بہتر مستقبل کی تلاش

تحرير کردہ: شکاری بتاريخ: Wednesday، 16 April 2008

ہر طالب علم کی خواہش ہوتی ہے وہ پیپروں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے اور بہترین نمبروں سے پاس ہو۔فائنل پیپر سارے سال کی محنت کی عکاسی کرتے ہیں‌۔ خصوصاً نویں دسویں کے بورڈ کے پیپر خاص اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ انھی کی بنیاد پر طالب علم اپنے آنئدہ تعلیمی مستقبل کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔جیسا کہ کراچی والوں کو معلوم ہے نویں دسویں کے بورڈ کے پیپر ہورہے ہیں۔میرا چھوٹا بھائی بھی میڑک کے پیپردے رہا ہے۔ آج اس کا پہلا پیپر تھا۔ پیپر کے دوران جو صوتحال تھی، اسے سن کر بہت افسوس ہوا۔جن طالب علموں نے ایم کیو ایم کے کارکنوں کو پیسے دئیے ان کی فل مدد کی گئی اس کے علاوہ کوئی اور نقل کرنے کی کوشش کرتا تو اس سے نقل کا سامان چھین لیتے، نگران ٹیچر نہیں بلکہ بھائی لوگ۔
ایک نگران ٹیچر شاید نئی بھرتی ہوئی تھی اس نے وہاں کے ایک ٹیچر سے دریافت کیا یہ کون ہیں؟ ٹیچر نے بتایا یہ اس علاقے کا بڑا کارکن ہے اسے ڈون کہتے ہیں‌۔ ڈون کا نام سن کر وہ بیچاری بھی خاموش ہوگئی، ورنہ اگلے دن بوری میں ملتی۔ ویسے جب بڑے اور پرانے ٹیچر انھیں روک نہیں‌ رہے تھے تو وہ کیوں روکتی۔نقل ایسے ہورہی تھی جیسے پانچویں کے پیپر ہورہے ہوں۔ میں نے پنجاب میں میڑک کیا، وہاں آٹھویں تک چیٹنگ ہوتی ہے اس کے بعد بہت سختی کے ساتھ نمٹا جاتا ہے۔بھائی بتا رہا تھا کہ ایک بچے کے ساتھ اس کے والد آئے ہوئے تھے وہ اس کے پاس بیٹھے پرچہ حل کروا رہے تھے۔ افسوس ہے ایسے والدین پر جو اپنے ہاتھوں اپنے بچے کا مستقبل خراب کرتے ہیں۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں پڑھنے کا مقصد سرٹیفکیٹ کا ایک بنڈل جمع کرنا ہوتا ہے، بجائے اس کے اعلٰی تعلیم حاصل کرکے ملک وقوم کی خدمت کرے۔پڑھائی ایک رسم اختیار کرچکی ہے۔ بچہ بڑا ہوا اس کو پڑھنے ڈال دیا، جب پڑھائی سے دل بھر جائے تو کسی کام پہ لگادیا جاتا ہے۔یہ ساری بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ تیار ہونے والی نئی نسل جب ملک کو سنبھالے گی تو ملک کا کیا بنے گا؟

دولت کے کرشمے

تحرير کردہ: شکاری بتاريخ: Friday، 11 April 2008

فیس نہ ملنے پر علاج کرنے سے انکار، 4 سالہ بچہ دم توڑ گیا
ڈاکڑوں نے بچے کو تڑپتا چھوڑ دیا والدین، پولیس کی متاثرین سے بدسلوکی، اہلخانہ کا لاش کے ساتھ دھرنا(ایکسپریس 11/04/08 )
جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے مجھے نہیں یاد میں نے کبھی کسی ڈاکڑ کی کی اچھی خصوصیت سنی ہو۔ یہ واقع ایسا ہے کہ اس پر زیادہ لکھنے کو دل نہیں چاہتا۔ بس چند سوالات چھوڑتا ہوں۔
1۔ کیا کسی ایسی قوم نے کبھی ترقی کی ہے؟
2۔ کیا ایک بچے کی قیمت چند سو یا چند ہزار روپے ہے؟
3۔ کیا ہم انسان ہیں؟

