاریخ کو تمام ارکان ایک کارڈ اور پھر روزانہ ایک ، دو یا تین افراد ایک ایک کارڈ‌ پوسٹ کریں گے۔ اس طرح ڈاکڑ صاحب کو پہلی تاریخ کو لاتعداد  بیسٹ وش کے کارڈ اور روزانہ  ۔ ۔ ۔ ۔کارڈ موصول ہونگے۔ اس طرح ہم اپنے ہیرو کے ساتھ اپنی عقیدت کا اظہار بھی کرسکیں گے اور اس کے بہت سے فوائد بھی ہیں۔اس طریقے سے کسی رکن پر زیادہ مالی بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔“</p>
<p>تو جناب یہ تھی میری تجویز جس کو کچھ بلاگر نے پسند کیا لیکن کوئی ایسی صورت نہ بن سکی کہ گروپ بنایا جائے ۔ اس لیے میں نے لکھ دیا جس کو یہ تجویز پسند آئے وہ اپنے طور پر عمل کرتا رہے ۔ انشاءاللہ جلد ہی گروپ بنادیا جائے گا، اس کے بعد میں بھی گروپ کو بھول گیا۔ لیکن کل <a href="http://khawarking.blogspot.com/" onclick="javascript:pageTracker._trackPageview ('/outbound/khawarking.blogspot.com');">خاور کھوکھر</a> کی <a href="http://khawarking.blogspot.com/2008/06/blog-post.html" onclick="javascript:pageTracker._trackPageview ('/outbound/khawarking.blogspot.com');">اس تحری</a>ر نے ایک نیا جذبہ دیا جنھوں نے مختصر عرصے میں اتنا زیادہ کام کیا کہ ان کی تحریر پڑھ کر بہت خوشی ہوئی اس نئے جذبے کے تحت میں نے اپنے بلاگ پر ایک الگ صفحہ پاک گروپ کے نام سے بنادیا ہے۔ جو دوست بھی اس تجویز پر عمل کرنا چاہے یا کوئی اپنی قیمتی رائے سے نوازنا چاہے تو یہاں پر تبصرہ والے خانہ میں اپنا مشورہ دیں اور بتائیے آپ اس تجویز پر کتنا اور کس حد تک عمل کرنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>ڈاکڑ صاحب کا پوسٹ ایڈریس جو بذریعہ انکل اجمل معلوم ہوا ہے وہ درج ذیل ہے۔</p>
<p>عبدالقدیر خان<br />
گومل روڈ ۔ ای ۔ 7 ۔ اسلام آباد</p>
<p><a href="http://sharethis.com/item?&wp=2.6&amp;publisher=94f1cb47-7fe7-4df2-9920-e2fd23ec035e&amp;title=%D9%BE%D8%A7%DA%A9+%DA%AF%D8%B1%D9%88%D9%BE&amp;url=http%3A%2F%2Fzahid.urdutech.net%2Farchives%2F44">ShareThis</a></p>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://zahid.urdutech.net/archives/44/feed</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>ایک کہانی محاوروں کی زبانی</title>
		<link>http://zahid.urdutech.net/archives/42</link>
		<comments>http://zahid.urdutech.net/archives/42#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 02 Jun 2008 01:20:27 +0000</pubDate>
		<dc:creator>zahid</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[سیاسی باتیں]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://zahid.urdutech.net/archives/42</guid>
		<description><![CDATA[اپنے انصار برنی جو پاکستان سے زیادہ انڈیا کے ساتھ وفاداری کی کوشش کرتے رہتے ہیں کو انڈیا نے  “ منہ پر خوشامد یہ کرتے ہوئے“  “منہ پر تھوک کر “‌‌‌  ملک بدر کردیا۔  “ منہ دیکھ کر بیڑا، چوتڑ دے کر پیڑھا  “  وامہ مثل رکھی تھی آج [...]<script type="text/javascript">SHARETHIS.addEntry({ title: "ایک کہانی محاوروں کی زبانی", url: "http://zahid.urdutech.net/archives/42" });</script>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>اپنے انصار برنی جو پاکستان سے زیادہ انڈیا کے ساتھ وفاداری کی کوشش کرتے رہتے ہیں کو انڈیا نے  “ منہ پر خوشامد یہ کرتے ہوئے“  “منہ پر تھوک کر “‌‌‌  ملک بدر کردیا۔  “ منہ دیکھ کر بیڑا، چوتڑ دے کر پیڑھا  “  وامہ مثل رکھی تھی آج اُکا عملی مظاہرہ  بھی دیکھ لیا ہے۔ بھارت نے منہ دیکھ کر تھپڑ مارا “  ہے۔ اگرچہ انصار برنی یہاں سے بہت پر رونق منہ لے کر گئے ہوں گے۔ لیکن انڈیا نے ائیر پورٹ پر ہی  “ منہ توڑ کر جواب “ دے دیا جسے سن کر محترم کے “ منہ کی فاختہ “ اُر گئی۔ یقیناً اس وقت انصار برنی کی حالت  “ منہ ڈھک ڈھک کر رونا “  سے مماثلت ہوگی۔ جب وہ کہیں‌ “ منہ دکھانے کے قابل “‌  نہ رہے تو  “ منہ دیکھے کی اُلفت “ کے مطابق اُنھیں دوبارہ انڈیا آنے کی دعوت دے ڈالی ۔ آب دیکھیے انصار برنی کس منہ سے انڈیا جاتے ہیں ۔ اس وقت انصار برنی کی عزت  “ منہ کو سات تووں کی کالک لگ جانا “   کے مترادف ہے۔</p>
