مختلف بلاگرز ابوشامل، عکس، انکل اجمل نے کافی متاثر کن انداز میں حقائق بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن مجھے افسوس ہے کہ یہ اتنا بڑا ایشو نہیں ہے جتنا بڑا کرکے اسے عوام میں پیش کیا جارہا ہے اس واقع پر ٹی وی پر بھی بحث چل رہی ہے۔ مرنے والے لوگوں کا تعلق چور ڈکیت سے تھا اگر ان کو زندہ جلادیا گیا تو کیا ہوا، 9 اپریل کو 6 افراد کو زندہ جلایا گیا وہ بے گناہ اور شریف تھے اُس وقت تو کوئی نہیں بولا کسی نے ایسے افسوس ناک واقع پر اتنا شور نہ کیا بس ایک دو دن بحث چلی اور سب بھول گئے۔ اس واقع میں اتنا ضرور ہوا ہے کہ عوام نے قانون اپنے ہاتھ میں لینا شروع کردیا ہے۔ عوام بھی بیچارے مجبور ہیں جب انصاف فراہم کرنے والے ادارے عوام کی بجائے چور، ڈکیت، شرابی کبابی اور ہر طرح کا غیر قانونی کام کرنے والوں کو تحفظ دیں گے تو عوام کس کے پاس جائیں۔ ان کے پاس۔ ۔ ۔ ۔ جو خود انصاف کی تلاش میں تقریباً ڈیڑھ سال کے عرصے سے سڑکوں پر گھوم رہے ہیں؟ ان سیاسی جماعتوں کے پاس جن کے اعمال میں 12 مئی اور 9 اپریل جیسے نہ جانے کتنے کارنامے لکھے ہوئے ہیں؟ ان حکمرانوں کے پاس جنہوں نے 12 مئی کو کراچی میں اپنی طاقت کا اظہار کیا تھا، جو آٹے اور اسٹاک ایکسچینج جیسے واقعات میں ملوث ہیں یا اُن لوگوں کے پاس جو ناجانے کتنے کیس معاف کرواکر حکومت کرنے آئے ہیں ؟ یا اُن پولیس والوں کے پاس جو کسی بھی مجرم سے چند ہزار روپے لے کر رہا کردیتے ہیں؟ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے آج تک ہمیں پولیس کے محکمے سے محفوظ رکھا ہوا ہے۔ ہمارے ایک رشتہ دار سے بائیک چھینی گئی۔ جب وہ اس کی ایف۔ آئی۔ آر کٹوانے گئے تو پہلے یہ فیصلہ ہی نہیں ہورہا تھا یہ علاقہ کس تھانے کے انڈر میں آتا ہے، مجبوراً 55 ہزار والی بائیک کی ایف آئی آر 10 ہزار میں کٹوائی اور 3 ماہ بعد محکمے کے بہترین سلوک کی وجہ سے 25 ہزار دے کر فائل بند کروائی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
فرض کیا لوگ اس طرح بے رحمانہ اور پرتشدد رویہ اختیار نہ کرتے، بلکہ ایک مہذب قوم کا کردار ادا کرتے ہوئے ان تین مجرموں کو پولیس کے حوالے کردیتے تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں یقین سے کہتا ہوں وہ تینوں آدھے گھنٹے بعد پولیس کی حراست سے آزاد ہوتے اور ان کا اگلا حدف اُنھیں گرفتار کروانے والے لوگ ہوتے۔ کراچی ایسے واقعات میں اپنی مثال آپ ہے پہلی تاریخ کو ایک مزدور تنخواہ لے کر گھر آرہا ہوتا ہے راستے میں اس کی جان سمیت تنخواہ چھین لی جاتی ہے۔۔۔ کسی راہ چلتے کو روک کر موبائیل لے لیتے ہیں اگر کوئی زیادہ بولے تو جان بھی جاتی ہے۔ ہر مہنے ایسے واقعات میں کئی لوگ مارے جاتے ہیں۔ حکومت کے ذمہ دار افراد ان کے اہلخانہ سے تعزیت کرکے بھول جاتے ہیں اس کے بعد کبھی کسی نے سوچا ہے اُن کے گھر والے خرچہ کیسے پورا کرتے ہیں۔کوئی نہیں سوچتا، ہمیں کیا اس سے ۔ ![]()
اگر عوام نے خود انصاف لینا کی کوشش شروع کردی ہے تو ہر طرف شور ہورہا ۔ یہ بات حقیقت ہے کہ ایسے واقعات نہیں ہونے چاہیں۔ لیکن کیا یہ اس طرح فالتو بحث کرنے سے روک جائیں گے۔ اس کے لیے عملی طور پر اقدام کرنے کی ضرورت ہے جو کوئی بھی محکمہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ پہلے واقع کے تقریباً 1500 افراد گواہ ہیں لیکن پولیس اس بات پر میسر ہے یہ پولیس مقابلہ تھا عوام نے بعد میں دخل اندازی کرکے ان لوگوں کو جلایا ہے۔