توہین رسالت اور ہم

تحرير کردہ: شکاری بتاريخ: Wednesday، 9 April 2008

توہین رسالت اور ہم

ہفت روزہ ضرب مومن میرے سامنے ہے۔ اس کے خبروں والے پہلے صفحے کی خبروں کا خلاصہ ایک ہی ہے کہ فلاح ملک کے شہریوں نے توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت پر احتجاج کیا، فلاں ملک کی اعلٰی سیاسی شخصیات نے احتجاج کیا، فلاں ملک میں ڈنمارک کے سفیرکی طلبی ۔ ۔ ۔ ۔
کیا ہے یہ سب؟ کیا اس طریقے سے اُن کو آئندہ ان غلط اقدام سے روکا جاسکتا ہے؟ نہیں کبھی نہیں ۔ جب تک ہم عملی طور پر کوئی قدم نہیں اُٹھائیں گے وہ لوگ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئیں گے ۔ پہلے گوانٹا نامو بے میں کی جیل میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے قصے سامنے آئے، احتجاج ہوا لیکن نتیجہ ۔ ۔ ۔ ۔ 2005ء میں توہین آمیز کارٹون شائع ہوئے، احتجاج ہوا نتیجہ ۔ ۔ ۔ ۔ 2008ء میں دوبارہ اشاعت، احتجاج ہوا نتیجہ ۔ ۔ ۔ ۔ توہین آمیز فلم کی ریلیز ہوئی۔ مسلسل احتجاج ہورہا ہے۔ پُتلے ، جھنڈے، ٹائر جلاتے ہیں‌ اور اپنا ہی منہ کالا کرکے گھر چلے جاتے ہیں۔ اگلے دن کے اخبارات کا ایک ہی خلاصہ ہوتا ہے کہ توہین رسالت کے لیے نکالی گئی ریلی/ ہڑتال میں اتنے لوگوں نے شرکت کی، اتنے بینک جلائے اتنی بسیں جلائی اور اتنا نقصان ہوا۔ کیا یہی عشق رسول کے تقاضے ہیں ؟ اپنے گھر کو جلایا اور اپنا ہی نقصان کرکے کہا جاتا ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب افراد نے معافی نہ مانگی تو پھر ایسا ہی احتجاج کریں گے ۔ ۔ ۔ ۔
ایسی حالت میں ہمارے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے، عملی طور پر کچھ کرنا نہیں صرف احتجاج کرکے اپنا منہ کالا کرلیتے ہیں۔ میں احتجاج کو برا نہیں کہتا لیکن پرتشدد نہیں ہونا چاہے اور ساتھ ساتھ کوئی عملی اقدام بھی اُٹھانا چاہیے۔ ہم میں بہت سے لوگ کہتے ہیں ہم کیا کریں ۔ اس کا ایک ہی جواب ہے بائیکاٹ، بائیکاٹ اور بائیکاٹ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں ہر سطح پر توہین رسالت کے مرتکب لوگوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔ بائیکاٹ میں کتنی طاقت ہے اس کا اندازہ آپ کو مفتی ابو لبابہ شاہ منصور کی جانب سے پیش کیا گیا “ ایک ہی علاج “ پڑھ کر اندازہ ہوگا۔

“ایک ہی علاج“

“ایک خبر کے مطابق شیل اور یونی لیور نے کہا ہے کہ اگر ہماری کمپنی کو نقصان ہوا تو ہم فتنہ نامی فلم ساز گریٹ ورلڈ پر مقدمہ کریں گے۔ بچپن میں دادی اماں بچوں کو جو کہانیاں سنایاں کرتی تھیں ان میں ایک ایسے جن کا تذکرہ ہوتا تھا جس کی جان ایک طوطے میں بند تھی۔ طوطے کے کان مڑوڑے جائیں تو جن کے کانوں میں اینٹھنی ہوتی تھی۔ سر پر چپت لگائی جائے جن کو اپنی چندیا میں چانٹا لگتا محسوس ہوتا تھا۔ آج کے مادہ پرست یورپ کی جان پیسے کے طوطے میں بند ہے۔ یہ طوطا ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پنجرے میں مقید ہے۔ ان کے نزدیک اخلاق، روایات، تہذیب، مقدس شخصیات کا احترام کوئی چیز نہیں۔ کسی کی دل آزاری ان کے نزدیک کوئی معنی نہیں رکھتی۔ یہ پیسوں کے ایک ایسے بھوت ہیں جو باتوں کو نہیں مانتے۔ ان کادماغ کو بائیکاٹ کا کوڑا ہی درست کرسکتا ہے۔
1۔ اگر مسلمان اپنی گاڑیاں شیل پیڑول پمپ کے قریب بھی نہ لے جائیں۔
2۔ اگر فلپس کے تیار کردہ آلات کو اپنے حرام کرلیا جائے۔
3۔ اگر یونی لیور سے ایسے نفرت کی جائے جیسے پلید چیزوں سے ہوتی ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو چند دن میں اس جن کی گنجی چندیا میں بھینچا دماغ ٹھکانے آسکتا ہے۔
کاش! ایسا چند دنوں کے لیے ہی سہی ، مسلمان ایسا کر گزریں۔“ (ضرب مومن)