<p><a href="http://sharethis.com/item?&wp=2.6&amp;publisher=94f1cb47-7fe7-4df2-9920-e2fd23ec035e&amp;title=%D8%A7%DB%8C%DA%A9+%DA%A9%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C+%D9%85%D8%AD%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%88%DA%BA+%DA%A9%DB%8C+%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C&amp;url=http%3A%2F%2Fzahid.urdutech.net%2Farchives%2F42">ShareThis</a></p>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://zahid.urdutech.net/archives/42/feed</wfw:commentRss>
		</item>
		<item>
		<title>چند تجاویز</title>
		<link>http://zahid.urdutech.net/archives/41</link>
		<comments>http://zahid.urdutech.net/archives/41#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 01 Jun 2008 08:55:43 +0000</pubDate>
		<dc:creator>zahid</dc:creator>
		
		<category><![CDATA[میں نے کہا]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://zahid.urdutech.net/archives/41</guid>
		<description><![CDATA[سب کو معلوم ہے انڈیا اور پاکستان دونوں نےقریب قریب ایک ساتھ ہی ایٹمی سائنسدانوں نے بہت محنت کے بعد اس منزل کو حاصل کیا۔ جس پر عوام نے انھیں اپنا ہیرو قرار دے دیا۔ انڈیا نے اپنے سائنسدان کو صدر کا عہدہ دے کر اُن کی عزت افزائی کی لیکن ہم نے اپنے ہیرو [...]<script type="text/javascript">SHARETHIS.addEntry({ title: "چند تجاویز", url: "http://zahid.urdutech.net/archives/41" });</script>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>سب کو معلوم ہے انڈیا اور پاکستان دونوں نےقریب قریب ایک ساتھ ہی ایٹمی سائنسدانوں نے بہت محنت کے بعد اس منزل کو حاصل کیا۔ جس پر عوام نے انھیں اپنا ہیرو قرار دے دیا۔ انڈیا نے اپنے سائنسدان کو صدر کا عہدہ دے کر اُن کی عزت افزائی کی لیکن ہم نے اپنے ہیرو ڈاکڑ عبدالقدیر خان کو قید یا نظر بند کرکے عزت دی ۔ کہا جارہا ہے اُنھیں بوجہ مصلحت نظر بند کیا ہے وہ بے قصور ہیں ، وقت آنے پر اُنھیں رہا کردیا جائے گا۔<br />
لیکن قوم کسی حد تک اُنھیں بھول چکی ہے۔ یقیناً ڈاکڑ صاحب کو بھی اس کا احساس ہوگا، یہ کیسی بے حس قوم ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔<br />
میں نے کہا تھا میرے ذہن میں ڈاکڑ صاحب کے لیے چند تجاویز ہیں ، جو میں یہاں پیش کررہا ہوں۔<br />
بلاگنگ کی لائن میں ہم کم از کم 40،50 افراد ہیں جو ایک دوسرے کو جانتے ہیں ۔ اگر ہم سب مل کر ایک گروپ بنالیں اور اس گروپ کا روزانہ ایک رکن ایک تہنتی کارڈ ڈاکڑ عبد القدیر خان کو پوسٹ کرے گا۔ اس طرح اگر گروپ کے صرف 30 رکن بھی ہوئے تو ہر رکن کو ایک مہینے میں ایک کارڈ پوسٹ کرنا پڑیگا۔ لیکن ڈاکڑ صاحب کو روزانہ ایک کارڈ موصول ہوگا۔ میرے خیال سے ایک کارڈ کا خرچہ کسی کے لیے کوئی بوجھ نہیں بنے گا۔<br />
اس طریقے سے ہم ڈاکڑ صاحب کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کرسکتے ہیں ۔ اگر ارکان میں اضافہ ہوگیا تو روزانہ ایک رکن کی بجائے دو رکن ہوجائیں گے۔ ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ تمام ارکان مہنے کی یکم تاریخ کو ایک ایک کارڈ اور پھر روزانہ ایک رکن ایک کارڈ پوسٹ کریں گے۔ اس طرح دو کارڈ کا خرچہ برداشت کرنا ہوگا۔ </p>
<p>آپکی تجاویز کا انتظار رہے گا۔</p>
<p><a href="http://sharethis.com/item?&wp=2.6&amp;publisher=94f1cb47-7fe7-4df2-9920-e2fd23ec035e&amp;title=%DA%86%D9%86%D8%AF+%D8%AA%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%B2&amp;url=http%3A%2F%2Fzahid.urdutech.net%2Farchives%2F41">ShareThis</a></p>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://zahid.urdutech.net/archives/41/feed</wfw:commentRss>
		</item>
	</channel>
</rss>