آخر میں ضروری اطلاع: ایسا ہی واقع نارتھ ناظم آباد میں دوپہر تین بجے پیش آیا ابتدائی رپورٹ کے مطابق دو ڈاکوں کو آگ لگادی جن میں سے ایک ہلاک اور دوسرا زخمی حالت میں عباسی ہسپتال منتقل۔ اب بھی ارباب اختیار نے اس طرف توجہ نہ کی تو مزید واقعات سننے کے لیے تیار رہنا چاہے۔
عام طور پر شکار کھیلنے والے کو شکاری کہا جاتا ہے۔ شکار کی کئی اقسام ہیں، ایک شکار جنگلوں میں کیا جاتا ہے اور دوسرا پانی میں ہوتا ہے۔ یہ دونوں اقسام عام اور سب کو معلوم ہیں۔ اس کے علاوہ شکار کی ایک اور قسم ہے جسے “شہری شکار“ کہا جاتا ہے۔ چونکہ ہماری نئی نسل جنگلوں میں جانے سے ڈرتی ہے اس لیے وہ شکار شہروں میں ہی کرنے لگی ہے۔ سب سے بہترین شکار کراچی میں انسانوں کا ہوتا ہے۔ یہاں ہمیشہ شکاری متحدہ ہوتی ہے۔ کچھ بھی ہوجائے لوگ بس اسی نام لیتے ہیں۔ متحدہ لاکھ چیختی رہے، شکار ہونے والے لوگوں کے اہلخانہ کو یرغمال بنا کر بیان دے: “ یہ ہمارے لوگ تھے ان کا شکار ہم نہیں کیا۔“ لیکن کوئی سنتا ہی نہیں۔ یہاں جس کی لاٹھی اسی کی بھینس والا قانون لاگو ہوتا ہے، جیسے شکاری جنگل میں شیر کا شکار کرنے کی بجائے اس سے ڈرتے اور ہرن خرگوش جیسے معصوم جانوروں کا شکار کرتے ہیں۔ اسی طرح جو شکار ہوگیا سو ہوگیا، بچ جانے والے ادھر اُدھر دبک کر بیٹھ جاتے ہیں، اگلے دن معمولاتِ زندگی اور کسی نئے شکاری کا خوف . . . . .
شہر کراچی شہری شکار کھیلنےوالوں کا پسندیدہ میدان قرار پاتا ہے، کیونکہ یہاں کبھی شکاری کو مایوسی کا سامنا نہیں ہوتی ، بلکہ زیادہ تر دورے کامیاب ترین ہوتے ہیں۔ اس کی میں 12 مئی اور 9 اپریل کے دن پیش کئے جاسکتے ہیں۔ شہری شکار کی یہ قسم ہماری اپنی نہیں ہے۔ اس کا تعلق آقا (امریکا) سے ہے۔ اگرچہ وہ ملکی شکار کرتا ہے۔ اس شکار پر وہ کبھی خود اور تنہا نہیں جاتا بلکہ اپنے مہروں یا دوسرے ملکوں کو ساتھ لے کر جاتا ہے۔ ہم اس کے شاگرد ہیں اس لیے ملکی شکار کی بجائے شہری شکار پر گزارا کرلیتے ہیں۔ امریکا کا ایک سینیئر شاگرد (اسرائیل) ریاستی شکار کھیلتا ہے۔ ہمارا ایک ہمسایہ بھی امریکا کا سینیئر شاگرد بننے کی کوشش میں اکثر ہمیں بھی ڈانٹ پلادیتا ہے۔ آج ہم بھی اس کے سینیئر شاگرد ہوتے لیکن برا ہو عوام کا جو چھوٹے چھوٹے ایشوز پر احتجاج کرنے روڈوں پر نکل آتے ہیں۔ خیر کوئی بات نہیں اب نئی حکومت نے ریکارڈ مہنگائی کرنے کا پروگرام بنالیا ہے تاکہ عوام مزدوری کرنے کے علاوہ اور کچھ نہ سوچ سکے ، اور ہماری گورنمنٹ امریکا نواز پالیسیاں اپنا کر اس کی خوشنودی حاصل کرسکے۔
سیہان انعام اللہ خان مرحوم پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں مارشل آرٹ کا بہت بڑا نام تھا۔ پاکستان میں انعام اللہ خان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔
وہ 1947ء میں صوابی کے قریب زوبی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد قاضی شفیع اللہ مرحوم تقسیم پاکستان کے بعد علاقے بنوں سے وابستہ ہوگئےتھے۔ حکومت کی طرف سے کراچی کے علاقے گزری میں سرکاری ہیڈ کواٹر ملنے کے بعد چھوٹے سے انعام اللہ خان اپنی والہ کے ساتھ کراچی آگئے۔