شیل کمپنی نے بائیکاٹ کو غیر موثر کرنے کے لیے انعامی اسکیم شروع کردی ہے۔ اس کی وجہ سے بہت سے لوگ انعام کی لالچ میں وہاں سے پیڑول بھروائیں گے ۔ ۔ ۔ اس کے مقابلے کے لیے .P.S.O بھی انعامی اسکیم کا اجراء کرے۔ ویسے اس کی ضروت نہیں ہے لیکن ہمارا ایمان کمزور ہے جس کے لیے یہ ضروری ہے۔

غیر حاضری کی وجہ

تحرير کردہ: شکاری بتاريخ: Friday، 4 April 2008

غیر حاضری کی وجہ

یہ ہفتہ ایسی مصروفیت میں گزرا کہ انڑ نیٹ چلا نہیں سکا۔ آج بہت کوشش کے بعدایک تحریر پوسٹ کر سکا ہوں۔ مصروفیت بھی ایسی کہ کوئی خاص نہیں۔ مطلب یہ کہ جب میں‌ فارغ تو بجی نہیں، بجلی موجود تومیں‌ فارغ نہیں، اگر بجلی بھی موجود اور میں‌ بھی فارغ تو کمپیوٹر نہیں فارغ، چھوٹا بھائی نیٹ چلا رہا ہوتھا ۔
ارے ۔ ۔ ۔ یہاں‌ تو فارغ کی گردان شروع ہوگئی۔ اللہ خیر کرے۔ اب آئندہ بھی لگتا ہے بلاگ پر نہیں آسکاوں گا۔ کیونکہ میرے پسندیدہ میگزین کمپیوٹنگ کا سالنامہ آرہا ہے۔اگرچہ اس کو فروری میں آنا تھا، لیکن منتظمین کی دیگر مصروفیت کی وجہ سے دو مہنے لیٹ ہوگیا۔ منتظمین کے علان کے مطابق اس میں خصوصی قسم کی تحریریں ہوں گی، لہذا ان کو پڑھنا اور ان پر عمل کرنے کی وجہ سے مزید کچھ دن کے لیے مصروف ہوجاؤں گا۔ پتا نہیں بلاگر حضرات اب تک اپنے بلاگ پر کیا کیا لکھ چکے ہیں اور آئندہ بلاگ پر میری آمد تک کیا کچھ تحریر ہوچکا ہوگا؟ اس حساب سے میں‌ بلاگنگ میں بہت پیچھے رہ جاؤں گا۔اپنے بلاگ پر پوسٹ لکھنا، دوسروں کی تمام تحریریں پڑھنا اور ان پر اپنی رائے دینی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ :shock:

کراچی کی بگڑتی صورت حال

تحرير کردہ: شکاری بتاريخ: Thursday، 3 April 2008

کراچی کی بگڑتی صورت حال
چند دنوں سے کراچی میں مختلف جماعتوں کے کارکنوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔ پہلے میں نے کوئی خاص توجہ نہیں دی، لیکن اب اس میں تسلسل آگیا۔ جس کی وجہ سے کچھ گڑ بڑ محسوس ہورہی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کوئی طاقت سیاسی جماعتوں کو آپس میں‌ لڑا کر مخصوص نتائج حاصل کرنا چاہ رہی ہے۔ اللہ خیر کرے۔ اس سلسلے میں سنی تحریک کے 2 کارکنوں کو اغوا کے بعدقتل کردیا۔ جن کا جنازہ جلوس کی شکل میں M. A. Jinaha Road میمن مسجد لایا گیا۔اس جلوس کے اکثر شرکاء اسلحے سے لیس تھے،مجھے اسلحے کی پہچان نہیں کس چیز کا کیا نام ہے، ایک جاننے والے نے بتایا اسلحے میں کلاشنکوف اور T.T. شامل ہیں۔ جلوس سے آگے آگے چند موٹر سائیکل سوار اسلحے کی نمائش اور فائرنگ کے ذریعے خوف وہراس پھیلا کر دکانیں بند کروارہے تھے۔
بینظیر کے قتل سے اب تک کپڑے کا کاروبار شدید بحران کا شکار ہے۔ اگر کام اٹھنے لگتا ہے تو ایسے واقعات تیزی کو برقرار نہیں رہنے دیتے۔ سنی تحریک کے جلوس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ ایسے لوگ بھی ان میں شامل ہوگئے جوگڑبڑ پھیلانے کی کوشش کررہے تھے۔ پتا نہیں وہ کون لوگ تھے؟ ان کا تعلق کس گروپ سے تھا؟ انھوں نے دوکانوں پر پتھراؤ کیا اور کلاشنکوف سے ہوائی فائرنگ نھی کی۔ بھلا ہو پولیس والوں کا جو بروقت پہنچ گئے۔ پولیس کو آتا دیکھ کر وہ لوگ بھاگ کھڑے ہوئے، ورنہ شدید گڑبڑ ہوتی ہو اور سارا “ ایصالِ ثواب “ سنی تحریک کو ملتا ۔ اس کارنامے کی وجہ سے مجھے زندگی میں پہلی مرتبہ پاکستانی پولیس کے فائدے کا اندازہ ہوا، حالانکہ انھوں نے کچھ نہیں‌ کیا، بس دور سے گاڑی کا الارم چلا دیا۔ پہلے میں سمجھتا تھا کہ پولیس کا ایک ہی کام ہے عام شہریوں کو تنگ کرنا۔ لیکن اس واقع کے بعد پولیس کے بارے میں‌ کچھ کچھ خوش فہمی ہوگئی ہے۔

پاکیزہ سیرت لوگ

تحرير کردہ: شکاری بتاريخ: Sunday، 30 March 2008

پاکیزہ سیرت لوگ

قدرت اللہ شہاب بیان کرتے ہیں کہ جس مقام پر اب منگلا ڈیم واقع ہے۔ وہاں پر پہلے میر پور کا پرانا شہرآباد تھا۔ جنگ کے دوران اس شہر کا بیشتر حصہ مبلے کا ڈھیر بنا ہوا تھا۔ ایک روز میں ایک مقامی افسر کو اپنی جیپ میں بٹھائے اس کے گردونواح میں‌ گھوم رہا تھا۔ راستے میں ایک خستہ حال بوڑھا اور اس کی بیوی ایک گدھے کو ہانکتے ہوئے سڑک پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ دونوں کے کپڑے میلے کچیلے اور پھٹے پرانے تھے۔ دونوں کے جوتے ٹوٹے پھوٹے تھے۔ انھوں نے اشارے سے ہماری جیپ کو روک کر دریافت کیا: “ بیت المال کس طرف ہے؟ “ آزاد کشمیر میں درکاری خزانے کو بیت المال ہی کہا جاتا تھا۔ میں نے پوچھا۔ “ بیت المال میں تمہارا کیا کام؟ “ بوڑھے نے سادگی سے جواب دیا: “میں نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر میر پور شہر کے ملبے کو کرید کرید کر سونے اور چاندی کے زیورات کی دو بوریاں جمع کی ہیں۔ اب انھیں اس گدھے پر لاد کر ہم بیت المال میں جمع کروانے جارہے ہیں۔ “ ہم نے ان کا گدھا ایک پولیس کانسٹیبل کی حفاظت میں چھوڑا اور بوریوں کو جیپ میں‌ رکھ کر دونوں کو اپنے ساتھ بٹھا لیا، تاکہ انھیں‌ بیت المال لے جائیں۔ آج بھی جب وہ نحیف ونزار اور مفلوک الحال جوڑا مجھے یاد آتا ہے تو میرا سر شرمیندگی اور ندامت سے جھک جاتا ہے کہ جیپ کے اندر میں ان دونوں کے برابر کیوں بیھٹا رہا۔ مجھے تو چاہیے تھا کہ میں ان کے گرد آلود پاؤں اپنی آنکھوں اور سر پر رکھ کر بیٹھوں۔ ایسے پاکیزہ سیرت لوگ پھر کہاں ملتے ہیں؟
اب انھیں ڈھونڈ چراغ رخِ زیبا لے کر
(شہاب نامہ صفحہ 426 )
آپ لوگوں کا کیا خیال ہے کہ آج کے زمانے میں ایسے لوگ مل سکتے ہیں ؟