انھوں نے تعلیم مقامی اسکول سندھ مدرستہ الاسلام سے حاصل کی۔ انعام اللہ خان کشتی کبڈی، باکسنگ، جوڈو اور کراٹے کے بھی ماہر تھے۔ بعد میں انھوں نے صرف کراٹے کو چن لیا۔1971ء میں انھوں نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے کوالمپور میںہونے والی بین الاقوامی چمپئن شپ میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔
یہاں سے سیہان کے عروج کا دور شروع ہوا۔ 1977ء کی چمپئن شپ میں رنر اپ رہنےکے بعد وہ کراٹے کے مشہور اسٹائل کیوکشن سے وابستہ ہوگئے۔ سیہان نے جاپان میں عالمی ہیڈکواٹر میں کیوکشن اسٹائل کے بانی گرینڈ ماسڑ سوسائی ماسو اوہاما سے براہ راست تربیت حاصل کی ۔
سیہان انعام اللہ خان نے پاکستان، افغانستان، سعودی عرب، تاجکستان، ازبکستان، عمان اور یمن میں کیوکشن کراٹے کی بنیاد رکھی۔سیہان انعام اللہ خان نے اپنے آپ کو ان فن کی ترویج کے لیے وقف کردیا تھا۔
انھوں نے بریکنگ کے حوالے سے بھی پاکستان میں نئی روایات کو جنم دیا۔ انھوں نے پہلی مرتبہ ہتھیلی کی ضرب سے ناریل کو توڑنا، پہاڑی پتھر توڑنااور پیٹ پر سے جیپ گزارنا جیسے کمالات دکھائے۔ آخری بریکنگ انھوں نے 56 سال کی عمر میں پیش کی، جب انھوں نے ہتھیلی کی ضرب سے تقریباً 4 انچ موٹا لکڑی کا بلاک توڑا۔
سیہان انعام اللہ خان نے پاکستان آرمی اور پاکستان نیوی کو بھی خصوصی تربیت دی۔ سعودی عرب کے کمانڈوز کو سعودی عرب میں تربیت دیتے رہے۔
سیہان دنیا میں مارشل آرٹ کے ماہر ترین اساتذہ میں شمار کئے جاتے تھے۔ وہ سخت سے سخت لمحات میں بھی مسکراتے ہی نہیں بلکہ قہقہے لگانے کا حوصلہ رکھتے تھے۔موت سے بڑھ کر انسان کو پریشان کردینے والی شے اور کیا ہوسکتی ہے؟ مگر زندگی کے آخری دنوں تک جبکہ معالجوں نے مایوسی کا اظہار کردیا تھا، ان کی مسکراہٹ برقرار رہی۔ وہ زندگی کے آخری دنوں تک مصروف رہے، بلکہ انتقال سے ایک گھنٹہ قبل انھوں نے ایک شاگرد کو بلیک بیلٹ لکھ کر جاری کیا۔ اس کے بعد کھانا کھا کر وضو کرکے نماز کے انتظار میں بیٹھے تھے کہ دل کا چھٹا کا حملہ ہوا اور ان کا بلاوہ آگیا۔
دل کی تکلیف انھیں ایک شدید چوٹ کی بنا پر لاحق ہوئی تھی۔ یہ چوٹ تقریباً 15 برس قبل ایک مقابلے میں لگی تھی۔ اس چوٹ کی وجہ سے ان کے دل کی جھیلی پھٹ گئی اور اس کا بائی پاس کرنا پڑا۔
بالآخر پاکستان کے یہ عظیم سپوت اور محسن قوم دل کے چھٹے حملے کے باعث 15 نومبر 2007ء کو دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اللہ تعالٰی ان پر اپنی رحمت نازل کرے۔ (آمین)
اسلام علیکم،
نام عدنان زاہد
نک نیم شکاری
پیشہ کپڑے کا کام
تعلیم میڑک
یہ میرا مختصر سا تعارف ہے۔ انڑنیٹ بس شوکیا استعمال کرتا ہوں۔ اب تک میرا ایک ہی بلاگ اردو ٹیک پر چل رہا تھا۔ اب میں نے فیصلہ کیا ہے دوسری سروسز بھی استعمال کرکے دیکھوں۔ اس لیے اب جو تحریریں اُردو ٹیک پر ہوگی وہی بلاگ سپوٹ ، ورڈپریس ڈاٹ پی کے پر بھی پوسٹ کروں
14 اپریل 2008ء پوپ بینی ڈکٹ 16 ، امریکا کے دورے پر گئے۔ وہ ائر پورٹ پر اُترے تو ہزاروں لوگوں نے ان کا استقبال کیا، جبکہ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش بھی ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔پوپ طیارے سے باہر آئے تو صدر بش نے سر جھکا کر پوپ بینی ڈکٹ کو آداب کیا۔ دونوں بڑی گرمجوشی سے ملے اور وہاں موجود لوگوں نے تالیاں بجا کر پوپ کو خوش آمدید کہا۔ پچھلے آٹھ برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب جارج ڈبلیو بش کسی بھی شخصیت کا استقبال کرنے ائرپورٹ پر تشریف لائے۔ حالانکہ اس سے پہلے دنیا بھر کے حکمران صدر بش کی دعوت پر امریکا تشریف لاتے اورجاتے رہے لیکن صدر بش نے کسی کا استقبال نہیں کیا۔ صدر بش کسی صدر اور وزیراعظم کو ائرپورٹ چھوڑنے آئے اور نہ ہی انہوں نے کسی کا استقبال کیا۔ صدر بش کا پوپ بینی ڈکٹ سولہ کا استقبال صلیبی جنگوں کے اس دور میں ایک حیران کن اقدام ہے اور اسلامی دنیا میں اس اقدام کو بڑی سنجیدگی سے دیکھا جارہا ہے۔
بینی ڈکٹ نے 14 اپریل 2005ء کو پوپ کی باقاعدہ ذمہ داریاں سنبھالیں۔جس وقت اس نے ذمہ داریاں سنبھالی تھیں اس وقت پانچ لاکھ رومن کیتھولک ویٹی کن میں موجود تھےیہ عیسائی تاریخ کا ایک بڑا اجتماع تھا۔ پوپ کو ذمہ داری سونپنے کی اس تاریخ میں ایک دلچسپ پہلو بھی تھا۔ پوپ بنائے جانے کی پچھلی ایک ہزار تاریخ میں پہلی بار تیس دیگر سربراہان مملکت کسی جرمن پوپ کا استقبال کررہے تھے۔ جبکہ جرمنی کے ہزاروں باشندے اس تقریب میں شرکت کے لیے اٹلی پہنچ گئے تھے۔ جب بینی ڈکٹ نے پوپ کی ذمہ داریاں سنبھالی تو ویٹی کن میں موجود پانچ لاکھ افراد نے تالیاں بجاکر پوپ بینی کو خوش آمدید کہا۔اس موقع پر روم میںسخت حفاظتی انتظامات کئے گئےتھے۔ شہر میں طیارہ شکن توپیں نصب تھیں اور روم کی تمام فضائی حدود بند کردی گئی تھی۔ سڑکوں پر دس ہزار پولیس اہلکار گشت کررہے تھے اور اطالوی فضائیہ اور نیٹو کے طیارے اٹلی کی فضائی حدود کی نگرانی کررہے تھے۔ یہ عیسائی مذہب کے روحانی پیشوا کی تقریری کی مختصر سی ایک جھلک تھی۔
اگر ہم اس تاریخ کو سامنے رکھ کر اس کا تقابل پاکستان میں علمائے کرام سے کریں تو بڑی تشویش ناک اور افسوس ناک صورت حال سامنے آتی ہے۔ بدقسمتی سے ہماری ساٹھ سالہ تاریخ میں علمائے کرام کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا، اس کو پڑھ، سن، اور دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔ آپ غؤر کریں ایک طرف عیسائی دنیا ہے جو اپنے پوپ کا اس قدر احترام کرتی ہےکہ امریکی صدر تک وائٹ ہاؤس سے نکلتے ہیں اور پوپ کا استقبال کرنے ائر پورٹ جاتے ہیں۔ دوسری طرف ہم اور ہمارے حکمران ہیں جو علمائے کرام کو دہشت گرد، جاہل، اُجڈ، اور قدامت پرست قرار دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم عام مسلمان بھی حکمرانوںسے کم نہیں، کبھی کہا جاتا ہے علماء نے لاعلمی میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے اور کبھی ۔ ۔ ۔ ۔ جس حد تک ہوسکے اپنا حصہ ضرور ڈالتے ہیں۔
ہم اگر چند برسوں کا تجزیہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے پوری دنیا میں علمائے کرام اور مذہب پسند لوگوں کو بدنام کرکے رکھ دیا ہے اور پوری دنیا میں علمائے کرام، اسلام پسند اور باریش لوگوں کو دہشت گرد اور انتہا پسند سمجھا جانے لگا۔ ان لوگوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کاروائیاں ہوئیں اور ہزاروں لوگوںکو عالم، فاضل، حافظ اور قاری ہونے کے جرم تہ تیغ کردیا گیا۔ بہت سے ڈاکڑوں، انجینئیروں اور کمپیوٹر آپریٹروں کو اغواء کرکے منظر سے غائب کردیا، ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ یہ باریش تھے کسی حد تک اسلام پر عمل پیرا بھی تھے۔ سب سے بڑھ کر ہمارے آقا (امریکا) کو ایک آنکھ نہیں بھاتے تھے۔ اس سلسلے میں جامعہ حفصہ اور لال مسجد کی مثال لے لیجئے۔ لال مسجد اسلام آباد کی ایک تاریخی اور مرکزی مسجد تھی اور جامعہ حفصہ پاکستان کے چند بڑے مدارس میں شمار ہوتا تھا۔ یہ پاکستان کا واحد مدرسہ تھا جس میں پانچ ہزار کے لگ بھگ طالبات دینی علوم سیکھ رہی تھیں۔ ان میں اکثر ایسی طالبات تھیں جن کا کوئی والی وارث نہیں تھا۔ جو اس دنیا میں تنہا تھیں اور مدرسے کی صورت میں انھیں محفوظ چھت میسر تھی۔ اسی طرح لال میں نماز جمعہ کو ہزاروں کا اجتماع ہوتا اور یہاں سے ہر شب جمعہ کو دینی قافلے نکلتے تھے۔ یہ لوگ قرب و جوار میں برائی کے خلاف بھی برسر پیکار تھے اور معاشرے کی اصلاح میں بڑا اہم کردار ادا کرہے تھے۔ یہ لوگ یتیم بچے اور بچیوں کی شادی کراتے، انھیں نان نفقہ فراہم کرتے تھے۔ لیکن پھر کیا ہوا؟
ہمارے حکمرانوں نے ان پر فوجی طاقت ٹھونس دی اور آپ سمیت پوری دنیا جانتی ہے صرف دس دنوں میں اس مسجد اور مدرسے سمیت تین ہزار سے زائد طالبات، سینکڑوں طلبہ اور علامہ عبدالرشید غازی کو شہید کردیاگیا اور جس انداز میں مولانا عبدالعزیز کو گرفتار کیا، جس ہتک آمیز طریقے سے سے انہیں میڈیا پر پیش کیا گیا اس سے بھی پاکستان کا بچہ بچہ واقف ہے۔ قطع نظر اس بحث سے کہ کون غلط تھا مولانا عبدالعزیز یا حکمران، مولانا اس وقت اسلام کے نمائندے تھے کیا اس طرح اُنھیں میڈیا پر پیش کرنا اسلام کی توہین نہیں؟ کیا اسلامی افکار کا مذاق نہیں اُڑیا گیا؟
آپ مولانا عبداللہ شہید، مولانا یوسف لدھیانوی، مفتی نظام الدین شامزئی، مولانا اعظم طارق، مفتی حبیب اللہ مختار، مفتی عبدالسمیع، مفتی جمیل، مفتی عتیق الرحمٰن اور دیگر شخصیات کو ہی لیجئے۔ ان لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا گیا اور انھیں کس طرح دیدہ دلیری سے شہید کیا گیا؟ آپ علاقہ جات میں جاری آپریشن کو دیکھ لیجئے۔ یہ آپریشن بھی بنیادی طور پر مذہبی لوگوںکے خلاف ہے۔ یہ لوگ مذہب پسندہیں ان کی روایات اور کلچر میں مذہب کا رنگ غالب نظر آتا ہے چنانچہ ہمارے امریکا نواز حکمرانوں نے ان لوگوں کے خلاف آپریشنز شروع کیے اور ہزاروں لوگوں کو بغیر کسی وجہ سے شہید کردیا۔ آپ باجوڑ مدرسے پر بمباری کو ہی لے لیجئے۔ اس مدرسے پر گن شپ ہیلی کاپڑوں سے بمباری کی گئی اور کہا یہ گیا کہ ان لوگوں کو دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے۔ آج دنیا کے کسی بھی ملک میں کہیں بھی بم حملہ ہوتا ہے، دھماکہ ہوتا ہے، ایکسیڈینٹ ہوتا ہے، طیارہ گرتا ہے یا ہائی جیک ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ کوئی آدمی اغوا کیا جاتا ہے یا کہیں زلزلہ ہی آجاتا ہے تو اس کا ذمہ دار بھی مسلمانوں کو ٹھرایا جاتا ہے۔ بے گناہ مسلمانوں کو القاعدہ اور اُسامہ بن لادن کا ساتھی قرار دے کر گوانتا ناموبے جیسی جیلوں میں بند کردیا جاتا ہے۔ باریش طلبہ کو دہشت گرد اور انتہاپسند قرار دیتے ہیں اور باپردہ اور مذہب پسند خواتین کو قدامت پرست کہا جاتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے عیسائی دنیا اپنے رہنماؤں کو وی وی آئی پی پروٹوکول دے، ان کا استقبال کے لیے سپر پاور امریکا کا صدر تک ائرپورٹ پہنچ جائے۔ لاکھوں ہزاروں لوگ اپنے پوپ کا پرجوش استقبال کریں اور ہم اپنے علمائے کرام کو دہشت گرد اور انتہا پسند قرار دے دیں . . . .