آبرو کی آبرو

تحرير کردہ: شکاری بتاريخ: Tuesday، 25 March 2008

آبرو کی آبرو
آج اردو کے لفظ ” آبرو ” کی آبرو سے کھیلیں گے۔ اس کے آباؤاجداد کا تعلق فارسی سے ہے۔ یہ بس یونہی ٹہلتا ہوا اردو ادب کی حدود میں آگیا۔ اردو دانوں‌کو یہ لفظ اتنا پسند ایا کے انھوں نے اسے تاحیات اردو ادب کی رکنیت دے دی۔ ہوسکتا ہے میری معلومات کم ہوں‌، ابرو نے خود ہی اردو ادب کی رکنیت حاصل کی ہو۔اس کے لیے پاکستان کی خفیہ ایجنسی سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ تحقیقات کرکے اصل ذمہ داران کا تعین کرے۔
مزید آگے بڑھنے سے پہلےہم آبرو کے معنی پر نظر ڈال لیں۔فیروزاللغات اردو جدید کے نئے ایڈیشن کے مطابق یہ 1۔ عصمت 2۔قدرومزلت۔شرف۔ناموری 3۔امارت۔وجاہت 4۔ساکھ۔اعتبار۔بات 5۔شرم۔لاج 6۔حیثیت 7۔ناموس اور عزت کے معنٰی میں استعمال ہوتا ہے۔آبرو کا استعمال شہروں میں‌اکثر اور دیہاتوں میں کبھی کبھی ایک لاحقے “ ریزی “ کے ساتھ سننے میں آتا رہتا ہے۔حتٰی کے حال ہی میں‌ کراچی کے کچھ شہریوں نے اس کے معنی پر مزار قائد پر عمل بھی کیا۔اس سے بڑھ کر دیہاتوں‌ میں “ مرد “ اپنی آبرو بچانے کےلیے اپنی ہی عورتوں کو قتل کردیتے ہیں‌۔ وہ اپنی نظر میں ایسا کرکے ابرو مند ہوجاتے ہیں۔ایسا کرنا بہت بڑے دل گردے کا کام ہے، میرے خیال میں ضرب المثل “ آبرو کا صدقہ جان “ ایسے ہی کسی موقع کے لیے بنی ہوگی۔ ایک غرب ادمی کے پاس سب سے بڑی دولت آبرو ہوتی ہے “ آبرو موتی کی آب ہے “(مثل)۔ اگر اس کی آبرو دو کوڑی ہوجائے تو اس کے پاس کیا بچا؟ اس معاملے میں دولت مند فائدے میں ہیں، اگر ان کی آبرو ڈوب جائے تو وہ کسی اور علاقے میں نام بدل کر رہنے لگتے ہیں ۔ لیکن حیرت ہے سیاست دانوں پر کہ جس وجہ سے ان کی آبرو دوکوڑی ہوتی ہے، وہ پھر اس کے پیچھے لگے رہتے ہیں۔ اس کی بڑی مثال چودھری پرویز الٰہی ہیں، جن کی جماعت کی آبرو ریزی 18 فروری کو عوام نے کی۔ اب دوبارہ وہ 24 مارچ کو پالیمینٹ سے آبرو گنوا بیٹھے۔ شاید انھوں نے یہ مثل نہیں پڑی “ ابرو جگ میں رہے بادشاہی جانیے “ (عزت بڑی چیز ہے۔ عزت بادشاہت کے برابر ہے)۔ ان کی حرکتوں‌ سے لگتا ہے وہ خود ہی اپنی آبرو کے درپے ہوگئے ہیں۔ میرے خیال میں اب تک آبرو کی کافی آبرو یا آبرو ریزی ہوچکی، کہیں میرے بلاگ کی آبرو لٹ نہ جائے میں اپنا قلم یہیں پر روکتا ہوں۔ ورنہ میرے سامنے آبرو پر بہت سی ضرب المثل پڑی ہیں جن پر تبصرہ کرنا باقی ہے۔