یہ انتہائی قابل افسوس اور باعث شرم بات ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ علمائے کرام انبیاء کرام کے کے وارث ہیں۔“ اور ہم ان وارثوں کے ساتھ کیا سلوک کررہے ہیں؟ کبھی ہم نے اور ہمارے حکمرانوں نے اس بارے میں سوچا۔ یقین کیجئے اگر ہمارا اور ہمارے حکمرانوں کا علمائے کرام کے خلاف ایسا ہی ناروا رویہ برقرار رہا تو وقت دور نہیں جب ہمیں نماز جنازہ پڑھانے کے لیے بھی کوئی عالمِ دین نہیں ملے گا۔
(نوٹ: یہ تحریر ہفت روزہ ضرب مومن میں فرق کے عنوان سے یاسر محمد خان نے لکھی تھی جو کافی طویل ہے میں نے اس میں کچھ کاٹ اور کچھ اپنی طرف سے بڑھا کر یہاں پیش کی ہے۔ اصل اور مکمل تحریر پڑھنے کے لیے ضرب مومن 25 اپریل تا یکم مئی 2008ء دیکھئے۔)
ہر طالب علم کی خواہش ہوتی ہے وہ پیپروں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے اور بہترین نمبروں سے پاس ہو۔فائنل پیپر سارے سال کی محنت کی عکاسی کرتے ہیں۔ خصوصاً نویں دسویں کے بورڈ کے پیپر خاص اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ انھی کی بنیاد پر طالب علم اپنے آنئدہ تعلیمی مستقبل کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔جیسا کہ کراچی والوں کو معلوم ہے نویں دسویں کے بورڈ کے پیپر ہورہے ہیں۔میرا چھوٹا بھائی بھی میڑک کے پیپردے رہا ہے۔ آج اس کا پہلا پیپر تھا۔ پیپر کے دوران جو صوتحال تھی، اسے سن کر بہت افسوس ہوا۔جن طالب علموں نے ایم کیو ایم کے کارکنوں کو پیسے دئیے ان کی فل مدد کی گئی اس کے علاوہ کوئی اور نقل کرنے کی کوشش کرتا تو اس سے نقل کا سامان چھین لیتے، نگران ٹیچر نہیں بلکہ بھائی لوگ۔
ایک نگران ٹیچر شاید نئی بھرتی ہوئی تھی اس نے وہاں کے ایک ٹیچر سے دریافت کیا یہ کون ہیں؟ ٹیچر نے بتایا یہ اس علاقے کا بڑا کارکن ہے اسے ڈون کہتے ہیں۔ ڈون کا نام سن کر وہ بیچاری بھی خاموش ہوگئی، ورنہ اگلے دن بوری میں ملتی۔ ویسے جب بڑے اور پرانے ٹیچر انھیں روک نہیں رہے تھے تو وہ کیوں روکتی۔نقل ایسے ہورہی تھی جیسے پانچویں کے پیپر ہورہے ہوں۔ میں نے پنجاب میں میڑک کیا، وہاں آٹھویں تک چیٹنگ ہوتی ہے اس کے بعد بہت سختی کے ساتھ نمٹا جاتا ہے۔بھائی بتا رہا تھا کہ ایک بچے کے ساتھ اس کے والد آئے ہوئے تھے وہ اس کے پاس بیٹھے پرچہ حل کروا رہے تھے۔ افسوس ہے ایسے والدین پر جو اپنے ہاتھوں اپنے بچے کا مستقبل خراب کرتے ہیں۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں پڑھنے کا مقصد سرٹیفکیٹ کا ایک بنڈل جمع کرنا ہوتا ہے، بجائے اس کے اعلٰی تعلیم حاصل کرکے ملک وقوم کی خدمت کرے۔پڑھائی ایک رسم اختیار کرچکی ہے۔ بچہ بڑا ہوا اس کو پڑھنے ڈال دیا، جب پڑھائی سے دل بھر جائے تو کسی کام پہ لگادیا جاتا ہے۔یہ ساری بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ تیار ہونے والی نئی نسل جب ملک کو سنبھالے گی تو ملک کا کیا بنے گا؟
فیس نہ ملنے پر علاج کرنے سے انکار، 4 سالہ بچہ دم توڑ گیا
ڈاکڑوں نے بچے کو تڑپتا چھوڑ دیا والدین، پولیس کی متاثرین سے بدسلوکی، اہلخانہ کا لاش کے ساتھ دھرنا(ایکسپریس 11/04/08 )
جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے مجھے نہیں یاد میں نے کبھی کسی ڈاکڑ کی کی اچھی خصوصیت سنی ہو۔ یہ واقع ایسا ہے کہ اس پر زیادہ لکھنے کو دل نہیں چاہتا۔ بس چند سوالات چھوڑتا ہوں۔
1۔ کیا کسی ایسی قوم نے کبھی ترقی کی ہے؟
2۔ کیا ایک بچے کی قیمت چند سو یا چند ہزار روپے ہے؟
3۔ کیا ہم انسان ہیں؟
توہین رسالت اور ہم
ہفت روزہ ضرب مومن میرے سامنے ہے۔ اس کے خبروں والے پہلے صفحے کی خبروں کا خلاصہ ایک ہی ہے کہ فلاح ملک کے شہریوں نے توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت پر احتجاج کیا، فلاں ملک کی اعلٰی سیاسی شخصیات نے احتجاج کیا، فلاں ملک میں ڈنمارک کے سفیرکی طلبی ۔ ۔ ۔ ۔
کیا ہے یہ سب؟ کیا اس طریقے سے اُن کو آئندہ ان غلط اقدام سے روکا جاسکتا ہے؟ نہیں کبھی نہیں ۔ جب تک ہم عملی طور پر کوئی قدم نہیں اُٹھائیں گے وہ لوگ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئیں گے ۔ پہلے گوانٹا نامو بے میں کی جیل میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے قصے سامنے آئے، احتجاج ہوا لیکن نتیجہ ۔ ۔ ۔ ۔ 2005ء میں توہین آمیز کارٹون شائع ہوئے، احتجاج ہوا نتیجہ ۔ ۔ ۔ ۔ 2008ء میں دوبارہ اشاعت، احتجاج ہوا نتیجہ ۔ ۔ ۔ ۔ توہین آمیز فلم کی ریلیز ہوئی۔ مسلسل احتجاج ہورہا ہے۔ پُتلے ، جھنڈے، ٹائر جلاتے ہیں اور اپنا ہی منہ کالا کرکے گھر چلے جاتے ہیں۔ اگلے دن کے اخبارات کا ایک ہی خلاصہ ہوتا ہے کہ توہین رسالت کے لیے نکالی گئی ریلی/ ہڑتال میں اتنے لوگوں نے شرکت کی، اتنے بینک جلائے اتنی بسیں جلائی اور اتنا نقصان ہوا۔ کیا یہی عشق رسول کے تقاضے ہیں ؟ اپنے گھر کو جلایا اور اپنا ہی نقصان کرکے کہا جاتا ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب افراد نے معافی نہ مانگی تو پھر ایسا ہی احتجاج کریں گے ۔ ۔ ۔ ۔
ایسی حالت میں ہمارے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے، عملی طور پر کچھ کرنا نہیں صرف احتجاج کرکے اپنا منہ کالا کرلیتے ہیں۔ میں احتجاج کو برا نہیں کہتا لیکن پرتشدد نہیں ہونا چاہے اور ساتھ ساتھ کوئی عملی اقدام بھی اُٹھانا چاہیے۔ ہم میں بہت سے لوگ کہتے ہیں ہم کیا کریں ۔ اس کا ایک ہی جواب ہے بائیکاٹ، بائیکاٹ اور بائیکاٹ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں ہر سطح پر توہین رسالت کے مرتکب لوگوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔ بائیکاٹ میں کتنی طاقت ہے اس کا اندازہ آپ کو مفتی ابو لبابہ شاہ منصور کی جانب سے پیش کیا گیا “ ایک ہی علاج “ پڑھ کر اندازہ ہوگا۔
“ایک ہی علاج“
“ایک خبر کے مطابق شیل اور یونی لیور نے کہا ہے کہ اگر ہماری کمپنی کو نقصان ہوا تو ہم فتنہ نامی فلم ساز گریٹ ورلڈ پر مقدمہ کریں گے۔ بچپن میں دادی اماں بچوں کو جو کہانیاں سنایاں کرتی تھیں ان میں ایک ایسے جن کا تذکرہ ہوتا تھا جس کی جان ایک طوطے میں بند تھی۔ طوطے کے کان مڑوڑے جائیں تو جن کے کانوں میں اینٹھنی ہوتی تھی۔ سر پر چپت لگائی جائے جن کو اپنی چندیا میں چانٹا لگتا محسوس ہوتا تھا۔ آج کے مادہ پرست یورپ کی جان پیسے کے طوطے میں بند ہے۔ یہ طوطا ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پنجرے میں مقید ہے۔ ان کے نزدیک اخلاق، روایات، تہذیب، مقدس شخصیات کا احترام کوئی چیز نہیں۔ کسی کی دل آزاری ان کے نزدیک کوئی معنی نہیں رکھتی۔ یہ پیسوں کے ایک ایسے بھوت ہیں جو باتوں کو نہیں مانتے۔ ان کادماغ کو بائیکاٹ کا کوڑا ہی درست کرسکتا ہے۔
1۔ اگر مسلمان اپنی گاڑیاں شیل پیڑول پمپ کے قریب بھی نہ لے جائیں۔
2۔ اگر فلپس کے تیار کردہ آلات کو اپنے حرام کرلیا جائے۔
3۔ اگر یونی لیور سے ایسے نفرت کی جائے جیسے پلید چیزوں سے ہوتی ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو چند دن میں اس جن کی گنجی چندیا میں بھینچا دماغ ٹھکانے آسکتا ہے۔