پاکستان سے محبت

تحرير کردہ: شکاری بتاريخ: Sunday، 23 March 2008

پاکستان سے محبت
23 مارچ کا پورا دن گزر گیا لیکن کہیں سے بھی اس دن کو وش کرنے کا میسج نہیں آیا، اگر اس کی جگہ ویلنٹائن ڈے یا نیو ائیر نائٹ ہوتا تو inbox آج انھی ایس ایم ایس سے بھرا ہوتا۔ یہ ہے ہماری پاکستان سے محبت۔

خبریں

تحرير کردہ: شکاری بتاريخ: Sunday، 23 March 2008

ایس۔ایم۔ایس کے ذریعہ بھیک مانگنے کا نیا طریقہ، زیر علاج ظاہر کرکےبیلنس مانگا جاتا ہے۔(قومی اخبار2008۔03۔22 )
فراڈ کا یہ ذریعہ واقعی بہت موثر ہے۔پرسوں میرے دوست کے پاس بھی ایسا ہی میسج آیا میں نے بھی دیکھا، میسج کچھ اسطرح تھا: ” آپ جو کوئی بھی ہو برائے مہربانی 20 روپے کا بیلنس بیھج دو میں ہسپتال میں ہوں۔” میرا دوست بیلنس بیھجنے کے لیے تیار تھا کہ معلوم نہیں کس مجبوری میں‌وہ بیلنس مانگ رہا ہے میں نے کہا اسے 20 روپے کے بیلنس کا کیا فائدہ ؟ اگر واقعی اس کو 20۔10 روپے کی ضرورت ہے تو اتنے پیسے ہسپتال میں کسی سے بھی لے سکتا ہے۔ آج کی اس خبر نے حقیقت بھی واضح کر دی۔

قرضے کے بدلے بیٹی یا گردے دینے کا مطالبہ، اسرار نے امان نامی شخص سے ساڑھے پانچ لاکھ کا قرض لیا تھا جو غربت کی وجہ سے ادا نہ کرسکا، بدلے میں 19 سالہ جوان لڑکی کا رشتہ یا تینوں بیٹو‌ں کا ایک ایک گردہ مانگ لیا۔ (قومی اخبار2008۔03۔22 )
ارے پکڑو پاکستان اور پاکستانی عوام کو ان کے قدم کس منزل کی طرف گامزن ہیں ؟
آخر میں ایک نعرہ
پاکستانی عوام زندہ باد

نیا قومی ترانہ

تحرير کردہ: شکاری بتاريخ: Saturday، 22 March 2008

دو تین سال پہلے میں نے ایک میگزین میں یہ ترانہ پڑھا تھا جو مجھے اچھا لگا، تو اپنے پاس نوٹ کر لیا۔ آج اس کو یہاں پیش کررہا ہوں ۔ اُمید ہے کہ بہت سے دوستوں کا اسے پڑھ کر دل بھی دکھے گا لیکن جو حقیقت ہے وہ تو ہے۔

نیا قومی ترانہ

کھیت گھر زمین شاد باد
کار بہترین شاد باد

پگڑیاں، وزارتیں ،دوکان
کوٹھیاں، عمارتیں، مکان

لوٹ مار دھاڑ شاد باد
بیوقوف لوگ ہیں عوام

رہ گئے غلام کے غلام
کرسی، عہدہ، سلطنت

پائندہ تابندہ باد
لیڈروں کی منزل مراد

ہر طرف سازشوں کے جال
سرنگوں ترقی وکمال

پاک سرزمین میں حلال
رشوتوں وزارتوں کا مال

سایہء امریکہ باکمال


جملہ حقوق بحق شکاری کا بلاگ محفوظ ہيں.