کاش! ایسا چند دنوں کے لیے ہی سہی ، مسلمان ایسا کر گزریں۔“ (ضرب مومن)
شیل کمپنی نے بائیکاٹ کو غیر موثر کرنے کے لیے انعامی اسکیم شروع کردی ہے۔ اس کی وجہ سے بہت سے لوگ انعام کی لالچ میں وہاں سے پیڑول بھروائیں گے ۔ ۔ ۔ اس کے مقابلے کے لیے .P.S.O بھی انعامی اسکیم کا اجراء کرے۔ ویسے اس کی ضروت نہیں ہے لیکن ہمارا ایمان کمزور ہے جس کے لیے یہ ضروری ہے۔
غیر حاضری کی وجہ
یہ ہفتہ ایسی مصروفیت میں گزرا کہ انڑ نیٹ چلا نہیں سکا۔ آج بہت کوشش کے بعدایک تحریر پوسٹ کر سکا ہوں۔ مصروفیت بھی ایسی کہ کوئی خاص نہیں۔ مطلب یہ کہ جب میں فارغ تو بجی نہیں، بجلی موجود تومیں فارغ نہیں، اگر بجلی بھی موجود اور میں بھی فارغ تو کمپیوٹر نہیں فارغ، چھوٹا بھائی نیٹ چلا رہا ہوتھا ۔
ارے ۔ ۔ ۔ یہاں تو فارغ کی گردان شروع ہوگئی۔ اللہ خیر کرے۔ اب آئندہ بھی لگتا ہے بلاگ پر نہیں آسکاوں گا۔ کیونکہ میرے پسندیدہ میگزین کمپیوٹنگ کا سالنامہ آرہا ہے۔اگرچہ اس کو فروری میں آنا تھا، لیکن منتظمین کی دیگر مصروفیت کی وجہ سے دو مہنے لیٹ ہوگیا۔ منتظمین کے علان کے مطابق اس میں خصوصی قسم کی تحریریں ہوں گی، لہذا ان کو پڑھنا اور ان پر عمل کرنے کی وجہ سے مزید کچھ دن کے لیے مصروف ہوجاؤں گا۔ پتا نہیں بلاگر حضرات اب تک اپنے بلاگ پر کیا کیا لکھ چکے ہیں اور آئندہ بلاگ پر میری آمد تک کیا کچھ تحریر ہوچکا ہوگا؟ اس حساب سے میں بلاگنگ میں بہت پیچھے رہ جاؤں گا۔اپنے بلاگ پر پوسٹ لکھنا، دوسروں کی تمام تحریریں پڑھنا اور ان پر اپنی رائے دینی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ![]()
کراچی کی بگڑتی صورت حال
چند دنوں سے کراچی میں مختلف جماعتوں کے کارکنوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔ پہلے میں نے کوئی خاص توجہ نہیں دی، لیکن اب اس میں تسلسل آگیا۔ جس کی وجہ سے کچھ گڑ بڑ محسوس ہورہی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کوئی طاقت سیاسی جماعتوں کو آپس میں لڑا کر مخصوص نتائج حاصل کرنا چاہ رہی ہے۔ اللہ خیر کرے۔ اس سلسلے میں سنی تحریک کے 2 کارکنوں کو اغوا کے بعدقتل کردیا۔ جن کا جنازہ جلوس کی شکل میں M. A. Jinaha Road میمن مسجد لایا گیا۔اس جلوس کے اکثر شرکاء اسلحے سے لیس تھے،مجھے اسلحے کی پہچان نہیں کس چیز کا کیا نام ہے، ایک جاننے والے نے بتایا اسلحے میں کلاشنکوف اور T.T. شامل ہیں۔ جلوس سے آگے آگے چند موٹر سائیکل سوار اسلحے کی نمائش اور فائرنگ کے ذریعے خوف وہراس پھیلا کر دکانیں بند کروارہے تھے۔
بینظیر کے قتل سے اب تک کپڑے کا کاروبار شدید بحران کا شکار ہے۔ اگر کام اٹھنے لگتا ہے تو ایسے واقعات تیزی کو برقرار نہیں رہنے دیتے۔ سنی تحریک کے جلوس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ ایسے لوگ بھی ان میں شامل ہوگئے جوگڑبڑ پھیلانے کی کوشش کررہے تھے۔ پتا نہیں وہ کون لوگ تھے؟ ان کا تعلق کس گروپ سے تھا؟ انھوں نے دوکانوں پر پتھراؤ کیا اور کلاشنکوف سے ہوائی فائرنگ نھی کی۔ بھلا ہو پولیس والوں کا جو بروقت پہنچ گئے۔ پولیس کو آتا دیکھ کر وہ لوگ بھاگ کھڑے ہوئے، ورنہ شدید گڑبڑ ہوتی ہو اور سارا “ ایصالِ ثواب “ سنی تحریک کو ملتا ۔ اس کارنامے کی وجہ سے مجھے زندگی میں پہلی مرتبہ پاکستانی پولیس کے فائدے کا اندازہ ہوا، حالانکہ انھوں نے کچھ نہیں کیا، بس دور سے گاڑی کا الارم چلا دیا۔ پہلے میں سمجھتا تھا کہ پولیس کا ایک ہی کام ہے عام شہریوں کو تنگ کرنا۔ لیکن اس واقع کے بعد پولیس کے بارے میں کچھ کچھ خوش فہمی ہوگئی ہے۔
Recent Comments